وَ اِنَّہٗ لَہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۷۷﴾
اور بے شک وہ یقینا ایمان والوں کے لیے سراسر ہدایت اور رحمت ہے۔
En
اور بےشک یہ مومنوں کے لئے ہدایات اور رحمت ہے
En
اور یہ قرآن ایمان والوں کے لیے یقیناً ہدایت اور رحمت ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 77){ وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ:} اگرچہ یہ قرآن تمام جہانوں کو خبردار کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ (دیکھیے فرقان: ۱) مگر اس سے ہدایت اور رحمت انھی کو حاصل ہوتی ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۲تا۵) اور ایمان والے لوگ ہی ان گمراہیوں سے بچتے ہیں جن میں بنی اسرائیل اور مشرکین عرب مبتلا ہوئے۔ اس قرآن کی بدولت انھیں زندگی کا سیدھا راستہ ملے گا اور اس کی بدولت ان پر اللہ کی وہ رحمتیں ہوں گی جن کا تصور بھی بنی اسرائیل یا کفارِ قریش نہیں کر سکتے، چنانچہ چند ہی سالوں میں وہ لوگ جو سراسر گمراہی میں مبتلا تھے، ہدایت میں دنیا کے امام بن گئے اور ان پر اللہ کی اتنی رحمتیں ہوئیں کہ وہ روئے زمین کے بہت بڑے حصے کے فرماں روا بن گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
77-1مومنوں کا اختصاص اس لئے کہ وہی قرآن سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ انھیں میں وہ بنی اسرائیل بھی ہیں جو ایمان لے آئے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
77۔ اور یہ مومنوں کے لئے ہدایت [81] اور رحمت ہے۔
[81] یعنی یہ قرآن بنی اسرائیل کے اختلافات میں سیدھے راستہ کی نشاندہی کرتا ہے اور جو اس پر ایمان لے آئیں تو ان کو ان گمراہیوں سے بچا لیتا ہے۔ جن میں یہ لوگ اس وقت مبتلا ہیں۔ نیز جب انھیں قرآن کی بدولت زندگی کا سیدھا راستہ مل جائے گا اور وہ اس پر عمل پیرا ہوں گے تو اللہ کی ان پر اس قدر رحمتیں نازل ہوں گی جن کا یہ قریش آج تصور بھی نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اسی قرآن کی بدولت چند ہی سالوں میں ان ایمانداروں کی ایسی کایا پلٹی کہ وہی بدو جو لوٹ مار اور قتل و غارت میں مشہور تھے۔ وہ دنیا کے پیشوا، تہذیب انسانی کے استاد اور زمین کے ایک بڑے حصے کے فرمانروا بن گئے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا ٭٭
قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل یعنی حاملان تورات وانجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔
اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن اللہ ان کے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیئے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آ چکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔
اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن اللہ ان کے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیئے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آ چکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔
اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو ان کی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کر سکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور جب اس میں جلالت و وضاحت، ہر اختلاف کا ازالہ اور ہر اشکال کی تفصیل جمع ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے مگر سب بندے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے، اس لیے واضح فرما دیا کہ قرآن کا فائدہ، اس کی روشنی اور راہنمائی صرف اہل ایمان کے لیے مختص ہے۔ پس فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗ لَهُدًى ﴾ ”اور بے شک یہ ہدایت ہے۔“ یعنی ضلالت، شبہات اور گمراہی کے جھاڑ جھنکار کے درمیان راہ ہدایت ہے ﴿وَّرَحْمَةٌ﴾ ”اور رحمت ہے۔“ اس سے ان کے سینے ٹھنڈے اور ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ﴿ لِّلْ٘مُؤْمِنِیْنَ ﴾ یہ ان لوگوں کے لیے رحمت ہے جو اس پر ایمان رکھتے ہیں، اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس کو قبول کرتے ہیں، اس میں تدبر اور اس کے معانی میں غور وفکر کرتے ہیں۔ پس انھی لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی اور رحمت سے سرفراز کیا جائے گا جو سعادت اور فوز وفلاح کو متضمن ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإذا كان بهذه المثابة من الجلالة والوضوح وإزالةِ كلِّ خلافٍ وفَصْل كلِّ مشكل؛ كان أعظم نعم الله على العباد، ولكن ما كل أحدٍ يقابِلُ النعمةَ بالشُّكر، ولهذا بيَّن أن نفعه ونورَه وهُداه مختصٌ بالمؤمنين، فقال: {وإنَّه لهدى}: من الضلالة والغيِّ والشبه، {ورحمةٌ}: تنثلج له صدورُهم وتستقيمُ به أمورهم الدينيَّة والدنيويَّة، {للمؤمنين}: به المصدِّقين له المتلقِّين له بالقبول المقبِلين على تدبُّره المتفكِّرين في معانيه؛ فهؤلاء تحصُلُ لهم به الهدايةُ إلى الصراط المستقيم والرحمة المتضمِّنة للسعادةِ والفوزِ والفلاح.