ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 76

اِنَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَکۡثَرَ الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۷۶﴾
بے شک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ En
بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، بیان کر دیتا ہے
En
یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76) ➊ { اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ …:} مفسر رازی نے پچھلی آیات کے ساتھ اس آیت کی مناسبت یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ابتدا اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کے اثبات پر گفتگو کرنے کے بعد اب نبوت پر بحث شروع فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اثبات میں چونکہ قرآن ہی سب سے بڑی دلیل ہے، اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر فرمایا، یعنی یہ قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہیں۔ بنی اسرائیل کے لیے جو تورات و انجیل کے عالم ہیں، اس کی یہ بات دلیل ہے کہ یہ ان کی اکثر وہ اشیاء بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے تھے اور یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ان میں حق اور درست بات کیا ہے۔
➋ { اَكْثَرَ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ:} یہود و نصاریٰ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے، اس بنا پر ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے، مثلاً عیسیٰ علیہ السلام کو یہودی جھوٹا اور ولد الزنا کہتے تھے۔ نصاریٰ نے یہاں تک غلو کیا کہ انھیں عین ذاتِ الٰہی یا اس کا بیٹا بنا بیٹھے۔ (نعوذ باللہ) اسی طرح اور بھی بہت سے امور تھے جن میں ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے۔ ان میں حق اور اعتدال کی راہ قرآن نے واضح کی جو قرآن کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ (دیکھیے مائدہ: ۴۸) اگر وہ اس راہ کو اختیار کرتے تو ان میں ہرگز کوئی اختلاف نہ رہتا اور ان سب کی فرقہ بندی ختم ہو جاتی۔
➌ یہ جو فرمایا کہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ چیزیں بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، تو اس میں اشارہ ہے کہ اس نے بہت سی باتیں جن میں ان کا اختلاف ہے، بیان نہیں کیں، کیونکہ ان کے ذکر کرنے سے کوئی اہم مقصد حاصل نہیں ہوتا تھا اور اس لیے کہ اس میں ان کی بعض خطاؤں اور لغزشوں کی پردہ پوشی ہے جو ان سے سرزد ہوئیں۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کے ذکر نہ کرنے کو اپنی طرف سے عفو قرار دیا ہے، چنانچہ فرمایا: «{ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ [المائدۃ: ۱۵] اے اہل کتاب! بے شک تمھارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمھارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے، جو تم کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے در گزر کرتا ہے۔ بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

76-1اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ ان کے عقائد بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ یہود حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کرتے تھے اور عیسائی ان کی شان میں غلو۔ حتٰی کہ انہیں، اللہ یا اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔ قرآن کریم نے ان کے حوالے سے ایسی باتیں بیان فرمائیں، جن سے حق واضح ہوجاتا ہے اور اگر وہ قرآن کے بیان کردہ حقائق کو مان لیں تو ان کے عقائدی اختلاف اور تفریق و انتشار کم ہوسکتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ بلا شبہ یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ [80] اختلاف رکھتے ہیں
[80] بنی اسرائیل کے باہمی اختلافات کے متعلق قرآن کی نشاندہی :۔
یہ اختلاف صرف عقائد میں ہی نہیں تھے بلکہ احکام اور قصص میں بھی تھے۔ عقائد کے اختلاف یہ تھے کہ مثلاً یہود ہی کا ایک فرقہ آخرت کا منکر بن گیا تھا۔ پھر ان میں کچھ فرقوں کا آخرت کے متعلق تصور ہی غلط تھا جس کا قرآن نے کئی مواقع پر ذکر فرمایا ہے۔ عیسائیوں میں عیسیٰؑ کے بارے میں اختلاف تھے کچھ انھیں اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے کچھ انھیں اللہ ہی سمجھتے تھے۔ کچھ بیٹے کو باپ کی طرح قدیم سمجھتے تھے اور کچھ اسے مخلوق اور حادث قرار دیتے تھے۔ کچھ یہ کہتے تھے کہ اللہ نے اپنے سارے اختیارات اپنے بیٹے کو سونپ دیئے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ تین کا تیسرا ہیں۔ اور احکام میں اختلاف ان کی تحریفات لفظی اور معنی کی بنا پر تھا۔ بہت سی آیتوں کو وہ چھپا جاتے تھے اور بہت سی آیات کی تحریف کر لیتے تھے اور ان کی ایسی حرکات بھی قرآن میں متعدد مقامات پر بالوضاحت مذکور ہیں۔ ان سب اختلافات کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ قرآن نے آکر ان اختلافات کو بیان بھی کیا اور ان میں صحیح راہ بھی متعین فرما دی کہ فلاں مسئلہ میں اصل حقیقت یہ ہے اور فلاں میں حقیقت اتنی ہے۔ یہاں اس آیت کے ذکر کرنے سے مطلب یہ ہے کہ اس وقت جو اختلافات کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان ہیں ان میں بھی قرآن صحیح راستے کی نشان دہی کر رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا ٭٭
قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل یعنی حاملان تورات وانجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے۔
اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ قیامت کے دن اللہ ان کے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیئے۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آ چکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا۔
اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں۔ اور تو اندھوں کو ان کی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کر سکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں۔