(آیت 6) ➊ {وَاِنَّكَلَتُلَقَّىالْقُرْاٰنَ …: ”مِنْلَّدُنْ“} (کے پاس سے) کے لفظ سے قرآن مجید کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شدّتِ اتصال بیان کرنا مقصود ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ تجھے اپنے پاس سے عطا کر رہا ہے۔ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں کہ جس کا علم ناقص ہو، یا جو معاملات کی حکمت سے نا آشنا ہو، بلکہ یہ ایک کمال حکمت والے ہر چیز کا علم رکھنے والے نے اپنے پاس سے تجھے عطا کیا ہے، جس کا ہر کام اور ہر حکم حکمت سے بھرا ہوا ہے اور جسے ماضی، حال اور مستقبل کا پورا علم ہے، اس لیے نہ اس کی کوئی خبر غلط ہوتی ہے اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی غلطی ہوتی ہے۔ ➋ { حَكِيْمٍعَلِيْمٍ:} دونوں صفات کا گزشتہ آیات سے بھی تعلق ہے اور آئندہ انبیاء کے قصوں کے ساتھ بھی کہ ان انبیاء کی بعثت، ان پر گزرنے والے واقعات اور آپ کی طرف ان کی صحیح ترین صورت میں وحی اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کا اظہار ہے۔ یہ دونوں الفاظ مبالغہ کے لیے آتے ہیں۔ ان کو نکرہ لانے سے مزید مبالغہ پیدا ہو گیا ہے، یعنی ایک انوکھے کمال حکمت و علم رکھنے والے کے پاس سے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اور (اے نبی) آپ یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا [6] رہے ہیں۔
[6] یعنی یہ قرآن ایسی ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو تمام لوگوں کے احوال سے پوری طرح با خبر ہے۔ اس کی نظروں میں سب انسان بحیثیت انسان ایک جیسے ہیں۔ جو ہر ایک کے حقوق و فرائض اپنے اسی وسیع علم کی بنا پر مقرر کرتی ہے۔ پھر وہ حکیم بھی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہر حکم میں کچھ نہ کچھ حکمتیں مضمر ہوتی ہیں اور اس کے احکام بندوں ہی کی مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔