ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 58

وَ اَمۡطَرۡنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿٪۵۸﴾
اور ہم نے ان پر بارش برسائی، زبردست بارش، سو بری بارش تھی ان لوگوں کی جو ڈرائے گئے تھے۔ En
اور ہم نے ان پر مینھہ برسایا سو (جو) مینھہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا، برا تھا
En
اور ان پر ایک (خاص قسم) کی بارش برسادی، پس ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر بری بارش ہوئی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 57 میں تا آیت 59 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

58-1ان پر عذاب آیا، اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے کہ ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور کھنگرو کی بارش ہوئی۔ 58-2یعنی جنہیں پیغمبروں کے ذریعے سے ڈرایا گیا اور ان پر حجت قائم کردی گئی لیکن وہ تکذیب وانکار سے باز نہیں آئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ پھر ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی۔ کیسی بری تھی یہ بارش [56] جو ان لوگوں پر ہوئی جنہیں (عذاب الٰہی سے) ڈرایا گیا تھا۔
[56] لوطؑ کا قصہ اور اس قوم پر عذاب کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے مثلاً سورۃ اعراف کی آیت نمبر 83، 84، سورۃ توبہ کی آیت نمبر 70، سورۃ ہود کی آیت نمبر 83، سورۃ حجر کی آیت نمبر 73۔ وہاں سے حواشی ملاحظہ کر لئے جائیں۔ اس سورۃ میں تین انبیاء حضرت سلیمان، حضرت صالح اور حضرت لوط علیہم السلام کے حالات کا ذکر ہوا ہے۔ اور ان کے حالات میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں کوئی نہ کوئی مشابہت کا پہلو ضرور پایا جاتا ہے۔ مثلاً حضرت سلیمانؑ نے ملکہ سبا کو یہ چیلنج کیا تھا کہ اگر تم مطیع فرمان بن کر حاضر ہو جاؤ تو بہتر ورنہ ہم ایسے لشکر سے تم پر حملہ کریں گے جس کے مقابلہ کی تم تاب نہ لا سکو گے۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین مکہ پر ایسا ہی لشکر لائے تھے۔ جس کے مقابلہ کی ان میں تاب نہ تھی۔ حضرت صالح کو ان کی قوم نے بلوا کی صورت میں شبخون مار کر قتل کرنا چاہا تھا۔ لیکن اللہ نے انھیں نجات دی۔ قریش مکہ نے بھی آپ سے یہی سلوک کرنا چاہا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اس سازش سے بال بال بچا لیا۔ حضرت لوطؑ کو ان کی قوم نے شہر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں۔ جبکہ قریش مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عملاً شہر مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔