(آیت 56) {فَمَاكَانَجَوَابَقَوْمِهٖۤ …:} لوط علیہ السلام کی بہترین نصیحت کا جواب ان کے پاس جہالت کے سوا کچھ نہ تھا اور انھوں نے ثابت کر دیا کہ لوط علیہ السلام جو انھیں {”قَوْمٌتَجْهَلُوْنَ“} کہہ رہے تھے، درست ہی کہہ رہے تھے۔ چنانچہ انھوں نے اتنی سنجیدہ بات کا جواب استہزا اور تمسخر کے ساتھ دیا، جو جاہلوں کا کام ہے، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا: «{ اَعُوْذُبِاللّٰهِاَنْاَكُوْنَمِنَالْجٰهِلِيْنَ }»[البقرۃ: ۶۷]”میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں کہ میں جاہلوں سے ہو جاؤں۔“ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۸۲)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
56-1بطور طنز اور استہزاء کے کہا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
56۔ چنانچہ اس کی قوم کو کوئی جواب بن نہ آیا بجز اس کے کہ انہوں نے یہ کہہ دیا: لوط اور اس کے ساتھیوں کو اپنے شہر سے نکال دو یہ بڑے پاکباز [55] بنتے ہیں۔
[55] بستی سے نکالنے کی دھمکی:بجائے اس کے کہ وہ حضرت لوطؑ کی نصیحت پر کچھ اپنی اصلاح کرتے وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔ لوطؑ اور ان کے متبعین کو از راہ تمسخر پاکبازی کا طعنہ دیں۔ پھر انھیں اپنے شہر سے نکال دینے کی دھمکی بھی دینے لگے کہ تم جیسے پاکباز ہم گندے لوگوں میں کیونکر رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔