(آیت 51،50) {وَمَكَرُوْامَكْرًاوَّمَكَرْنَامَكْرًا …:} ان کی چال تو وہ منصوبہ تھا جس پر انھوں نے آپس میں قسمیں کھائیں اور اللہ تعالیٰ کی چال یہ تھی کہ اس نے دوسرے انبیاء کی طرح صالح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا۔ ان کے نکلنے کی دیر تھی کہ اس شہر بلکہ قومِ ثمود کے پورے علاقے میں شدید زلزلے کا عذاب آیا، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاَخَذَتْهُمُالرَّجْفَةُ }»[الأعراف: ۷۸]”تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا۔“ جس کے ساتھ خوف ناک چیخ کی آواز بھی تھی، فرمایا: «{ وَاَخَذَالَّذِيْنَظَلَمُواالصَّيْحَةُ }» [ھود: ۶۷۔ القمر: ۳۱]”اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں چیخ نے پکڑ لیا۔“ جس سے ان کی بستیاں برباد ہو گئیں اور وہ نو (۹) بدمعاش اور ان کی قوم کے لوگ سب ہلاک ہو گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
50-1ان کا مکر یہی تھا کہ انہوں نے باہم حلف اٹھایا کہ رات کی تاریکی میں اس منصوبہ قتل کو بروئے کار لائیں اور تین دن پورے ہونے سے پہلے ہی ہم صالح ؑ اور ان کے گھر والوں کو ٹھکانے لگا دیں۔ 50-2یعنی ہم نے ان کی اس سازش کا بدلہ دیا اور انھیں ہلاک کردیا۔ اسے بھی مَکَرْنَامَکْرًا کے طور پر تعبیر کیا گیا۔ 50-3اللہ کی اس تدبیر (مکر) کو سمجھتے ہی نہ تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ چنانچہ انہوں نے ایک چال چلی اور ہم نے ان کی چال انھیں پر لوٹا دی جس کی انھیں خبر تک [51] نہ ہوئی۔
[51] جب یہ لوگ اس منصوبہ پر قسمیں کھا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحؑ کو وحی کر دی کہ وہ اپنے خاندان اور ایمان والوں کو لے کر فوراً اس بستی سے ہجرت کر جائیں۔ چنانچہ آپ 120 افراد کو اپنے ہمراہ لے کر فلسطین کی طرف چلے گئے اور رملہ کے قریب آگئے۔ آپ کے اس بستی سے نکلنے کی دیر تھی کہ اس شہر بلکہ قوم ثمود کے پورے علاقہ میں شدید زلزلہ کا عذاب آیا اور اس سے دل دہلانے والی آوازیں اور چیخیں بھی پیدا ہوتی تھیں۔ زلزلہ اتنا شدید تھا جس نے ان کے پہاڑوں میں بنے ہوئے مکانوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا اور خود بھی یہ قوم اسی عذاب سے ہلاک ہو گئی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔