ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 46

قَالَ یٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِالسَّیِّئَۃِ قَبۡلَ الۡحَسَنَۃِ ۚ لَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۴۶﴾
کہا اے میری قوم! تم بھلائی سے پہلے برائی کیوں جلدی مانگتے ہو، تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ En
صالح نے کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے
En
آپ نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں مچا رہے ہو؟ تم اللہ تعالیٰ سےاستغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46) ➊ {قَالَ يٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ…: اَلسَّيِّئَةُ } سے مراد عذاب ہے اور { الْحَسَنَةِ } سے مراد رحمت ہے۔ صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو ڈرنے کے بجائے انھوں نے اسے مذاق بنا لیا اور اسے جلد از جلد لانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ صالح علیہ السلام نے نہایت نرمی اور محبت سے اے میری قوم! کہہ کر انھیں نصیحت کی کہ بجائے اس کے کہ تم اللہ سے خیر و رحمت کے طلب گار بنو، الٹا اس سے عذاب مانگنے میں کیوں جلدی مچاتے ہو؟ اہل مکہ کے لیے اس واقعہ میں سبق تھا، کیونکہ وہ بھی اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ وَ لَيَاْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ [العنکبوت: ۵۳] اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب ضرور آ جاتا اور یقینا وہ ان پر ضرور اچانک آئے گا اوروہ شعور نہ رکھتے ہوں گے۔ حتیٰ کہ وہ یہاں تک کہہ گزرے: «{ اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ [الأنفال: ۳۲] اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا۔
➋ { لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ۠ اللّٰهَ …:} یعنی عذاب میں تاخیر سے حاصل ہونے والی مہلت سے فائدہ اٹھا کر تم اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے، تاکہ تم پر رحم کیا جائے، کیونکہ عذاب آ جانے پر توبہ و استغفار کا کوئی فائدہ نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46-1یعنی ایمان قبول کرنے کی بجائے، تم کفر ہی پر کیوں اصرار کر رہے ہو، جو عذاب کا باعث ہے۔ علاوہ ازیں اپنے عناد و سرکشی کی وجہ سے کہتے بھی تھے کہ ہم پر عذاب لے آ۔ جس کے جواب میں حضرت صالح ؑ نے یہ کہا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ (صالح نے) کہا: ”میری قوم کے لوگو! تم بھلائی سے پیشتر برائی کو کیوں جلدی طلب کرتے ہو؟ تم اللہ سے بخشش کیوں [46] نہیں طلب کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“
[46] مخالفین یا چودھری حضرات چونکہ نبی کی نبوت کے ہی منکر ہوتے ہیں لہٰذا وہ اس کی ہر بات کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ نبی انھیں بھلے کاموں کی دعوت دیتا ہے اور پہلے سے کئے ہوئے برے کاموں سے توبہ و استغفار کی تلقین کرتا ہے۔ نیز برے کاموں کے انجام بد اور عذاب الٰہی سے ڈراتا ہے۔ تو متکبر لوگ نبی سے یوں کہنے لگتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو اب تک ہم پر وہ عذاب آیا کیوں نہیں۔ جس کی تم رٹ لگا رہے ہو۔ اور جو کرنے کے کام ہوتے ہیں یعنی اللہ سے مغفرت اور رحمت طلبی، ان باتوں کی طرف وہ توجہ ہی نہیں کرتے۔ صالحؑ نے ان کے اسی طرز عمل پر تنقید فرمائی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صالح علیہ السلام کی ضدی قوم ٭٭
صالح علیہ السلام جب اپنی قوم ثمود کے پاس آئے اور اللہ کی رسالت ادا کرتے ہوئے انہیں دعوت توحید دی تو ان میں دو فریق بن گئے ایک جماعت مومنوں کی دوسرا گروہ کافروں کا۔ یہ آپس میں گتھ گئے جیسے اور جگہ ہے کہ متکبروں نے عاجزوں سے کہا کہ کیا تم صالح علیہ السلام کو رسول اللہ مانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا ایمان لا چکے ہیں انہوں نے کہا بس تو ہم ایسے ہی کھلم کھلا کافر ہیں۔
آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا بجائے رحمت کے عذاب مانگ رہے ہو؟ تم استغفار کرو تاکہ نزول رحمت ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا تو یقین ہے کہ ہماری تمام مصیبتوں کا باعث تو ہے اور تیرے ماننے والے۔ یہی فرعونیوں نے کلیم اللہ سے کہا تھا کہ جو بھلائیاں ہمیں ملتی ہیں ان کے لائق تو ہم ہیں لیکن جو برائیاں پہنچتی ہیں وہ سب تیری اور تیرے ساتھیوں کی وجہ سے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَاِنْ تُصِبْھُمْ حَسَـنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۚ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ ۭقُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭ فَمَالِ هٰٓؤُلَاۗءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا» [4-النساء:78]‏‏‏‏ ’ یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی مل جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچ جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیری جانب سے ہے ‘ تو کہہ دے کہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے یعنی اللہ کی قضاء و قدر سے ہے۔
سورۃ یسین میں بھی کفار کا اپنے نبیوں کو یہی کہنا موجود ہے آیت «‏‏‏‏قَالُوْٓا اِنَّا تَــطَيَّرْنَا بِكُمْ ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّـنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» [36-يس:18]‏‏‏‏ ’ ہم تو آپ سے بدشگونی لیتے ہیں اگر تم لوگ باز نہ رہے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور سخت سزا دیں گے۔ ‘
نبیوں نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو ہر وقت تمہارے وجود میں موجود ہے۔ یہاں ہے کہ علیہ السلام صالح نے جواب دیا کہ تمہاری بدشگونی تو اللہ کے پاس ہے یعنی وہی تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ بلکہ تم تو فتنے میں ڈالے ہوئے لوگ ہو تمہیں آزمایا جا رہا ہے اطاعت سے بھی اور معصیت سے بھی اور باوجود تمہاری معصیت کے تمہیں ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اللہ کی طرف سے مہلت ہے اس کے بعد پکڑے جاؤ گے۔