ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 44

قِیۡلَ لَہَا ادۡخُلِی الصَّرۡحَ ۚ فَلَمَّا رَاَتۡہُ حَسِبَتۡہُ لُجَّۃً وَّ کَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَیۡہَا ؕ قَالَ اِنَّہٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنۡ قَوَارِیۡرَ ۬ؕ قَالَتۡ رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ وَ اَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۴۴﴾
اس سے کہا گیا اس محل میں داخل ہو جا۔ تو جب اس نے اسے دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا۔ اس نے کہا یہ توشیشوں کا ملائم بنایا ہوا فرش ہے۔ اس (ملکہ) نے کہا اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے فرماں بردار ہو گئی۔ En
(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلیے، جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں
En
اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو، جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں، فرمایا یہ توشیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے، کہنے لگی میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ﻇلم کیا۔ اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرمانبردار بنتی ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) ➊ {قِيْلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ …: قَوَارِيْرَ قَارُوْرَةٌ} کی جمع ہے، شیشے۔ { لُجَّةً } بہت زیادہ اور گہرا پانی۔ { مُمَرَّدٌ } ملائم، چکنا بنایا ہوا۔ { الصَّرْحَ } کا معنی محل بھی ہے اور صحن بھی۔ یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں۔ پہلی چیز سلیمان علیہ السلام کا خط اور اس کا عجیب و غریب طریقے سے پہنچنا تھا، جس میں اسے تابع فرمان ہو کر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری چیز سلیمان علیہ السلام کا اس کے بیش قیمت ہدیوں کو واپس کر دینا اور لشکر کشی کی دھمکی تھی۔ تیسری چیز تقریباً ڈیڑھ ہزار میل کے فاصلے سے اس کے تخت کا اس کے آنے سے پہلے پہنچ جانا تھا۔ ابتدائی ملاقات اور گفتگو کے بعد اسے سلیمان علیہ السلام کے محل میں چلنے کے لیے کہا گیا، جب اس نے صحن کو دیکھا تو سمجھی کہ یہ گہرا پانی ہے اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا، جیسے گہرے پانی سے گزرنے والا اپنے پائینچے چڑھا لیتا ہے۔ کیونکہ وہ بلور کا فرش تھا جس کی بناوٹ ایسی تھی کہ شیشے کے بجائے گہر ا پانی دکھائی دیتا تھا۔ سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ پانی نہیں بلکہ نہایت صفائی کے ساتھ شیشوں کو جوڑ کر بنایا ہوا چکنا ملائم فرش ہے۔
➋ محل میں داخلے کے اس واقعہ سے سلیمان علیہ السلام کی کمال حکمت معلوم ہوتی ہے جو انھوں نے ملکہ سبا کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اختیار فرمائی۔ شیشے کے اس محل اور صحن کا اہتمام سلیمان علیہ السلام نے اس لیے فرمایا کہ ملکہ کو پتا چلے کہ جس ساز و سامان پر اسے اور اس کی قوم کو ناز تھا، یہاں اس سے بہت بڑھ کر سامان موجود ہے اور ساتھ ہی یہ معلوم ہو جائے کہ سورج اور ستاروں کی چمک سے مرعوب ہو کر انھیں رب سمجھ لینا ایسا ہی دھوکا ہے جیسے آدمی چمکتے شیشے کو پانی سمجھ بیٹھے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ـ اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان (یعنی سلیمان علیہ السلام) کی عقل کا کمال معلوم ہوا، سمجھی کہ دین میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں وہی صحیح ہے۔ (موضح) اس چیز نے اسے اس اعتراف پر مجبور کیا جو آگے آ رہا ہے۔ اس میں سلیمان علیہ السلام کی کمال حکمت کے ساتھ ملکہ کی کمال دانائی اور ذہانت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ سلیمان علیہ السلام جو بات اسے اس طریقے سے سمجھانا چاہتے تھے، وہ سمجھ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو ہی اس پر صحیح اثر انداز ہوتی ہے۔
➌ { قَالَتْ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ …:} فرش کی حقیقت سے آگاہی ملکہ کے لیے توحید سے آگاہی کا ذریعہ بن گئی۔ چنانچہ اس نے کہا، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا کہ اب تک شرک میں مبتلا رہی اور تجھے بھلائے رکھا اور اب میں سلیمان علیہ السلام کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے اسلام لے آئی اور اس کی مکمل فرماں بردار بن گئی۔
تنبیہ: سلیمان علیہ السلام کے اس قصے میں بہت سی باتیں اسرائیلیات سے داخل کر دی گئی ہیں، مثلاً یہ کہ ملکہ سبا کی ماں جنات سے تھی اور یہ کہ سلیمان علیہ السلام نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ اس کے پاؤں تو گدھے کے جسم جیسے ہیں اور اس کی پنڈلیوں پر بہت سے بال ہیں۔ اس پر انھوں نے بلور کا یہ محل بنوایا، تاکہ اس کے کپڑا اٹھانے سے اس کے پاؤں اور پنڈلیوں کو دیکھ سکیں۔ جب اس نے کپڑا اٹھایا اور سلیمان علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ تو نہایت خوب صورت تھی، ہاں! اس کی پنڈلیوں پر بال تھے، انھوں نے جنوں سے پوچھا کہ ان بالوں کا کیا کریں تو انھوں نے بال صفا پاؤڈر ایجاد کیا، چنانچہ سلیمان علیہ السلام نے اس سے نکاح کر لیا وغیرہ۔ یہ تمام باتیں بالکل بے اصل ہیں، بلکہ سلیمان علیہ السلام جیسے شخص کی ذات پر لگائی گئی کمینی تہمتیں ہیں، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے: «{ نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ [صٓ: ۴۴] (سلیمان) اچھا بندہ تھا، یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ اصل حقیقت یہی ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے جو کچھ بھی کیا اسلام کی دعوت پھیلانے اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کیا اور ان کے یہ تمام واقعات ہمارے لیے سبق ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44-1یہ محل شیشے کا بنا ہوا تھا، جس کا صحن اور فرش بھی شیشے کا تھا۔ حضرت سلیمان ؑ نے اپنی نبوت کے اعجازی مظاہرے دکھانے کے بعد مناسب سمجھا کہ اسے اپنی دنیاوی شان و شوکت کی بھی ایک جھلک دکھلا دی جائے جس میں اللہ نے انھیں تاریخ انسانیت میں ممتاز کیا تھا۔ چناچہ اس محل میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا، جب وہ داخل ہونے لگی تو اس نے اپنے پانچے چڑھا لئے۔ شیشے کا فرش اسے پانی معلوم ہوا جس سے اپنے کپڑوں کو بچانے کے لئے اس نے کپڑے سمیٹ لئے۔ 44-2یعنی جب اس پر فرش کی حقیقت واضح ہوئی تو اپنی کوتاہی اور غلطی کا بھی احساس ہوگیا اور اعتراف قصور کرتے ہوئے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا صاف چکنے گھڑے ہوئے پتھروں کو ممرد کہا جاتا ہے اسی سے مراد ہے جو اس خوش شکل بچے کو کہا جاتا ہے جس کے چہرے پر ابھی ڈاڑھی مونچھ نہ ہو جس درخت پر پتے نہ ہوں اسے شجرۃ مرداء کہا جاتا ہے۔ فتح القدیر۔ لیکن یہاں یہ تعبیر یا جڑاؤ کے معنی میں ہے یعنی شیشوں کا بنا ہوا یا جڑا ہوا محل۔ ملحوظہ: ملکہ سبا بلقیس کے مسلمان ہونے کے بعد کیا ہوا؟ قرآن میں یا کسی صحیح حدیث میں اس کی تفصیل نہیں ملتی تفسیری روایات میں یہ ضرور ملتا ہے کہ ان کا باہم نکاح ہوگیا تھا لیکن جب قرآن و حدیث اس صراحت سے خاموش ہیں تو اس کی بابت خاموشی ہی بہتر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ اس ملکہ سے کہا گیا کہ ”محل میں چلو“ جب اس نے دیکھا تو سمجھی یہ پانی کا ایک حوض ہے چنانچہ اپنی پنڈلیوں [42] سے کپڑا اٹھا لیا۔ سلیمان نے کہا: ”یہ تو شیشے کا چکنا فرش ہے۔ تب وہ بول اٹھی: ”اے میرے پروردگار! میں (سورج کی پوجا کر کے) اپنے آپ [43] پر ظلم کرتی رہی ہوں اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین [44] کی اطاعت قبول کر لی“
[42] دوسرا امتحان صحن کے حوض سے :۔
یہ بلقیس کی عقل کا دوسرا امتحان تھا۔ حضرت سلیمانؑ نے اپنے محل کا صحن کچھ اس انداز سے بنوایا تھا جس کے اوپر شیشہ جڑا ہوا تھا۔ لیکن جب کوئی شخص محل میں داخل ہوتا تو اس کا زاویہ نگاہ ایسا ہوتا تھا کہ اسے وہ صحن ایک گہرا پانی کا حوض معلوم ہوتا تھا۔ جس میں پانی لہریں مار رہا ہو۔ اور اس کی کیفیت کچھ ایسی تھی جیسے کسی دور سے دیکھنے والے کو ریت کا تودہ یا سراب ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی نظر آتا ہے۔ آپ نے بلقیس سے فرمایا کہ چلو اب محل میں چلیں۔ بلقیس نے جب صحن کا یہ نظارا دیکھا۔ تو اسے پانی کا گہرا حوض سمجھ کر اپنی پنڈلیوں سے اپنے پائنچے اٹھا لئے۔ تب سلیمانؑ نے اسے بتلایا کہ پائنچے اوپر چڑھانے کی ضرورت نہیں۔ یہ پانی کا حوض نہیں بلکہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ گویا وہ اس امتحان میں دھوکا کھا گئی۔
[43] یعنی جس طرح میں نے شیشہ کے صحن کو پانی کا لہریں مارنے والا گہرا حوض سمجھ کر غلطی کھائی ہے۔ اسی طرح میں اور میری قوم سورج کی چمک اور دمک دیکھ کر اسے معبود سمجھنے لگے تو یہ بھی ہماری فاش غلطی اور اپنے آپ پر ظلم تھا۔
[44] ملکہ سبا کا ایمان لانا علیٰ وجہ البصیرت تھا:۔
بلقیس جو اللہ رب العالمین پر ایمان لائی تو یہ علی وجہ البصیرت تھا۔ کئی واقعات پہلے ایسے گزر چکے تھے۔ جن سے اسے یہ یقین ہوتا جا رہا تھا کہ سلیمانؑ واقعی حق پر ہیں اور اللہ کے نبی ہیں اور اس کے مذہب کی بنیاد باطل پر ہے۔ سب سے پہلے تو اس نے خط کے مضمون سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس قسم کا خط بھیجنے والا کوئی عام فرمانروا نہیں ہو سکتا۔ پھر جس نامہ بر کے ذریعہ اسے یہ خط پہنچا تھا وہ بھی ایک غیر معمولی بات تھی۔ اور تحائف کی واپسی سے بھی اس نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ کوئی دنیا دار فرمانروا نہیں نیز یہ کہ وہ کبھی اس کے مقابلہ کی تاب نہ لا سکے گی۔ پھر تحائف لانے والے وفد نے جو عظیم فرمانروا کے منکسرانہ مزاج اور پاکیزہ سیرت کے حالات بیان کئے تھے تو ان باتوں سے بھی وہ شدید متاثر ہو چکی تھی۔ پھر جب وہ حضرت سلیمان کے پاس پہنچی تو جس تخت کو وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر آئی تھی اسے اپنے سامنے پڑا دیکھ کر وہ حضرت سلیمانؑ کی نبوت کی دل سے قائل ہو چکی تھی۔ اب محل میں داخلہ کے وقت جس چیز نے اسے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ چیز تھی کہ اتنا بڑا فرمانروا جس کے پاس اس سے کئی گناہ زیادہ مال و دولت اور عیش و عشرت کے سامان موجود ہیں وہ اس قدر اللہ کا شکر گزار اور منکسر المزاج اور متواضع بھی ہو سکتا ہے۔ ان سب باتوں نے مل کر اسے مجبور کر دیا کہ وہ حضرت سلیمان کے سامنے اب برملا اپنے ایمان لانے کا اعلان کر دے۔
﴿وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا﴾ سے متعلق عقل پرستوں کی تاویل اور اس کا جواب :۔
حضرت سلیمانؑ کے محل میں بلقیس کے داخل ہونے اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کے بارے میں بھی عقل پرستوں نے بہت سے نامعقول تاویلات پیش فرمائی ہیں۔ مثلاً یہ کہ بلقیس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا نہیں اٹھایا بلکہ اس شیش محل کی دیواروں پر جو کپڑے پڑے ہوئے تھے اس نے وہ اٹھائے تھے اور ﴿لُجَّةٌ کے معنی گہرا پانی ہی نہیں بلکہ پانی جیسی چمک دمک اور آب و تاب بھی ہے جو اس شیش محل میں پائی جاتی تھی۔ ان نامعقول تاویلات کے تفصیلی تجزیہ کا یہ موقعہ نہیں مختصراً ایک دو باتیں عرض کروں گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَا (بلقیس نے اس محل کو دیکھا تو اسے گہرا پانی خیال کیا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا) گویا محل کے لئے ضمیر مذکر استعمال ہوئی ہے۔ اور دیوار کا لفظ اگرچہ یہاں موجود نہیں تاہم اگر وہ بالفرض تسلیم کر بھی لیا جائے تو وہ بھی مذکر استعمال ہوتا ہے [18: 82] لیکن جس کی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا گیا اس کے لئے مونث کی ضمیر استعمال ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں محل کی یا کسی بھی کمرے کی چار دیواریں ہوتی ہیں دو نہیں ہوتی جبکہ یہاں تثنیہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ تیسرے یہ کہ ساق کا لفظ پنڈلی یا درخت کے تنہ کے لئے تو آتا ہے دیوار یا ہر اس چیز کے نچلے حصہ کے لئے نہیں آتا جو ساری کی ساری ایک جیسی ہو۔ اور یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ ساق کہاں سے شروع ہوتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر سلیمان علیہ السلام نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں۔ ﴿ قِیْلَ لَهَا ادْخُ٘لِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔
﴿ وَّؔكَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ پانی میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا: ﴿ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں۔ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنْ قَوَارِیْرَ شیشوں سے۔ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان علیہ السلام کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی: ﴿ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَ٘یْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں۔
ملکۂ سبا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم إنَّ سليمان أراد أن ترى من سلطانِهِ ما يَبْهَرُ العقولَ، فأمرها أن تَدْخُلَ الصرحَ، وهو المجلسُ المرتفع المتَّسع، وكان مجلساً من قوارير، تجري تحتَه الأنهار. {قيلَ لها ادْخُلي الصرحَ فلمَّا رأتْه حَسِبَتْه لُجَّةً}: ماءً؛ لأنَّ القوارير شفَّافةٌ يرى الماء الذي تحتها كأنه بذاته يجري ليس دونَه شيءٌ، {وكَشَفَتْ عن ساقَيْها}: للخياضةِ، وهذا أيضاً من عقلِها وأدبها؛ فإنَّها لم تمتَنِعْ من الدُّخول للمحلِّ الذي أُمِرَتْ بدخولِهِ لعلِمها أنَّها لم تُسْتَدْعَ إلاَّ للإكرام، وأنَّ ملكَ سليمان وتنظيمَه قد بناه على الحكمةِ، ولم يكنْ في قلبها أدنى شكٍّ من حالة السوء بعدما رأت ما رأت، فلما استعدَّت للخوض؛ قيل لها: {إنَّه صرحٌ مُمَرَّدٌ}؛ أي: مجلس {من قوارير}: فلا حاجةَ منك لكشفِ الساقين؛ فحينئذٍ لما وصلتْ إلى سليمان وشاهدتْ ما شاهدتْ وعلمت نبوَّتَه ورسالتَهُ؛ تابتْ ورجعتْ عن كفرها و {قالتْ ربِّ إنِّي ظلمتُ نفسي وأسلمتُ مع سليمانَ لله ربِّ العالمين}.

فهذا ما قصَّه الله علينا من قصَّة ملكة سبأ وما جرى لها مع سليمانَ، وما عدا ذلك من الفروع المولَّدة والقصص الإسرائيليَّة؛ فإنَّه لا يتعلق بالتفسير لكلام الله، وهو من الأمورِ التي يقف الجزم بها على الدليل المعلوم المعصوم، والمنقولات في هذا الباب كلها أو أكثرها ليس كذلك؛ فالحزمُ كلُّ الحزم الإعراضُ عنها وعدم إدخالِها في التفاسير. والله أعلم.