تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ محل میں داخلے کے اس واقعہ سے سلیمان علیہ السلام کی کمال حکمت معلوم ہوتی ہے جو انھوں نے ملکہ سبا کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اختیار فرمائی۔ شیشے کے اس محل اور صحن کا اہتمام سلیمان علیہ السلام نے اس لیے فرمایا کہ ملکہ کو پتا چلے کہ جس ساز و سامان پر اسے اور اس کی قوم کو ناز تھا، یہاں اس سے بہت بڑھ کر سامان موجود ہے اور ساتھ ہی یہ معلوم ہو جائے کہ سورج اور ستاروں کی چمک سے مرعوب ہو کر انھیں رب سمجھ لینا ایسا ہی دھوکا ہے جیسے آدمی چمکتے شیشے کو پانی سمجھ بیٹھے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ـ ”اس کو اپنی عقل کا قصور اور ان (یعنی سلیمان علیہ السلام) کی عقل کا کمال معلوم ہوا، سمجھی کہ دین میں بھی جو یہ سمجھتے ہیں وہی صحیح ہے۔“ (موضح) اس چیز نے اسے اس اعتراف پر مجبور کیا جو آگے آ رہا ہے۔ اس میں سلیمان علیہ السلام کی کمال حکمت کے ساتھ ملکہ کی کمال دانائی اور ذہانت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ سلیمان علیہ السلام جو بات اسے اس طریقے سے سمجھانا چاہتے تھے، وہ سمجھ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو ہی اس پر صحیح اثر انداز ہوتی ہے۔
➌ { قَالَتْ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ …:} فرش کی حقیقت سے آگاہی ملکہ کے لیے توحید سے آگاہی کا ذریعہ بن گئی۔ چنانچہ اس نے کہا، اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا کہ اب تک شرک میں مبتلا رہی اور تجھے بھلائے رکھا اور اب میں سلیمان علیہ السلام کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے اسلام لے آئی اور اس کی مکمل فرماں بردار بن گئی۔
تنبیہ: سلیمان علیہ السلام کے اس قصے میں بہت سی باتیں اسرائیلیات سے داخل کر دی گئی ہیں، مثلاً یہ کہ ملکہ سبا کی ماں جنات سے تھی اور یہ کہ سلیمان علیہ السلام نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ اس کے پاؤں تو گدھے کے جسم جیسے ہیں اور اس کی پنڈلیوں پر بہت سے بال ہیں۔ اس پر انھوں نے بلور کا یہ محل بنوایا، تاکہ اس کے کپڑا اٹھانے سے اس کے پاؤں اور پنڈلیوں کو دیکھ سکیں۔ جب اس نے کپڑا اٹھایا اور سلیمان علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ تو نہایت خوب صورت تھی، ہاں! اس کی پنڈلیوں پر بال تھے، انھوں نے جنوں سے پوچھا کہ ان بالوں کا کیا کریں تو انھوں نے بال صفا پاؤڈر ایجاد کیا، چنانچہ سلیمان علیہ السلام نے اس سے نکاح کر لیا وغیرہ۔ یہ تمام باتیں بالکل بے اصل ہیں، بلکہ سلیمان علیہ السلام جیسے شخص کی ذات پر لگائی گئی کمینی تہمتیں ہیں، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے: «{ نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ }» [صٓ: ۴۴] ”(سلیمان) اچھا بندہ تھا، یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔“ اصل حقیقت یہی ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے جو کچھ بھی کیا اسلام کی دعوت پھیلانے اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے کیا اور ان کے یہ تمام واقعات ہمارے لیے سبق ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[43] یعنی جس طرح میں نے شیشہ کے صحن کو پانی کا لہریں مارنے والا گہرا حوض سمجھ کر غلطی کھائی ہے۔ اسی طرح میں اور میری قوم سورج کی چمک اور دمک دیکھ کر اسے معبود سمجھنے لگے تو یہ بھی ہماری فاش غلطی اور اپنے آپ پر ظلم تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم إنَّ سليمان أراد أن ترى من سلطانِهِ ما يَبْهَرُ العقولَ، فأمرها أن تَدْخُلَ الصرحَ، وهو المجلسُ المرتفع المتَّسع، وكان مجلساً من قوارير، تجري تحتَه الأنهار. {قيلَ لها ادْخُلي الصرحَ فلمَّا رأتْه حَسِبَتْه لُجَّةً}: ماءً؛ لأنَّ القوارير شفَّافةٌ يرى الماء الذي تحتها كأنه بذاته يجري ليس دونَه شيءٌ، {وكَشَفَتْ عن ساقَيْها}: للخياضةِ، وهذا أيضاً من عقلِها وأدبها؛ فإنَّها لم تمتَنِعْ من الدُّخول للمحلِّ الذي أُمِرَتْ بدخولِهِ لعلِمها أنَّها لم تُسْتَدْعَ إلاَّ للإكرام، وأنَّ ملكَ سليمان وتنظيمَه قد بناه على الحكمةِ، ولم يكنْ في قلبها أدنى شكٍّ من حالة السوء بعدما رأت ما رأت، فلما استعدَّت للخوض؛ قيل لها: {إنَّه صرحٌ مُمَرَّدٌ}؛ أي: مجلس {من قوارير}: فلا حاجةَ منك لكشفِ الساقين؛ فحينئذٍ لما وصلتْ إلى سليمان وشاهدتْ ما شاهدتْ وعلمت نبوَّتَه ورسالتَهُ؛ تابتْ ورجعتْ عن كفرها و {قالتْ ربِّ إنِّي ظلمتُ نفسي وأسلمتُ مع سليمانَ لله ربِّ العالمين}.
فهذا ما قصَّه الله علينا من قصَّة ملكة سبأ وما جرى لها مع سليمانَ، وما عدا ذلك من الفروع المولَّدة والقصص الإسرائيليَّة؛ فإنَّه لا يتعلق بالتفسير لكلام الله، وهو من الأمورِ التي يقف الجزم بها على الدليل المعلوم المعصوم، والمنقولات في هذا الباب كلها أو أكثرها ليس كذلك؛ فالحزمُ كلُّ الحزم الإعراضُ عنها وعدم إدخالِها في التفاسير. والله أعلم.