ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 43

وَ صَدَّہَا مَا کَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہَا کَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿۴۳﴾
اور اسے اس چیز نے روکے رکھا جس کی عبادت وہ اللہ کے سوا کرتی تھی، بلاشبہ وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔ En
اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی، سلیمان نے اس کو اس سے منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی
En
اسے انہوں نے روک رکھا تھا جن کی وه اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی، یقیناً وه کافر لوگوں میں سے تھی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43) {وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ …:} یعنی اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود اسے ایمان لانے سے روکا تو آفتاب نے جسے وہ اللہ کے سوا معبود بنا بیٹھی تھی اور اسے چھوڑنے پر تیار نہ تھی اور اس کے سورج پرستی پر جمے رہنے کی وجہ بھی اس کی ہٹ دھرمی نہ تھی، بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ کافر قوم سے تھی اور اپنی قوم کے رسم و رواج کو ترک کرنا اس کے لیے مشکل تھا۔ یہ ترجمہ { مَا } موصولہ کی صورت میں ہے۔ { مَا } مصدریہ کی صورت میں ترجمہ یہ ہو گا: اور اسے (ایمان لانے سے) روکا تو اس عبادت نے جو وہ اللہ کے سوا معبودوں کی کرتی تھی۔ بعض اہلِ علم نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے: سلیمان علیہ السلام نے اسے ان چیزوں سے روک دیا جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتی تھی۔ حافظ ابن کثیر اور دوسرے ائمہ نے اس معنی کے بجائے پہلے معنی کو ترجیح دی ہے، کیونکہ ملکہ سبا نے شیشے کے ملائم فرش کو پانی سمجھنے کی غلطی پر متنبہ ہونے کے بعد ایمان قبول کیا، اس سے پہلے وہ اپنی قوم کے رسم و رواج پر قائم تھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

43-1یعنی اسے اللہ کی عبادت سے جس چیز نے روک رکھا تھا وہ غیر اللہ کی عبادت تھی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا تعلق ایک کافر قوم سے تھا، اس لئے توحید کی حقیقت سے بیخبر رہی، یعنی اللہ نے یا اللہ کے حکم سے سلیمان ؑ نے اسے غیر اللہ کی عبادت سے روک دیا ؛ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ ملکہ کو (ایمان لانے سے) ان چیزوں نے روک رکھا [41] تھا جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔
[41] اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سمجھایا جائے۔ جیسا کہ ترجمہ میں بیان ہوا ہے اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہو گا کہ چونکہ اسے ماحول کافرانہ اور مشرکانہ ملا تھا۔ لہٰذا وہ بھی قوم کی دیکھا دیکھی سورج کی پرستش کرنے لگی تھی۔ ورنہ اگر وہ کچھ بھی عقل سے کام لیتی تو ایسے شرک میں مبتلا نہ ہوتی۔ اور دوسرا مطلب ہے کہ اس جملہ کو حضرت سلیمانؑ کا فعل تسلیم کیا جائے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سلیمانؑ نے بلقیس کو ان تمام چیزوں کی پرستش سے روک دیا جن کی وہ اپنے زمانہ کفر میں پرستش کیا کرتی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔