ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 38

قَالَ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَیُّکُمۡ یَاۡتِیۡنِیۡ بِعَرۡشِہَا قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۸﴾
کہا اے سردارو! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لے کر آئے گا، اس سے پہلے کہ وہ فرماں بردار ہو کر میرے پاس آئیں؟ En
سلیمان نے کہا کہ اے دربار والو! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے
En
آپ نے فرمایا اے سردارو! تم میں سے کوئی ہے جو ان کے مسلمان ہو کر پہنچنے سے پہلے ہی اس کا تخت مجھے ﻻدے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) {قَالَ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا …:} آیات کے سیاق سے یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ جب قاصد ملکہ سبا کے پاس پہنچا اور اس نے سلیمان علیہ السلام کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور ان کا پیغام پہنچایا تو وہ سمجھ گئی کہ وہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود آپ کے ہاں حاضر ہو کر آپ کے ساتھ گفت و شنید کرے۔ چنانچہ وہ اپنے لشکر اور سرداروں کے ساتھ روانہ ہوئی، ابھی وہ راستے میں تھی اور پہنچا ہی چاہتی تھی کہ سلیمان علیہ السلام نے اپنے سرداروں کو مخاطب کرکے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو اس کا تخت میرے پاس اس سے پہلے لے آئے کہ وہ تابع فرمان ہو کر میرے پاس آئیں۔ سلیمان علیہ السلام کا مقصد اس سے یہ تھا کہ جب وہ یہاں پہنچ کر اپنے تخت کو موجود پائے تو اسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو کیسی غیر معمولی قوتیں عطا فرماتا ہے، تاکہ اسے یقین ہو جائے کہ میں واقعی اللہ کا نبی ہوں اور اس کی عقل کا بھی امتحان ہو جائے کہ کچھ تبدیلی کے بعد وہ اپنا تخت پہچانتی ہے یا نہیں۔ بعض مفسرین نے سلیمان علیہ السلام کے ملکہ کا تخت منگوانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ وہ اس کے پہنچنے سے پہلے اس کے تخت پر قبضہ کر لینا چاہتے تھے، کیونکہ جب وہ پہنچ کر اسلام قبول کر لے گی تو اس کے مال پر قبضہ جائز نہ ہو گا۔ مگر یہ بات سراسر غلط ہے، کیونکہ سلیمان علیہ السلام کے پاس تو ہر چیز ملکہ سے کہیں بہتر اور بڑھ کر موجود تھی اور کسی شخص کے مسلمان ہونے کی امید پر اس کی مدد کے بجائے پہلے ہی اس کے اموال پر قبضہ جمانے کی فکر کرنا ایک نبی تو دُور خلفائے اسلام کی شان کے لائق بھی نہیں۔ ویسے بھی پہلی امتوں کے لیے مال غنیمت حلال نہیں تھا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

38-1حضرت سلیمان ؑ کے اس جواب سے ملکہ نے اندازہ لگا لیا کہ وہ سلیمان ؑ کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے چناچہ انہوں نے مطیع و منقاد ہو کر آنے کی تیاری شروع کردی۔ سلیمان ؑ کو بھی ان کی آمد کی اطلاع مل گئی تو آپ نے انھیں مذید اپنی اعجازی شان دکھانے کا پروگرام بنایا اور انکے پہنچنے سے قبل ہی اس کا تخت شاہی اپنے پاس منگوانے کا بندوبست کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ اب سلیمان نے (اپنے درباریوں سے) کہا: اے اہل دربار! تم میں سے کون ہے جو ان کے مطیع ہو کر آنے سے پہلے پہلے ملکہ کا تخت میرے پاس اٹھا لائے؟“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت ملا ٭٭
جب قاصد پہنچتا ہے اور بلقیس کو دوبارہ پیغام نبوت پہنچاتا ہے تو وہ سمجھ لیتی ہے اور کہتی ہے واللہ یہ سچے پیغمبر ہیں ایک پیغمبر کا مقابلہ کر کے کوئی پنپ نہیں سکتا۔ اسی وقت دوبارہ قاصد بھیجا کہ میں اپنی قوم کے سرداروں سمیت حاضر خدمت ہوتی ہوں تاکہ خود آپ سے مل کر دینی معلومات حاصل کروں اور آپ سے اپنی تشفی کر لوں یہ کہلوا کر یہاں ایک کو اپنا نائب بنایا۔ سلطنت کے انتظامات اس کے سپرد کئے اپنا لاجواب بیش قیمت جڑاؤ تخت جو سونے کا تھا سات محلوں میں مقفل کیا اور اپنے نائب کو اس کی حفاطت کی خاص تاکید کی اور بارہ ہزار سردار جن میں سے ہر ایک کے تحت ہزاروں آدمی تھے۔ اپنے ساتھ لیے اور ملک سلیمان کی طرف چل دی۔
جنات قدم قدم اور دم دم کی خبریں آپ کو پہنچاتے رہتے تھے۔ جب آپکو معلوم ہوا کہ وہ قریب پہنچ چکی ہے تو آپ نے اپنے دربار میں جس میں جن و انس سب موجود تھے فرمایا کوئی ہے جو اس کے تخت کو اس کے پہنچنے سے پہلے یہاں پہنچا دے؟ کیونکہ جب وہ یہاں آ جائیں گی اور اسلام میں داخل ہو جائیں پھر اس کا مال ہم پر حرام ہو گا۔ یہ سن کر ایک طاقتور سرکش جن جس کا نام کوزن تھا اور جو مثل ایک بڑے پہاڑ کے تھا بول پڑا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو آپ دربار برخواست کریں اس سے پہلے میں لادیتا ہوں۔ آپ لوگوں کے فیصلے کرنے اور جھگڑے چکانے اور انصاف دینے کو صبح سے دوپہر تک دربارعام میں تشریف رکھاکرتے تھے۔
اس نے کہا میں اس تخت کے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور ہوں بھی امانت دار۔ اس میں کوئی چیز نہیں چراؤں گا: سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں چاہتا ہوں اس سے بھی پہلے میرے پاس وہ پہنچ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی تخت کے منگوانے سے عرض یہ تھی کہ اپنے ایک زبردست معجزے کا اور پوری طاقت کا ثبوت بلقیس کو دکھائیں کہ اس کا تخت جسے اس نے سات مقفل مکانوں میں رکھا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے دربار سلیمانی میں موجود ہے۔ (‏‏‏‏وہ غرض نہ تھی جو اوپر روایت قتادہ رحمہ اللہ میں بیان ہوئی) سلیمان علیہ السلام کے اس جلدی کے تقاضے کو سن کر جس کے پاس کتابی علم تھا وہ بولا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ یہ آصف تھے سلیمان علیہ السلام کے کاتب تھے ان کے باپ کا نام برخیا تھا یہ ولی اللہ تھے اسم اعظم جانتے تھے۔ پکے مسلمان تھے بنو اسرائیل میں سے تھے مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخا بھی مروی ہے ان کا لقب ذوالنور تھا۔
عبداللہ بن لہیعہ کا قول ہے یہ خضر تھے لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنی نگاہ دوڑائیے جہاں تک پہنچے نظر کیجئے ابھی آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے کہ میں اسے لادوں گا۔ پس سلیمان علیہ السلام نے یمن کی طرف جہاں اس کا تخت تھا نظر کی ادھر یہ کھڑے ہو کر وضو کر کے دعا میں مشغول ہوئے اور کہا «یا ذالجلال والاکرام» یا فرمایا «‏‏‏‏یا الھنا والہ کل شی الھا واحدا لا الہ الاانت ائتنی بعرشھا» اسی وقت تخت بلقیس سامنے آ گیا۔ اتنی ذرا سی دیر میں یمن سے بیت المقدس میں وہ تخت پہنچ گیا اور لشکر سلیمان کے دیکھتے ہوئے زمین میں سے نکل آیا۔
جب سلیمان علیہ السلام نے اسے اپنے سامنے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری؟ جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بے نیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاجی نہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «‏‏‏‏مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ» ۱؎ [30-الروم:44]‏‏‏‏ ’ جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے اور جو برائی کرتا ہے وہ اپنے لیے۔ ‘ اور جگہ ہے جو نیکی کرتے ہیں وہ اپنے لیے ہی اچھائی جمع کرتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی اگر اللہ سے کفر کرنے لگو تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑوگے۔ وہ غنی ہے اور حیمد ہے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بہتر سے بہتر اور نیک بخت سے نیک بخت ہو جائیں تو میرا ملک بڑھ نہیں جائے گا اور اگر سب کے سب بدبخت اور برے بن جائیں تو میرا ملک گھٹ نہیں جائے گا یہ تو صرف تمہارے اعمال ہیں جو جمع ہونگے اور تم کو ہی ملیں گے جو بھلائی پائے تو اللہ کا شکر کرے اور جو برائی پائے تو صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2577]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

حضرت سلیمان علیہ السلام کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَیُّكُمْ یَ٘اْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّ٘رُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُ٘رْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)
﴿ قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ جنات میں سے عفریت نے کہا۔ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں۔ ظاہر ہے اس وقت سلیمان علیہ السلام شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔
اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں رہتا تھا اسے آصف بن برخیا کہا جاتا تھا اس کے پاس اسم اعظم کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں۔ یعنی وہ اس اسم اعظم کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔ تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں۔ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمان علیہ السلام نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا: ﴿ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وعلم سليمانُ أنَّهم لا بدَّ أن يسيروا إليه، فقال لمن حَضَرَه من الجنِّ والإنس: {أيُّكم يأتيني بعرشِها قبلَ أن يأتوني مسلمينَ}؛ أي: لأجل أن نتصرَّف فيه قبل أن يُسْلِموا فتكونَ أموالُهم محترمةً، {قال عفريتٌ من الجنِّ}: والعفريتُ هو القويُّ النشيطُ جدًّا، {أنا آتيكَ به قبلَ أن تقومَ من مقامِكَ وإنِّي عليه لقويٌّ أمينٌ}: والظاهر أن سليمان إذ ذاك في الشام، فيكون بينَه وبين سبأ نحو مسيرة أربعة أشهر؛ شهرانِ ذهاباً وشهران إياباً، ومع ذلك يقولُ هذا العفريت: أنا ألتزِمُ بالمجيء به على كبرِهِ وثقلِهِ وبُعْدِه قبل أن تقومَ من مجلسِكَ الذي أنت فيه، والمعتادُ من المجالس الطويلة أن تكونَ معظمَ الضُّحى نحو ثُلُثِ يوم، هذا نهايةُ المعتاد، وقد يكونُ دونَ ذلك أو أكثر، وهذا المَلِكُ العظيم الذي عند آحادِ رعيَّتِهِ هذه القوَّة والقدرةُ.

وأبلغُ من ذلك أنْ {قال الذي عندَه علمٌ من الكتابِ}: قال المفسِّرون: هو رجلٌ عالمٌ صالحٌ عند سليمان، يُقالُ له: آصف بن برخيا، كان يعرفُ اسم الله الأعظم، الذي إذا دُعي به؛ أجابَ، وإذا سُئِل به أعطى: {أنا آتيكَ به قبلَ أنْ يَرْتَدَّ إليك طرفُك}: بأن يدعوَ الله بذلك الاسم، فيحضرَ حالاً، وأنَّه دعا الله، فحضر. فالله أعلم؛ هل هذا المرادُ، أم أنَّ عندَه علماً من الكتاب يقتدِرُ به على جلب البعيدِ وتحصيل الشديد؟! {فلمَّا رآهُ} سليمان {مستقرًّا عنده}: حمد الله تعالى على أقدارِهِ وملكِهِ وتيسيرِ الأمور له، و {قال هذا مِن فضل ربِّي لِيَبْلُوَني أأشكُرُ أمْ أكفُرُ}؛ أي: ليختبِرَني بذلك، فلم يغترَّ عليه السلام بِمُلْكِهِ وسلطانِهِ وقدرتِهِ كما هو دأبُ الملوك الجاهلين، بل علم أنَّ ذلك اختبارٌ من ربِّه، فخاف أنْ لا يقومَ بشكرِ هذه النعمة، ثم بيَّنَ أنَّ هذا الشكر لا ينتفعُ الله به، وإنَّما يرجِعُ نفعُه إلى صاحبه، فقال: {ومَن شَكَرَ فإنَّما يشكُرُ لنفسه ومَن كَفَرَ فإنَّ ربِّي غنيٌّ كريم}: غنيٌّ عن أعماله، كريمٌ كثير الخير، يعمُّ به الشاكر والكافر؛ إلاَّ أنَّ شكر نعمِهِ داعٍ للمزيد منها، وكفرَها داعٍ لزوالِها.