تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جنات قدم قدم اور دم دم کی خبریں آپ کو پہنچاتے رہتے تھے۔ جب آپکو معلوم ہوا کہ وہ قریب پہنچ چکی ہے تو آپ نے اپنے دربار میں جس میں جن و انس سب موجود تھے فرمایا کوئی ہے جو اس کے تخت کو اس کے پہنچنے سے پہلے یہاں پہنچا دے؟ کیونکہ جب وہ یہاں آ جائیں گی اور اسلام میں داخل ہو جائیں پھر اس کا مال ہم پر حرام ہو گا۔ یہ سن کر ایک طاقتور سرکش جن جس کا نام کوزن تھا اور جو مثل ایک بڑے پہاڑ کے تھا بول پڑا کہ اگر آپ مجھے حکم دیں تو آپ دربار برخواست کریں اس سے پہلے میں لادیتا ہوں۔ آپ لوگوں کے فیصلے کرنے اور جھگڑے چکانے اور انصاف دینے کو صبح سے دوپہر تک دربارعام میں تشریف رکھاکرتے تھے۔
اس نے کہا میں اس تخت کے اٹھا لانے کی طاقت رکھتا ہوں اور ہوں بھی امانت دار۔ اس میں کوئی چیز نہیں چراؤں گا: سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں چاہتا ہوں اس سے بھی پہلے میرے پاس وہ پہنچ جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی سلیمان بن داؤد علیہ السلام کی تخت کے منگوانے سے عرض یہ تھی کہ اپنے ایک زبردست معجزے کا اور پوری طاقت کا ثبوت بلقیس کو دکھائیں کہ اس کا تخت جسے اس نے سات مقفل مکانوں میں رکھا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے دربار سلیمانی میں موجود ہے۔ (وہ غرض نہ تھی جو اوپر روایت قتادہ رحمہ اللہ میں بیان ہوئی) سلیمان علیہ السلام کے اس جلدی کے تقاضے کو سن کر جس کے پاس کتابی علم تھا وہ بولا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ یہ آصف تھے سلیمان علیہ السلام کے کاتب تھے ان کے باپ کا نام برخیا تھا یہ ولی اللہ تھے اسم اعظم جانتے تھے۔ پکے مسلمان تھے بنو اسرائیل میں سے تھے مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کا نام اسطوم تھا۔ بلیخا بھی مروی ہے ان کا لقب ذوالنور تھا۔
جب سلیمان علیہ السلام نے اسے اپنے سامنے موجود دیکھ لیا تو فرمایا یہ صرف میرے رب کا فضل ہے کہ وہ مجھے آزمالے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری؟ جو شکر کرے وہ اپنا ہی نفع کرتا ہے اور جو ناشکری کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں کی بندگی سے بے نیاز ہے اور خود بندوں سے بھی اس کی عظمت کسی کی محتاجی نہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ» ۱؎ [30-الروم:44] ’ جو نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے اور جو برائی کرتا ہے وہ اپنے لیے۔ ‘ اور جگہ ہے جو نیکی کرتے ہیں وہ اپنے لیے ہی اچھائی جمع کرتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا تم اور روئے زمین کے سب انسان بھی اگر اللہ سے کفر کرنے لگو تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑوگے۔ وہ غنی ہے اور حیمد ہے۔
صحیح مسلم شریف میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو اگر تمہارے سب اگلے پچھلے انسان جنات بہتر سے بہتر اور نیک بخت سے نیک بخت ہو جائیں تو میرا ملک بڑھ نہیں جائے گا اور اگر سب کے سب بدبخت اور برے بن جائیں تو میرا ملک گھٹ نہیں جائے گا یہ تو صرف تمہارے اعمال ہیں جو جمع ہونگے اور تم کو ہی ملیں گے جو بھلائی پائے تو اللہ کا شکر کرے اور جو برائی پائے تو صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2577]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وعلم سليمانُ أنَّهم لا بدَّ أن يسيروا إليه، فقال لمن حَضَرَه من الجنِّ والإنس: {أيُّكم يأتيني بعرشِها قبلَ أن يأتوني مسلمينَ}؛ أي: لأجل أن نتصرَّف فيه قبل أن يُسْلِموا فتكونَ أموالُهم محترمةً، {قال عفريتٌ من الجنِّ}: والعفريتُ هو القويُّ النشيطُ جدًّا، {أنا آتيكَ به قبلَ أن تقومَ من مقامِكَ وإنِّي عليه لقويٌّ أمينٌ}: والظاهر أن سليمان إذ ذاك في الشام، فيكون بينَه وبين سبأ نحو مسيرة أربعة أشهر؛ شهرانِ ذهاباً وشهران إياباً، ومع ذلك يقولُ هذا العفريت: أنا ألتزِمُ بالمجيء به على كبرِهِ وثقلِهِ وبُعْدِه قبل أن تقومَ من مجلسِكَ الذي أنت فيه، والمعتادُ من المجالس الطويلة أن تكونَ معظمَ الضُّحى نحو ثُلُثِ يوم، هذا نهايةُ المعتاد، وقد يكونُ دونَ ذلك أو أكثر، وهذا المَلِكُ العظيم الذي عند آحادِ رعيَّتِهِ هذه القوَّة والقدرةُ.
وأبلغُ من ذلك أنْ {قال الذي عندَه علمٌ من الكتابِ}: قال المفسِّرون: هو رجلٌ عالمٌ صالحٌ عند سليمان، يُقالُ له: آصف بن برخيا، كان يعرفُ اسم الله الأعظم، الذي إذا دُعي به؛ أجابَ، وإذا سُئِل به أعطى: {أنا آتيكَ به قبلَ أنْ يَرْتَدَّ إليك طرفُك}: بأن يدعوَ الله بذلك الاسم، فيحضرَ حالاً، وأنَّه دعا الله، فحضر. فالله أعلم؛ هل هذا المرادُ، أم أنَّ عندَه علماً من الكتاب يقتدِرُ به على جلب البعيدِ وتحصيل الشديد؟! {فلمَّا رآهُ} سليمان {مستقرًّا عنده}: حمد الله تعالى على أقدارِهِ وملكِهِ وتيسيرِ الأمور له، و {قال هذا مِن فضل ربِّي لِيَبْلُوَني أأشكُرُ أمْ أكفُرُ}؛ أي: ليختبِرَني بذلك، فلم يغترَّ عليه السلام بِمُلْكِهِ وسلطانِهِ وقدرتِهِ كما هو دأبُ الملوك الجاهلين، بل علم أنَّ ذلك اختبارٌ من ربِّه، فخاف أنْ لا يقومَ بشكرِ هذه النعمة، ثم بيَّنَ أنَّ هذا الشكر لا ينتفعُ الله به، وإنَّما يرجِعُ نفعُه إلى صاحبه، فقال: {ومَن شَكَرَ فإنَّما يشكُرُ لنفسه ومَن كَفَرَ فإنَّ ربِّي غنيٌّ كريم}: غنيٌّ عن أعماله، كريمٌ كثير الخير، يعمُّ به الشاكر والكافر؛ إلاَّ أنَّ شكر نعمِهِ داعٍ للمزيد منها، وكفرَها داعٍ لزوالِها.