ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 3

الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۳﴾
وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پریقین بھی وہی رکھتے ہیں۔ En
وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں
En
جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3-1یہ مضمون متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ قرآن کریم ویسے تو پوری نسل انسانی کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے لیکن اس سے حقیقتاً راہ یاب وہی ہونگے جو ہدایت کے طالب ہونگے، جو لوگ اپنے دل اور دماغ کی کھڑکیوں کو حق کے دیکھنے اور سننے سے بند یا اپنے دلوں کو گناہوں کی تاریکیوں سے مسخ کرلیں گے، قرآن انھیں کس طرح سیدھی راہ پر لگا سکتا ہے، ان کی مثال اندھوں کی طرح ہے جو سورج کی روشنی سے فیض یاب نہیں ہوسکتے، درآں حالیکہ سورج کی روشنی پورے عالم کی درخشانی کا سبب ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے اور آخرت [3] پر یقین رکھتے ہیں۔
[3] آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے اور جزاء و سزا کا تصور صحیح نہ رکھنے والے کافر ہیں :۔
ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں کی ظاہری علامات یہ ہیں کہ کم از کم وہ نماز کو پوری درستی کے ساتھ قائم کریں۔ نیز زکوٰۃ ادا کریں اور روز آخرت پر ایمان بھی رکھتے ہوں۔ روز آخرت پر ایمان اگرچہ ایمان کے چھ اجزاء میں ایک جزء ہے اور ایمان لانے میں آخرت پر ایمان لانا از خود شامل ہو جاتا ہے۔ تاہم ایمان کے اس جزء کی اہمیت کے پیش نظر اس کو دوبارہ اور بڑی تاکید سے بیان فرمایا۔ اسی لئے قرآن کریم نے آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کو مکمل کافر قرار دیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں کو بھی کافر قرار دیا ہے جو آخرت کے دن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر جزا و سزا کے متعلق وہ تصور نہیں رکھتے جو قرآن پیش کرتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔