ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 26

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ٛ۲۶﴾
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔ En
خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے
En
اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) {اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ …:} یہ توحید کی تیسری دلیل ہے کہ وہ عرش عظیم کا رب ہے۔ مالک تو وہ کائنات کی ہر چیز کا ہے، لیکن یہاں صرف عرش عظیم کا ذکر کیا۔ ایک تو اس لیے کہ عرشِ الٰہی کائنات کی سب سے بڑی چیز اور سب سے برتر ہے۔ دوسرا یہ واضح کرنے کے لیے کہ ملکہ سبا کا تخت ِ شاہی بھی گو بہت بڑا ہے، مگر اسے عرش عظیم سے کوئی نسبت نہیں، جس پر اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق مستوی ہے۔ یہاں ہد ہد کا کلام ختم ہوا۔ بعض مفسرین نے ان دو آیات کو اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دیا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے ہد ہد کے کلام کے بعد توحید کی تعلیم کے لیے فرمایا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَهٰی عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةُ وَالنَّحْلَةُ وَالْهُدْهُدُ وَالصُّرَدُ] [أبوداوٗد، الأدب، باب في قتل الذر: ۵۲۶۷] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد اور صُرَد (لٹورا) کو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہی عرش عظیم [27] کا مالک ہے۔“
[27] ہدہد نے ملکہ سبا کے متعلق یہ یقینی خبر دی تھی کہ اس کا عرش عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا عرش عظیم تو صرف اللہ کا ہے۔ اس کے عرش کے مقابلہ میں کسی کا تخت عظیم نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی اللہ کے مقابلہ میں آفتاب یا دوسری اشیاء کو الٰہ کہا جا سکتا ہے۔ یا کسی ایسی چیز کو سجدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس مقام پر سجدہ کرنا واجب ہے۔ جس سے مقصود یہ ہے کہ ایک مومن اپنے آپ کو ان آفتاب پرستوں سے جدا کرے جو سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنے عمل سے یہ ظاہر کرے کہ وہ آفتاب کو نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا معبود و مسجود تسلیم کرتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ یعنی عبادت، انابت، تذلل اور محبت صرف اسی کے لائق ہے۔ وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ صفات کاملہ کا مالک اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں جو اس کی عبادت کی موجب ہیں۔ ﴿ رَبُّ الْ٘عَرْشِ الْعَظِیْمِ وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے اور زمین اور آسمانوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ پس یہ بادشاہ عظیم سلطنت اور بہت بڑی شان کا مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سامنے تذلل اور خضوع کا اظہار کیا جائے اور وہی ہے جس کے سامنے رکوع و سجود کیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الله لا إله إلاَّ هو}؛ أي: لا تنبغي العبادة والإنابة والذلُّ والحبُّ إلاَّ له؛ لأنَّه المألوه؛ لما له من الصفات الكاملة والنعم الموجبة لذلك. {ربُّ العرش العظيم}: الذي هو سقفُ المخلوقات، ووسع الأرضَ والسماوات. فهذا الملك عظيم السلطان كبير الشأن هو الذي يُذَلُّ له ويُخْضعُ ويُسْجَدُ له ويُرْكَع.