ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 25

اَلَّا یَسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ یُخۡرِجُ الۡخَبۡءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ یَعۡلَمُ مَا تُخۡفُوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ﴿۲۵﴾
تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو نکالتا ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ En
(اور نہیں سمجھتے) کہ خدا کو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کردیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں سجدہ نہ کریں
En
کہ اسی اللہ کے لیے سجدے کریں جو آسمانوں اور زمینوں کے پوشیده چیزوں کو باہر نکالتا ہے، اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ﻇاہر کرتے ہو وه سب کچھ جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) ➊ {اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ …: الْخَبْءَ } مصدر بمعنی اسم مفعول {اَلْمَخْبُوْئُ } ہے، چھپی ہوئی چیز، یعنی یہ لوگ اس اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی چیز نکالتا ہے۔ اس آیت کا دوسرا ترجمہ وہی ہے جو اوپر کیا گیا ہے کہ تاکہ وہ اللہ کو سجدہ نہ کریں جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو نکالتا ہے۔ ہُد ہُد نے اس بنیادی حقیقت کے ثبوت کے لیے تین عظیم الشان دلیلیں پیش کیں کہ معبود برحق صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے، اس کے سوا کسی کو سجدہ جائز نہیں۔ پہلی یہ کہ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کی مخفی اور پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے۔ آسمانوں کی پوشیدہ چیزوں کے عمو م میں سورج، چاند، ستارے، سیارے، بارش، ہوا اور بجلی وغیرہ سب ہی داخل ہیں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں میں تمام نباتات، پودے، درخت، دریا، چشمے، زیر زمین پانی، تیل، گیس اور بے شمار معدنیات سب آ جاتے ہیں۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ہد ہد کی خوراک عام طور پر وہ کیڑے ہوتے ہیں جو درختوں کی چھال یا زمین کے نیچے چھپے ہوتے ہیں۔ اس بظاہر معمولی سے پرندے نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دلیل اپنی سمجھ اور تجربے کے مطابق دی کہ عبادت اور سجدے کے لائق وہ اللہ ہے جو ہر مخلوق کو اس کی چھپی ہوئی روزی تک رسائی دیتا ہے۔ سورج جسے اپنی گردش ہی سے فرصت نہیں، نہ اس نے کوئی چیز پیدا کی کہ وہ اسے چھپانے یا ظاہر کرنے کا علم یا اختیار رکھتا ہو، وہ عبادت یا سجدے کے لائق کیسے ہو گیا؟ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ہد ہد کی روزی ہے ریت سے کیڑے نکال نکال کر کھانا، نہ دانہ کھائے نہ میوہ، اس کو اللہ کی اسی قدرت سے کام ہے۔
➋ {وَ يَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ:} یہ اکیلے اللہ کو سجدہ کرنے کی دوسری دلیل ہے، یعنی سجدے کے لائق وہ ذات ہے جس کا علم اتنا وسیع ہے کہ نہ صرف آسمان و زمین ہی کی پوشیدہ قوتوں اور چیزوں کو جانتا ہے بلکہ وہ سب کچھ بھی جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو یا پوشیدہ رکھتے ہو۔ سورج یا کسی اور مخلوق کو کسی کے ظاہر یا پوشیدہ حالات کی کیا خبر کہ وہ سجدے کے لائق ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25-1یعنی آسمان سے بارش برساتا اور زمین سے اس کی مخفی چیزیں نباتات، معدنیات اور دیگر زمینی خزانے ظاہر فرماتا اور نکالتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ اس اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو ان چیزوں کو نکالتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ ہیں اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو [26] اور جسے ظاہر کرتے ہو۔
[26] آیت نمبر 25 اور 26 کو بعض مفسرین نے ہدہد کے جواب کا ہی تتمہ قرار دیا ہے اور بعض نے اسے ہدہد کے کلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف مناسب اضافہ قرار دیا ہے۔ اس آیت میں: ﴿يَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ سے دوسرا قول ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔
لفظ ﴿خَب﴾ کا لغوی مفہوم:۔
﴿خب﴾ معنی پوشیدہ اور مخفی خزانہ (مفردات القرآن) اور اس سے مراد ایسا پوشیدہ اور مخفی خزانہ ہے جس کا پہلے سے کسی کو علم نہ ہو اور ﴿خبأ﴾ بمعنی کسی چیز کو چھپا رکھنا اور خابا بمعنی کسی سے چیستان، پہیلی یا معمہ پوچھنا اور ﴿خب الارض﴾ بمعنی زمین کی نباتات جو ابھی ظہور میں نہ آئی ہو۔ قوت، روئیدگی اور ﴿خب السماء﴾ بمعنی بارش اور اخرج ﴿خب السماء خب الارض﴾ بمعنی آسمان کی بارش نے زمین پر روئیدگی پیدا کی اور پودوں کو اگایا۔ اسی طرح زمین میں سے اگر کہیں سے تیل یا جلنے والی گیسیں یا معدنیات وغیرہ نکل آئیں تو یہ سب چیزیں ﴿خب الارض﴾ میں شمار ہوں گی۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کرنے کے لائق تو وہ ذات ہے جو زمین و آسمان سے ان کی پوشیدہ چیزوں اور مخفی قوتوں کو بروئے کار لا کر ان کی روزی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ نہ کہ سورج اور اس جیسی دوسری بے جان یا مخلوق و محتاج اشیاء نیز سجدہ کے لائق وہ ذات ہے جس کا علم اتنا وسیع ہو جو صرف زمین و آسمان ہی کی پوشیدہ قوتوں اور اشیاء کو جانتا ہے بلکہ وہ تمہارے بھی سب ظاہری اور پوشیدہ اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔