تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” عِلْمًا “} کی تنوین تنکیر کے لیے بھی ہو سکتی ہے، جس سے ایک قسم کا علم مراد ہو، یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا گیا۔ مراد پرندوں کی بولی کا علم ہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”ہمیں ان دو پیغمبروں کے سوا کسی کے متعلق معلوم نہیں کہ ان کو یہ علم دیا گیا ہو۔“ اور یہ تنوین تعظیم کے لیے بھی ہو سکتی ہے، یعنی ہم نے ان دونوں کو عظیم الشان علم عطا کیا، جس میں نبوت و حکمت، قضا و سلطنت، پرندوں کی بولی اور سائنس کے علوم شامل تھے۔ جن کی بدولت ان کے زمانے میں ان کی سلطنت برّی، بحری اور فضائی اعتبار سے اپنے دور کی سب سے طاقت ور حکومت تھی، بلکہ سلیمان علیہ السلام کو تو وہ حکومت عطا کی کہ قیامت تک آنے والی کوئی سلطنت بھی ان کی سلطنت جیسی نہیں ہو سکتی، کیونکہ انھوں نے دعا کی تھی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [صٓ: ۳۵] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“
➌ { وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ …:} یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کا حصہ تھا کہ ان تمام نعمتوں پر مغرور ہونے کے بجائے انھوں نے انھیں اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھا اور اس کا شکر ادا کیا۔
➍ { الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْرٍ …:} ”جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی“ سب پر فضیلت کا دعویٰ اس لیے نہیں کیا کہ موسیٰ علیہ السلام کو اس دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا تھا اور داؤد اور سلیمان علیھما السلام جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر چلتے تھے، یہ جانتے ہوئے تمام بندوں پر فضیلت کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے اور اس لیے کہ تمام اولاد آدم پر فضیلت تو صرف خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ أَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَ أَوَّلُ مُشَفَّعٍ] [مسلم، الفضائل، باب تفضیل نبینا صلی اللہ علیہ وسلم علی جمیع الخلائق…: ۲۲۷۸] ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں اور پہلا شخص ہوں جس سے قبر پھٹے گی اور پہلا سفارش کرنے والا ہوں اور پہلا شخص ہوں جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[15] علم سے مراد علم شریعت بھی ہو سکتا ہے۔ حکمرانی اور جہاں بانی کا علم بھی۔ لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کا علم بھی اور یہ علم بھی اگر اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے مزید انعامات سے نوازے۔ مندرجہ بالا مفاہیم میں سے اس مقام پر چوتھا مفہوم ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔
داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے { ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3094]
جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔
ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔
داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ } ۱؎ [مسند احمد:419/2:ضعیف]
سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔
مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ } [صحیح بخاری:3019]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر في هذا القرآن وينوِّه بمنَّته على داود وسليمان ابنه بالعلم الواسع الكثير؛ بدليل التَّنْكير؛ كما قال تعالى: {وداودَ وسليمانَ إذْ يَحْكُمانِ في الحَرْثِ إذْ نَفَشَتْ فيه غنمُ القومِ وكُنَّا لحكمِهِم شاهدينَ. ففَهَّمْناها سليمانَ وكلًّا آتَيْنا حكماً وعلماَ ... } الآية. وقالا شاكرين لربهما منَّتَه الكُبرى بتعليمهما: {الحمدُ لله الذي فَضَّلَنا على كثيرٍ من عبادِهِ المؤمنين}: فحمدا الله على جَعْلِهِما من المؤمنين أهل السعادة، وأنَّهم كانوا من خواصِّهم. ولا شكَّ أن المؤمنين أربع درجات: الصالحون، ثم فوقَهم الشهداءُ، ثم فوقهم الصديقونَ، ثم فوقهم الأنبياء. وداود وسليمان من خواصِّ الرسل، وإن كانوا دون درجة أولي العزم الخمسة، لكنَّهم من جملة الرسل الفضلاء الكرام، الذين نوَّه الله بذكرهم ومدحهم في كتابه مدحاً عظيماً، فحمدوا الله على بلوغ هذه المنزلة، وهذا عنوان سعادةِ العبد: أنْ يكون شاكراً لله على نعمه الدينيَّة والدنيويَّة، وأن يرى جميع النعم من ربِّه؛ فلا يفخرُ بها ولا يُعْجَبُ بها، بل يرى أنها تستحقُّ عليه شكراً كثيراً.