وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ عِلۡمًا ۚ وَ قَالَا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّنۡ عِبَادِہِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے دائود اور سلیمان کو ایک علم دیا اور ان دونوں نے کہا تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔
En
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضلیت دی
En
اور ہم نے یقیناً داؤد اور سلیمان کو علم دے رکھا تھا۔ اور دونوں نے کہا، تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 15) ➊ { وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ عِلْمًا:} موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے قصّے میں ان لوگوں کا نمونہ ملتا ہے جنھوں نے جانتے بوجھتے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کیا، جیسے ابو لہب اور ابوجہل وغیرہ اور سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا کے قصّے میں ان لوگوں کا نمونہ ہے جو حق واضح ہونے پر ایمان لے آئے اور فرعون کے طرز عمل کے برعکس ان کی سلطنت ان کے لیے حق کے اعتراف میں رکاوٹ نہیں بنی۔ یہی حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کا تھا۔ یمن کا بادشاہ نجاشی ہو یا سردارانِ قریش میں سے ایمان لانے والے ہوں، یا مدینہ کے اوس و خزرج کے سردار۔
➋ {” عِلْمًا “} کی تنوین تنکیر کے لیے بھی ہو سکتی ہے، جس سے ایک قسم کا علم مراد ہو، یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا گیا۔ مراد پرندوں کی بولی کا علم ہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”ہمیں ان دو پیغمبروں کے سوا کسی کے متعلق معلوم نہیں کہ ان کو یہ علم دیا گیا ہو۔“ اور یہ تنوین تعظیم کے لیے بھی ہو سکتی ہے، یعنی ہم نے ان دونوں کو عظیم الشان علم عطا کیا، جس میں نبوت و حکمت، قضا و سلطنت، پرندوں کی بولی اور سائنس کے علوم شامل تھے۔ جن کی بدولت ان کے زمانے میں ان کی سلطنت برّی، بحری اور فضائی اعتبار سے اپنے دور کی سب سے طاقت ور حکومت تھی، بلکہ سلیمان علیہ السلام کو تو وہ حکومت عطا کی کہ قیامت تک آنے والی کوئی سلطنت بھی ان کی سلطنت جیسی نہیں ہو سکتی، کیونکہ انھوں نے دعا کی تھی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [صٓ: ۳۵] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“
➌ { وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ …:} یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کا حصہ تھا کہ ان تمام نعمتوں پر مغرور ہونے کے بجائے انھوں نے انھیں اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھا اور اس کا شکر ادا کیا۔
➍ { الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْرٍ …:} ”جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی“ سب پر فضیلت کا دعویٰ اس لیے نہیں کیا کہ موسیٰ علیہ السلام کو اس دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا تھا اور داؤد اور سلیمان علیھما السلام جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر چلتے تھے، یہ جانتے ہوئے تمام بندوں پر فضیلت کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے اور اس لیے کہ تمام اولاد آدم پر فضیلت تو صرف خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ أَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَ أَوَّلُ مُشَفَّعٍ] [مسلم، الفضائل، باب تفضیل نبینا صلی اللہ علیہ وسلم علی جمیع الخلائق…: ۲۲۷۸] ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں اور پہلا شخص ہوں جس سے قبر پھٹے گی اور پہلا سفارش کرنے والا ہوں اور پہلا شخص ہوں جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔“
➋ {” عِلْمًا “} کی تنوین تنکیر کے لیے بھی ہو سکتی ہے، جس سے ایک قسم کا علم مراد ہو، یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک علم عطا کیا جو دوسروں کو عطا نہیں کیا گیا۔ مراد پرندوں کی بولی کا علم ہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”ہمیں ان دو پیغمبروں کے سوا کسی کے متعلق معلوم نہیں کہ ان کو یہ علم دیا گیا ہو۔“ اور یہ تنوین تعظیم کے لیے بھی ہو سکتی ہے، یعنی ہم نے ان دونوں کو عظیم الشان علم عطا کیا، جس میں نبوت و حکمت، قضا و سلطنت، پرندوں کی بولی اور سائنس کے علوم شامل تھے۔ جن کی بدولت ان کے زمانے میں ان کی سلطنت برّی، بحری اور فضائی اعتبار سے اپنے دور کی سب سے طاقت ور حکومت تھی، بلکہ سلیمان علیہ السلام کو تو وہ حکومت عطا کی کہ قیامت تک آنے والی کوئی سلطنت بھی ان کی سلطنت جیسی نہیں ہو سکتی، کیونکہ انھوں نے دعا کی تھی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [صٓ: ۳۵] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“
➌ { وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ …:} یہ بھی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کا حصہ تھا کہ ان تمام نعمتوں پر مغرور ہونے کے بجائے انھوں نے انھیں اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھا اور اس کا شکر ادا کیا۔
➍ { الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْرٍ …:} ”جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی“ سب پر فضیلت کا دعویٰ اس لیے نہیں کیا کہ موسیٰ علیہ السلام کو اس دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا تھا اور داؤد اور سلیمان علیھما السلام جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر چلتے تھے، یہ جانتے ہوئے تمام بندوں پر فضیلت کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے اور اس لیے کہ تمام اولاد آدم پر فضیلت تو صرف خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ أَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَ أَوَّلُ مُشَفَّعٍ] [مسلم، الفضائل، باب تفضیل نبینا صلی اللہ علیہ وسلم علی جمیع الخلائق…: ۲۲۷۸] ”میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں اور پہلا شخص ہوں جس سے قبر پھٹے گی اور پہلا سفارش کرنے والا ہوں اور پہلا شخص ہوں جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15-1سورت کے شروع میں فرمایا گیا تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے سکھلایا جاتا ہے اس کی دلیل کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کا مختصرا قصہ بیان فرمایا اور اب دوسری دلیل حضرت داؤد ؑ و سلیمان ؑ کا یہ قصہ ہے انبیا (علیہم السلام) کے یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں علم سے مراد نبوت کے علم کے علاوہ وہ علم ہے جن سے حضرت داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو بطور خاص نوازا گیا تھا جیسے حضرت داؤد ؑ کو لوہے کی صنعت کا علم اور حضرت سلیمان ؑ کو جانوروں کی بولیوں کا علم عطا کیا گیا تھا ان دونوں باپ بیٹوں کو اور بھی بہت کچھ عطا کیا گیا تھا لیکن یہاں صرف علم کا ذکر کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ علم اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ نیز ہم نے داؤد اور سلیمان [14] کو علم [15] عطا کیا وہ دونوں کہنے لگے ہر طرح کی تعریف اس اللہ کو سزاوار ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔
[14] سیدنا داؤد علیہ السلام کو بادشاہی کیسے ملی؟
حضرت داؤدؑ کے چھ اور بھائی تھے آپ سب سے چھوٹے تھے۔ ریوڑ چڑایا کرتے تھے۔ پست قامت اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ تیر اندازی اور نشانہ بازی میں خوب ماہر تھے اور یہ آپ کی پیشہ ورانہ ضرورت تھی۔ جالوت سے لڑائی کے وقت یہ طالوت کے لشکر میں محض ایک سپاہی تھے۔ نشانہ بازی میں مہارت کی بنا پر آپ نے فلاخن میں ایک پتھر کا نشانہ بنا کر جالوت کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ بعد میں طالوت نے اپنی بیٹی کا ان سے نکاح کر دیا۔ اسی طرح طالوت کے بعد بادشاہی بھی ان کی طرف منتقل ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اور یہ تفصیل سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 251 کے تحت پہلے گزر چکی ہے۔ پھر ان کی اولاد انیس بیٹے تھے۔ ان میں سے حضرت سلیمانؑ ہی سب سے چھوٹے تھے اللہ تعالیٰ نے نبوت اور بادشاہی کے لئے انھیں ہی منتخب فرمایا تھا۔
[15] علم سے مراد علم شریعت بھی ہو سکتا ہے۔ حکمرانی اور جہاں بانی کا علم بھی۔ لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کا علم بھی اور یہ علم بھی اگر اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے مزید انعامات سے نوازے۔ مندرجہ بالا مفاہیم میں سے اس مقام پر چوتھا مفہوم ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
[15] علم سے مراد علم شریعت بھی ہو سکتا ہے۔ حکمرانی اور جہاں بانی کا علم بھی۔ لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کا علم بھی اور یہ علم بھی اگر اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے مزید انعامات سے نوازے۔ مندرجہ بالا مفاہیم میں سے اس مقام پر چوتھا مفہوم ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
داؤد اور سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔
داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے { ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3094]
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ کر لکھا کہ ان دونوں پیغمبروں کو جو نعمت دی گئی تھی اس سے افضل نعمت کیا ہو گی۔
داؤد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے اس سے مراد مال کی وراثت نہیں بلکہ ملک ونبوت کی وراثت ہے۔ اگر مالی میراث مراد ہوتی تو اس میں صرف سلیمان علیہ السلام کا نام نہ آتا کیونکہ داؤد کی سو (100) بیویاں تھیں۔ انبیاء علیہم السلام کی مال کی میراث نہیں بٹتی۔ چنانچہ سید الانبیاء علیہ السلام کا ارشاد ہے { ہم جماعت انبیاء ہیں ہمارے ورثے نہیں بٹا کرتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3094]
سلیمان اللہ علیہ السلام اللہ کی نعمتیں یاد کرتے ہیں فرماتے ہیں یہ پورا ملک اور یہ زبردست طاقت کہ انسان، جن، پرند سب تابع فرمان ہیں، پرندوں کی زبان بھی سمجھ لیتے ہیں یہ خاص اللہ کا فضل و کرم ہے۔ جو کسی انسان پر نہیں ہوا۔ بعض جاہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت پرند بھی انسانی زبان بولتے تھے۔ یہ محض ان کی بےعلمی ہے بھلا سمجھو تو سہی اگر واقعی یہی بات ہوتی تو پھر اس میں سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت ہی کیا تھی۔
جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔
ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔
جسے آپ اس فخر سے بیان فرماتے کہ ہمیں پرندوں کی زبان سکھا دی گئی پھر تو ہر شخص پرند کی بولی سمجھتا اور سلیمان علیہ السلام کی خصوصیت جاتی رہتی۔ یہ محض غلط ہے پرند اور حیوانات ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ان کی بولیاں بھی ایسی ہی رہیں۔ یہ خاص اللہ کا فضل تھا کہ سلیمان علیہ السلام ہر چرند پرند کی زبان سمجھتے تھے۔
ساتھ ہی یہ نعمت بھی حاصل ہوئی تھی۔ کہ ایک بادشاہت میں جن جن چیزوں کی ضروت ہوتی ہے سب سلیمان علیہ السلام کو قدرت نے مہیا کر دی تھیں۔ یہ تھا اللہ کا کھلا احسان آپ پر۔
مسند امام احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں داؤد علیہ السلام بہت ہی غیرت والے تھے جب آپ گھر سے باہر جاتے تو دروازے بند کر جاتے پھر کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی ایک مرتبہ آپ اسی طرح باہر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک بیوی صاحبہ کی نظر اٹھی تو دیکھتی ہیں کہ گھر کے بیچوں بیچ ایک صاحب کھڑے ہیں حیران ہو گئیں اور دوسروں کو دکھایا۔ آپس میں سب کہنے لگیں یہ کہاں سے آ گئے؟ اللہ کی قسم داؤد علیہ السلام بھی آ گئے آپ نے بھی انہیں کھڑا دیکھا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا وہ جسے کوئی دروازہ یا کوئی روک نہ سکے وہ جو کسی بڑے سے بڑے کی مطلق پرواہ نہ کرے۔
داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ } ۱؎ [مسند احمد:419/2:ضعیف]
سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔
داؤد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمانے لگے مرحبا مرحبا آپ تو ملک الموت ہیں اسی وقت ملک الموت نے آپ کی روح قبض کی۔ سورج نکل آیا اور آپ پر دھوپ آ گئی تو سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤد علیہ السلام پر سایہ کریں انہوں نے اپنے پر کھول کر ایسی گہری چھاؤں کر دی کہ زمین پر اندھیرا سا چھا گیا پھر حکم دیا کہ ایک ایک کر کے اپنے سب پروں کو سمیٹ لو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرندوں نے پھر پر کیسے سمیٹے؟ آپ نے فرمایا اپنا ہاتھ سمیٹ کر بتلایا کہ اس طرح۔ اس پر اس دن سرخ رنگ گدھ غالب آ گئے۔ } ۱؎ [مسند احمد:419/2:ضعیف]
سلیمان علیہ السلام کا لشکر جمع ہوا جس میں انسان جن پرند سب تھے۔ آپ سے قریب انسان تھے پھر جن تھے پرند آپ کے سروں پر رہتے تھے۔ گرمیوں میں سایہ کر لیتے تھے۔ سب اپنے اپنے مرتبے پر قائم تھے۔ جس کی جو جگہ مقررر تھی وہ وہیں رہتا۔
جب ان لشکروں کو لے کر سلیمان علیہ السلام چلے۔ ایک جنگل پر گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کا لشکر تھا۔ سلیمان علیہ السلام لشکر کو دیکھ کر ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ جاؤ اپنے اپنے سوراخوں میں چلی جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر سلیمان علیہ السلام کا لشکر چلتا ہوا تمہیں روند ڈالے اور انہیں علم بھی نہ ہو۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔
مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ } [صحیح بخاری:3019]
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس چیونٹی کا نام ترس تھا یہ بنو شیصان کے قبیلے سے تھی۔ تھی بھی لنگڑی بقدر بھیڑیئے کے اسے خوف ہوا کہیں سب روندی جائیں گی اور پس جائیگی یہ سن کر سلیمان علیہ السلام کو تبسم بلکہ ہنسی آ گئی اور اسی وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں مثلا پرندوں اور حیوانوں کی زبان سکھا دینا وغیرہ۔ نیز جو نعمتیں تو نے میرے والدین پر انعام کی ہیں کہ وہ مسلمان مومن ہوئے وغیرہ۔ اور مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جن سے تو خوش ہو اور جب میری موت آ جائے تو مجھے اپنے نیک بندوں اور بلند رفقاء میں ملادے جو تیرے دوست ہیں۔
مفسرین کا قول ہے کہ یہ وادی شام میں تھی۔ بعض اور جگہ بتاتے ہیں۔ یہ جیونٹی مثل مکھیوں کے پردار تھی۔ اور بھی اقوال ہیں نوف بکالی کہتے ہیں یہ بھیڑئیے کے برابر تھی۔ ممکن ہے اصل میں لفظ ذباب ہو یعنی مکھی کے برابر اور کاتب کی غلطی وہ ذیاب لکھ دیا گیا ہو یعنی بھیڑیا۔ سلیمان علیہ السلام چونکہ جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اس کی بات کو بھی سمجھ گئے اور بے اختیار ہنسی آ گئی۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام استسقاء کے لیے نکلے تو دیکھا کہ ایک چیونٹی الٹی لیٹی ہوئی اپنے پاؤں آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے دعا کر رہی ہے کہ اے اللہ ہم بھی تیری مخلوق ہیں پانی برسنے کی محتاجی ہمیں بھی ہے۔ اگر پانی نہ برسا تو ہم ہلاک ہو جائیں گے اس چیونٹی کی یہ دعا سن کر آپ نے لوگوں میں اعلان کیا لوٹ چلو کسی اور ہی کی دعا سے تم پانی پلائے گئے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نبیوں میں سے کسی نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے سوراخ میں آگ لگانے کا حکم دے دیا اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے پیغمبر محض ایک چونٹی کے کاٹنے پر تو نے ایک گروہ کے گروہ کو جو ہماری تسبیح خواں تھا۔ ہلاک کر دیا۔ تجھے بدلہ لینا تھا تو اسی سے لیتا۔ } [صحیح بخاری:3019]