اور اپنی لاٹھی پھینک۔ تو جب اس نے اسے دیکھا کہ حرکت کر رہی ہے، جیسے وہ ایک سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر لوٹا اور واپس نہیں مڑا۔ اے موسیٰ! مت ڈر، بے شک میں، میرے پاس رسول نہیں ڈرتے۔
En
اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔ جب اُسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت۔ ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے
تو اپنی ﻻٹھی ڈال دے، موسیٰ نے جب اسے ہلتا جلتا دیکھا اس طرح کہ گویا وه ایک سانﭗ ہے تو منھ موڑے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا، اے موسیٰ! خوف نہ کھا، میرے حضور میں پیغمبر ڈرا نہیں کرتے
En
(آیت 10) ➊ {وَاَلْقِعَصَاكَفَلَمَّارَاٰهَاتَهْتَزُّ …: ”جَآنٌّ“} اصل میں چھوٹے سفیدسانپ کو کہتے ہیں۔ سورۂ اعراف (۱۰۷) اور شعراء (۳۲) میں اس کے لیے {”ثُعْبَانٌ“} کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی بڑا سانپ (اژدہا) ہے۔ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ شروع میں {”جَآنٌّ“} تھا، پھر {”ثُعْبَانٌ“} بن گیا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اول سٹک سی بن گئی تھی پتلی، جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہو گئی بڑھ کر۔“ (موضح) یا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سانپ حجم میں اژدہا تھا، مگر تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔ ➋ { يٰمُوْسٰىلَاتَخَفْ …:} موسیٰ علیہ السلام کے خوف زدہ ہو کر پیٹھ پھیر کر لوٹنے سے ظاہر ہے کہ انھیں اس سے پہلے نہ اپنے نبی بنائے جانے کا علم تھا، نہ یہ معجزات عطا کیے جانے کا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہلی وحی پر سخت خوف زدہ ہو گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ”اے موسیٰ! ڈرو نہیں، رسول میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔“ بعض حضرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدائش سے بھی پہلے عالم الغیب باور کروانے پر اصرار کرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10-1اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم الغیب نہیں ہوتے، ورنہ موسیٰ ؑ اپنے ہاتھ کی لاٹھی سے نہ ڈرتے دوسرا، طبعی خوف پیغمبر کو بھی لا حق ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی بالآخر انسان ہی ہوتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ اپنی لاٹھی تو ذرا پھینکو، موسیٰ نے جب لاٹھی پھینکی تو دیکھا کہ وہ یوں حرکت کر رہی ہے جیسے سانپ ہو۔ آپ پیٹھ پھیر کر جو بھاگے تو پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ہم نے کہا) موسیٰ! ڈرو نہیں۔ میرے حضور رسول [10] ڈرا نہیں کرتے۔
[10] نبی کو مبعوث سے پہلے اپنے نبی کا علم نہیں ہوتا:۔
اس آیت سے کئی امور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰؑ کی لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ، آپ کو سب سے پہلے اور اسی مقام پر عطا ہوا تھا۔ یہ لاٹھی زمین پر پڑتے ہی اژدہا کی شکل کا بڑا سانپ بن گیا جس میں پھرتی پتلے سانپ کی تھی۔ دوسرے یہ کہ چونکہ یہ پہلا موقع تھا اس لئے موسیٰؑ خود بھی اس سانپ سے ڈر گئے تھے۔ تیسرے یہ کہ اس وقت ہی آپ کو معلوم ہوا کہ منصب رسالت آپ کے سپرد کیا جا رہا ہے اس سے پہلے آپ کو قطعی طور پر علم نہ تھا کہ آپ کو نبوت عطا ہو گی اور نبوت یا رسالت عطا ہونے کے وقت بھی طبیعت گرانبار ہو جاتی ہے اور کچھ نامعلوم سا خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غار حرا میں ایسا خوف لاحق ہوا تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ”رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔