تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور سرکشوں کے لیے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ ’ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں؟ یا خود اپنی مدد کر سکتے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ عابد ومعبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں ‘۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔
آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیاکی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جا کر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی و غم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لیے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کر لیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔
لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کر دیں۔ سورۃ ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’ ان کا یہ جھگڑا یقیناً ہو گا ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر من صفات ذلك اليوم العظيم وما فيه من الثوابِ والعقاب، فقال: {وأُزْلِفَتِ الجنَّةُ}؛ أي: قُرِّبَتْ {للمتَّقينَ}: ربَّهم، الذين امتثلوا أوامره، واجتنبوا زواجِرَه واتَّقوا سَخَطَهُ وعقابَه. {وبُرِّزَتِ الجحيمُ}؛ أي: بُرِّزَتْ واستَعَدَّتْ بجميع ما فيها من العذاب {للغاوينَ}: الذين أوْضَعوا في معاصي الله، وتجرؤوا على محارمِهِ، وكذَّبوا رسلَه، وردُّوا ما جاؤوهم به من الحقِّ، {وقيلَ لهم أينَ ما كنتُم تعبُدونَ. من دونِ الله هل يَنصُرونَكم أو يَنتَصِرونَ}: بأنفسِهِم؛ أي: فلم يكن من ذلك من شيءٍ، وظهر كَذِبُهم وخِزْيُهم، ولاحتْ خسارتُهم وفضيحتُهم، وبان ندمُهم، وضلَّ سعيهم. {فكُبْكِبوا فيها}؛ أي: ألقوا في النار {هم}؛ أي: ما كانوا يعبدون، {والغاوونَ}: العابدونَ لها، {وجنودُ إبليسَ أجْمعونَ}: من الإنس والجنِّ، الذين أزَّهم إلى المعاصي أزًّا، وتسلَّط عليهم بشركِهِم وعدم إيمانهم، فصاروا من دعاتِهِ والساعينَ في مرضاتِهِ، وهم ما بين داعٍ لطاعتِهِ ومجيبٍ لهم ومقلدٍ لهم على شركهم.