ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 90

وَ اُزۡلِفَتِ الۡجَنَّۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۹۰﴾
اور متقی لوگوں کے لیے جنت قریب لائی جائے گی۔ En
اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی
En
اور پرہیزگاروں کے لیے جنت بالکل نزدیک ﻻدی جائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 91،90) {وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ …:} ابراہیم علیہ السلام نے { يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ } کا مزید نقشہ بیان کیا ہے کہ جنت متقین کے قریب لائی جائے گی اور وہ اس کے نظارے سے لطف اندوز ہوں گے، اسی طرح جہنم گمراہوں کو میدانِ حشر ہی میں دکھائی دینے لگے گی جو ان کا ٹھکانا بننے والی ہے، تاکہ جلد از جلد ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا مل جائے۔ { غَاوِيْنَ } (گمراہوں) سے مراد یہاں مشرکین ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں صراحت آ رہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

90۔ (اس دن) جنت پرہیزگاروں کے قریب لائی جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نیک لوگ اور جنت ٭٭
جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب و زینت کے ساتھ موجود ہو گی۔
اور سرکشوں کے لیے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ ’ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں؟ یا خود اپنی مدد کر سکتے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ عابد ومعبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں ‘۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔
ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہو گئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔
آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیاکی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جا کر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی و غم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لیے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کر لیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔
لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کر دیں۔ سورۃ ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’ ان کا یہ جھگڑا یقیناً ہو گا ‘۔
ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقیناً اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ جنت قریب کر دی جائے گی ﴿ لِلْ٘مُتَّقِیْنَ متقین کے یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں۔
﴿ وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلْغٰوِیْنَ گمراہ لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ ۰۰مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَ اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں؟ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔
﴿ فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمْ ان کو یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالْغَاوٗنَ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَ اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر من صفات ذلك اليوم العظيم وما فيه من الثوابِ والعقاب، فقال: {وأُزْلِفَتِ الجنَّةُ}؛ أي: قُرِّبَتْ {للمتَّقينَ}: ربَّهم، الذين امتثلوا أوامره، واجتنبوا زواجِرَه واتَّقوا سَخَطَهُ وعقابَه. {وبُرِّزَتِ الجحيمُ}؛ أي: بُرِّزَتْ واستَعَدَّتْ بجميع ما فيها من العذاب {للغاوينَ}: الذين أوْضَعوا في معاصي الله، وتجرؤوا على محارمِهِ، وكذَّبوا رسلَه، وردُّوا ما جاؤوهم به من الحقِّ، {وقيلَ لهم أينَ ما كنتُم تعبُدونَ. من دونِ الله هل يَنصُرونَكم أو يَنتَصِرونَ}: بأنفسِهِم؛ أي: فلم يكن من ذلك من شيءٍ، وظهر كَذِبُهم وخِزْيُهم، ولاحتْ خسارتُهم وفضيحتُهم، وبان ندمُهم، وضلَّ سعيهم. {فكُبْكِبوا فيها}؛ أي: ألقوا في النار {هم}؛ أي: ما كانوا يعبدون، {والغاوونَ}: العابدونَ لها، {وجنودُ إبليسَ أجْمعونَ}: من الإنس والجنِّ، الذين أزَّهم إلى المعاصي أزًّا، وتسلَّط عليهم بشركِهِم وعدم إيمانهم، فصاروا من دعاتِهِ والساعينَ في مرضاتِهِ، وهم ما بين داعٍ لطاعتِهِ ومجيبٍ لهم ومقلدٍ لهم على شركهم.