(آیت 89) {اِلَّامَنْاَتَىاللّٰهَبِقَلْبٍسَلِيْمٍ:} سلامتی والے دل سے مراد ایسا دل ہے جو کفر و شرک سے پاک ہو۔ بعض نے بدعت و جہالت اور اخلاق رذیلہ سے پاک ہونا بھی مراد لیا ہے۔ مال اور اولاد بھی کام آئیں گے تو اس کے جس کا دل کفر و شرک سے خالی ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
89-1قلب سلیم یا بےعیب دل سے مراد وہ دل ہے جو شرک سے پاک ہو۔ یعنی کلب مومن۔ اس لئے کافر اور منافق کا دل مریض ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں، بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن دل، بعض کے نزدیک دنیا کے مال متاع کی محبت سے پاک دل اور بعض کے نزدیک، جہالت کی تاریکیوں اور اخلاقی ذلالتوں سے پاک دل۔ یہ سارے مفہوم بھی صحیح ہوسکتے ہیں۔ اس لئے کہ قلب مومن مذکورہ تمام برائیوں سے پاک ہوتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
89۔ بجز اس کے کہ کوئی اطاعت گزار دل لے کر اللہ کے حضور [64] حاضر نہ ہو۔“
[64] آیت نمبر 88، 89 حضرت ابراہیمؑ کی دعا کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد۔ یعنی میرے باپ کی دولت اس دن اس کے کسی کام نہ آئے گی اور نہ ہی میں کام آ سکوں گا۔ کام آنے والی چیز تو صرف اللہ کی اطاعت ہو گی۔ جو شخص فرمانبردار دل لے کر حاضر ہوا وہی کامیاب ہو گا اور دوسری صورت میں قیامت کی یہ صفات اللہ تعالیٰ سے ارشاد ہوئی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔