ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 6

فَقَدۡ کَذَّبُوۡا فَسَیَاۡتِیۡہِمۡ اَنۡۢبٰٓؤُا مَا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶﴾
پس بے شک وہ جھٹلا چکے، سو ان کے پاس جلد ہی اس چیز کی خبریں آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ En
سو یہ تو جھٹلا چکے اب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوگی جس کی ہنسی اُڑاتے تھے
En
ان لوگوں نے جھٹلایا ہے اب ان کے پاس جلدی سے اس کی خبریں آجائیں گی جس کے ساتھ وه مسخرا پن کر رہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ { فَقَدْ كَذَّبُوْا …:} یعنی یہ لوگ صرف اعراض تک ہی نہیں رہے بلکہ انھوں نے صاف جھٹلا دیا اور اس سے بڑھ کر ان چیزوں کا مذاق بھی اڑانے لگے جن کے آنے کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی، جیساکہ{ كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ } سے معلوم ہو رہا ہے۔
➋ { فَسَيَاْتِيْهِمْ۠ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ:} یعنی پیغمبر نے انھیں جن چیزوں کے واقع ہونے کی خبریں دیں، جن کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے، وہ بہت جلد ان کی آنکھوں کے سامنے آ جائیں گی اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ حق تھیں۔ اس میں کفار کے لیے سخت وعید ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۴، ۵)۔
➌ { اَنْۢبٰٓؤُا نَبَأٌ } کی جمع ہے، کسی بڑے واقعہ کی خبر کو { نَبَأٌ } کہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِي الْمُرْسَلِيْنَ [الأنعام: ۳۴] اور بلاشبہ یقینا تیرے پاس ان رسولوں کی کچھ خبریں آئی ہیں۔ { اَنْۢبٰٓؤُا } جمع کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی بہت سی باتوں کا مذاق اڑاتے رہے تھے، مثلاً قیامت، دنیا میں ان کو ملنے والی سزا، مسلمانوں کا غالب آنا، فتح مکہ، جہنم کا عذاب اور زقوم کا درخت وغیرہ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

60-1یعنی جب صبح ہوئی اور فرعون کو پتہ چلا کہ نبی اسرائیل راتوں رات یہاں سے نکل گئے، تو اس کے پندار اقتدار کو بڑی ٹھیس پہنچی۔ اور سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ یہ لوگ تکذیب تو کر ہی چکے ہیں تو اب جلد ہی انھیں ان باتوں کی حقیقی خبریں [5] مل جائیں گے جن کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
[5] یہ لوگ تو بار بار سمجھانے کے باوجود اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور مخالفت پر اڑے بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کا علاج یہ نہیں کہ کوئی معجزہ ان پر نازل کیا جائے کہ وہ ایمان لانے پر مجبور ہو جائیں۔ بلکہ اب ان کا علاج صرف یہ باقی رہ گیا ہے کہ انہیں جوتوں سے سیدھا کیا جائے۔ اور عنقریب انہیں ایسی بھی خبریں ملتی رہیں گی جن سے ان کو واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ جن باتوں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی باتیں برحق اور درست تھیں۔ اس کی ایک شکل تو یہ تھی کہ ان کی تمام تر معاندانہ کوششوں کے باوجود اسلام کو غلبہ نصیب ہوتا چلا گیا اور یہ ہر ہر میدان میں مات کھاتے رہے اور ان کے لواحقین ایسی خبریں سنتے اور غم کے گھونٹ پیتے رہے اور پیتے رہیں گے اور دوسری صورت کی آخری منزل ان کی موت ہے۔ دنیا میں ہی جب یہ لوگ موت کی سرحد پر آن کھڑے ہوں گے تو ان پر ساری حقیقتیں منکشف ہوتی چلی جائیں گی۔ لہٰذا آپ ان کے غم میں ہلکان ہونا چھوڑ دیجئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔