ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 58

وَّ کُنُوۡزٍ وَّ مَقَامٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۵۸﴾
اور خزانوں سے اور عمدہ جگہ سے۔
اور خزانوں اور نفیس مکانات سے
اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 57 میں تا آیت 59 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

58-1یعنی فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں کیا نکلا، کہ پلٹ کر اپنے گھروں اور باغات میں آنا نصیب ہی نہیں ہوا، یوں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و مشیت سے انھیں تمام نعمتوں سے محروم کر کے ان کا وارث دوسروں کو بنادیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ اور خزانوں اور بہترین قیام گاہوں [40] سے نکال لائے۔
[40] فرعون کا تعاقب:۔
چند دنوں میں فرعون نے بنی اسرائیل کے تعاقب اور ان سے نپٹنے کے لئے ایک لشکر جرار اکٹھا کر لیا اور ان کی سرکوبی کے لئے روانہ ہو گئے۔ ان کا تو یہی خیال تھا کہ چند دنوں میں ہم انہیں گرفتار کر کے واپس لے آئیں گے اور جو مقابلہ پر آئیں گے انہیں قتل کر ڈالیں گے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ جن محلوں اور باغوں سے نکل کر وہ ان کے تعاقب میں جا رہے ہیں ان محلوں اور باغوں کو دوبارہ دیکھنا بھی ان کے نصیب میں نہ ہو گا۔ اور بنی اسرائیل کا شکار کرنے والا یہ لشکر خود موت کے ہاتھوں شکار بن جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔