(آیت 58،57) {فَاَخْرَجْنٰهُمْمِّنْجَنّٰتٍوَّعُيُوْنٍ …:} چند ہی دنوں میں فرعون نے بنی اسرائیل کے تعاقب کے لیے ایک لشکر جرار تیار کر لیا۔ اس کے نزدیک تو یہ کام نہایت عقل مندی کا تھا کہ اس نے پورے ملک سے اپنی ساری قوت اکٹھی کرلی، تاکہ بنی اسرائیل کو زبردستی دوبارہ اپنی غلامی میں واپس لے آئے، یا انھیں دنیا سے مٹا دے، مگر اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب ہے۔ اس نے فرعون کی چال اسی پر پلٹ دی، اس کی سلطنت کے بڑے بڑے ستون پورے ملک سے اکٹھے ہو گئے، تمام فوجیں بھی یکجا ہو گئیں اور ایک ہی وقت میں سمندر میں غرق کر دی گئیں۔ اگر وہ بنی اسرائیل کے لیے فوجیں جمع نہ کرتا تو زیادہ سے زیادہ ایک قوم اس کے ہاتھ سے نکل جاتی، مگر اس کی سلطنت اور عیش و عشرت کے اسباب باقی رہتے۔ اب اس کی تدبیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود، اس کی افواج اور اس کے امراء و وزراء، جو اس کی سلطنت کا خلاصہ تھے، سب سمندر میں غرق ہو گئے۔ یہ اس قادر و مختار کا کام تھا کہ ایک طرف اس نے فرعون کو، اس کی پوری قوت کو اور اس کی قوم کے سرداروں کو ان کے باغوں، چشموں، خزانوں اور عالی شان مقامات سے نکالا اور سمندر میں لا کر غرق کر دیا اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو خیریت کے ساتھ مصر سے نکال کر آزادی سے ہمکنار کر دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
57۔ اس طرح ہم فرعونیوں کو ان کے باغات اور چشموں سے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
فرعون اپنی فوج کو ایک بہت بڑا لشکر اور عام لوگوں کے گروہ کے ساتھ لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا۔ معذور لوگوں کے سوا جو اپنے عجز کے باعث ساتھ نہ جا سکتے تھے، کوئی پیچھے نہ رہا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَخْرَجْنٰهُمْ۠مِّنْجَنّٰتٍوَّعُیُوْنٍ﴾”پس ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا۔“ یعنی ہم نے ان کو ان کے خوبصورت اور اعلیٰ درجے کے باغات، ابلتے ہوئے چشموں اور ان کی کھیتیوں سے، جنھوں نے ان کی زمینوں کو بھر رکھا تھا، جن کو ان کے شہریوں اور دیہاتیوں نے آباد کر رکھا تھا، نکال دیا۔
﴿ وَّمَقَامٍكَرِیْمٍ ﴾”اور خوبصورت اقامت گاہوں سے نکالا“ جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتی تھیں اور ان میں غور کرنے والوں کو مشغول کر دیتی تھیں۔ انھوں نے طویل زمانے تک اس سازوسامان سے فائدہ اٹھایا، اور ایک لمبی عمر تک، کفر و فساد، بندوں کے ساتھ تکبر اور بہت زیادہ غرور کے ساتھ اس کی لذات و شہوات سے بہرہ مندر ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَوَاَوْرَثْنٰهَا ﴾”اسی طرح ہوا اور ہم نے ان تمام چیزوں کا وارث بنا دیا“ یعنی ان باغات، چشموں، کھیتیوں اور خوبصورت اقامت گاہوں کا ﴿ بَنِیْۤاِسْرَآءِیْلَ﴾”بنی اسرائیل کو“ جن کو اس سے پہلے انھوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے نہایت پر مشقت کام لیتے تھے … پاک ہے وہ ذات، جو جسے چاہتی ہے اقتدار عطا کرتی ہے اور جس سے چاہتی ہے اقتدار چھین لیتی ہے، جسے چاہتی ہے، اس کی اطاعت کی بنا پر عزت عطا کرتی ہے اور جسے چاہتی ہے اس کی نافرمانی کے بنا پر ذلت سے ہمکنار کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فخرج فرعونُ وجنودُه في جيش عظيم ونفيرٍ عامٍّ، لم يتخلَّف منهم سوى أهل الأعذار الذين منعهم العجزُ؛ قال الله تعالى: {فأخْرَجْناهم من جنَّاتٍ وعيونٍ}؛ أي: بساتين مصر وجنانها الفائقة وعيونها المتدفِّقة وزروع قد ملأت أراضيهم وعمرت بها حاضرتهم وبواديهم، {ومقام كريم}: يُعْجِبُ الناظرين ويُلهي المتأمِّلين؛ تمتَّعوا به دهراً طويلاً، وقضوا بلذَّاتِهِ وشهواتِهِ عمراً مديداً على الكفر والعناد والتكبُّر على العباد والتيه العظيم، {كذلك وأوْرَثْناها}؛ أي: هذه البساتين والعيون والزُّروع والمقام الكريم {بني إسرائيلَ}: الذين جَعَلوهم من قَبْلُ عبيدَهم وسُخِّروا في أعمالهم الشاقَّة؛ فسبحان مَنْ يؤتي الملكَ مَنْ يشاءُ وينزِعُه عمَّن يشاءُ ويعزُّ من يشاءُ بطاعتِهِ، ويذلُّ من يشاء بمعصيتِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔