ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 56

وَ اِنَّا لَجَمِیۡعٌ حٰذِرُوۡنَ ﴿ؕ۵۶﴾
اور بے شک ہم یقینا سب چوکنے رہنے والے ہیں۔
اور ہم سب باسازو سامان ہیں
اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 56) {وَ اِنَّا لَجَمِيْعٌ حٰذِرُوْنَ:} یعنی اگرچہ وہ چھوٹا سا گروہ اور تھوڑے سے لوگ ہیں، مگر ہمیں ہر وقت ہوشیار اور چوکنا رہنا ہے اور ہر ایسے فتنے کا پہلے ہی سدباب کرنا ہے جو کسی وقت بھی پھیل سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس نے اپنی قوم کو ان کا پیچھا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ کہا کہ وہ قلیل تعداد والے چھوٹا سا گروہ ہیں، ان کے تعاقب میں کوئی مشکل درپیش نہیں، پھر یہ ذکر کیا کہ وہ ہمارے شدید دشمن ہیں اور انھوں نے ہمیں غصہ دلا دیا ہے، اس لیے ان کا ہر حال میں پیچھا کرنا ہو گا اور آخر میں اس نے لازمی احتیاطی تدبیر کے طور پر ان کے تعاقب کو ضروری قرار دیا۔ یہ سب باتیں اس نے اپنے خوف کو چھپانے کے لیے کیں کہ اتنا بڑا بادشاہ ہو کر ان بے سر و سامان لوگوں سے ڈر رہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

56۔-1اس لیے ان کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں مستعد ہونے کی ضرورت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ اور ہم یقیناً ایک مسلح جماعت [39] ہیں“
[39] بنی اسرائیل کے ایمان لانے پر لڑکوں کو قتل کرنے کی سزا:۔
اس مقام پر بہت سے واقعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ یہ بات بھی پوری طرح معلوم نہیں ہو سکی کہ آیا فرعون نے ان جادوگروں کو بعض مصلحتوں کی بنا پر سولی چڑھانے کی دھمکی دی تھی یا فی الواقع چڑھایا بھی تھا۔ غالب گمان یہی ہے کہ اس نے یہ کام ضرور کیا ہو گا۔ وجہ یہ ہے کہ باطل پرست جب دلائل کے میدان میں شکست کھا جاتے ہیں تو تشدد اور اوچھے ہتھیاروں پر اتر آتے ہیں۔ پھر بھی ان کا غصہ رفع نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایسے مظالم کے نتائج بسا اوقات توقع کے خلاف نکلتے ہیں اور جس کو جتنی قوت سے دبانے کی کوشش کی جائے اتنی ہی قوت سے ابھرتی اور اپنی جڑیں مضبوط بنا لیتی ہے۔ مصر میں بھی یہی کچھ ہوا۔ بے شمار اسرائیلی حضرت موسیٰؑ پر ایمان لائے تو موجودہ فرعون نے اس اسرائیلیوں کے لئے وہی سزا تجویز کی جو اس کے باپ نے کی تھی۔ یعنی بنی اسرائیل کے نومولود سب لڑکوں کو مار ڈالا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے اور اس طرح بتدریج ان کی نسل کو ختم کر دیا جائے۔ یہ تو فرعون کا منصوبہ تھا لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ علاوہ ازیں فرعون کی قوم کے چند لوگ چوری چھپے حضرت موسیٰؑ پر ایمان لے آئے تھے۔
بنی اسرائیل کی شام کی طرف ہجرت:۔
جب فرعون کے مظالم کی حد ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ ملک مصر سے ہجرت کر کے ملک شام کی طرف جانے کا حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات نہایت خفیہ طریقہ سے یہاں سے نکل جائیں۔ اور پوری احتیاط ملحوظ رکھیں اور جب سفر شروع کریں تو جلد از جلد مصر کے ملک سے پار نکل جانے کی کوشش کریں فرعون یقیناً ان کا تعاقب کرے گا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ مصر کے اندر ہی تم لوگوں کے سر آن پہنچے۔ فرعون کو جب موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کی روانگی کا علم ہوا تو بہت سٹ پٹایا۔ اس کے سارے منصوبے خاک میں مل رہے تھے اس نے ایک لشکر جرار تیار کرنے کا حکم دیا اور درباریوں سے کہنے لگا۔ یہ مٹھی بھر کمزور سی جماعت ہے اور ان لوگوں نے فرار کی راہ اختیار کر کے ہمیں خواہ مخواہ غصہ چڑھا دیا ہے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ فوراً ان کا تعاقب کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ہمارے مسلح اور جرار لشکر کے مقابلہ میں ان بے چاروں کی حقیقت ہی کیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی «حَاذِرُوْنَ» کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے «حَذِرُوْنَ» بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں۔ میں ارادہ کر چکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ «لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ» ۔
جناب باری کا ارشاد ہے کہ ’ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست و نابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند و بالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت و تاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل و نادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہو چکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا ‘۔