ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 42

قَالَ نَعَمۡ وَ اِنَّکُمۡ اِذًا لَّمِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿۴۲﴾
کہا ہاں اور یقینا تم اس وقت ضرور مقرب لوگوں سے ہو گے۔
فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلئے جاؤ گے
فرعون نے کہا ہاں! (بڑی خوشی سے) بلکہ ایسی صورت میں تم میرے خاص درباری بن جاؤ گے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 41 میں تا آیت 43 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ فرعون نے جواب دیا: ”ہاں (صلہ بھی ملے گا) اور تمہیں (ہمارے ہاں) کرسیاں بھی ملیں [32] گی۔
[32] نبی اور جادوگر کے کردار کا تقابل:۔
مقررہ وقت سے پہلے جب تمام جادوگر اطراف و اکناف سے دار الخلافہ پہنچ گئے تو انہوں نے مل کر فرعون سے سوال کیا کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو ہمیں کچھ معاوضہ یا انعام و ا کرام بھی ملے گا؟ جادوگروں کے اس سوال سے ان کی ذہنیت سامنے آجاتی ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں۔ پیٹ کے دھندے کے طور پر کرتے ہیں۔ اس سے بلند ان کا کوئی مطمع نظر ہوتا ہی نہیں۔ جبکہ نبی لوگوں کے معاوضہ سے مطلقاً بے نیاز ہوتا ہے وہ بے لوث ہو کر محض اللہ کی رضا مندی کی خاطر اپنا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ فرعون کی اس وقت جان پر بنی ہوئی تھی۔ جادوگروں کے اس سوال پر فوراً کہنے لگا۔ محض انعام و کرام کی کیا بات کرتے ہو اگر تم کامیاب ہو گئے میں انعام و اکرام کے بدلہ تمہیں بلند مناصب بھی دوں گا اور تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔