(آیت 3) {لَعَلَّكَبَاخِعٌنَّفْسَكَ …:} اس سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ ان بدبختوں کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر رنجیدہ نہ ہوں، قرآن سے بڑا معجزہ کوئی نہیں، وہ آپ نے انھیں دکھلا دیا، اب بھی ایمان نہیں لاتے تو ان پر اتنا غم کرنے کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے سورۂ کہف کی آیت (۶) اور سورۂ فاطر کی آیت (۸)کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3-1نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانیت سے جو ہمدردی اور ان کی ہدایت کے لئے جو تڑپ تھی، اس میں اس کا اظہار ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ (اے نبی!) اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس غم میں شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک ہی کر [2] ڈالیں گے
[2] کفار کے ایمان نہ لانے پر آپ کی پریشانی کی وجوہ :۔
آپ کی یہ انتہائی آرزو تھی کہ کفار مکہ ایمان لے آئیں اور جب وہ ایمان لانے کے بجائے معاندانہ روش اختیار کرتے تو آپ کو اتنا ہی شدید صدمہ ہوتا تھا۔ اس کی وجوہ کئی تھیں۔ ایک یہ کہ آپ خلق خدا کے لئے نہایت ہمدردانہ اور مشفقانہ جذبات رکھتے تھے۔ آپ جانتے تھے کہ یہ لوگ میری مخالفت کر کے جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ لہٰذا آپ کو ان کی اس مخالفت سے شدید دکھ ہوتا تھا۔ دوسری وجہ فطری تھی۔ انسان جس کام میں اپنی تمام تر کوششیں صرف کر رہا ہو اگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نظر نہ آرہا ہو تو وہ مایوس ہو جاتا ہے اور اسے سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ تیسری وجہ یہ تھی جس میں دوسرے مسلمان بھی شامل تھے۔ کہ اگر یہ لوگ اسلام قبول کر لیتے تو اسلام کو خاصی تقویت پہنچ سکتی تھی۔ بصورت دیگر مسلمانوں کی ایذاؤں اور مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔ ان وجوہ کی بنا پر آپ کفار کے انکار پر شدید افسردہ اور غمگین رہتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ انہیں راہ راست پر لانا آپ کے ذمہ نہیں اور جو کام آپ کے ذمہ ہے وہ آپ کر ہی رہے ہیں۔ آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑیئے اس سے نپٹنا میرا کام ہے۔ آپ بس اپنا کام کرتے جائیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔