تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ﴿۲﴾
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 2) {تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ:} یہ تمہیدی فقرہ اس مضمون کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے جو اس سورت میں آگے بیان ہوا ہے۔ کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی (معجزہ) مانگتے تھے، تاکہ اسے دیکھ کر انھیں اطمینان ہو جائے کہ آپ واقعی یہ پیغام اللہ کی طرف سے لائے ہیں۔ فرمایا، اگر کسی کو ایمان لانے کے لیے نشانی کی طلب ہے تو کتابِ مبین کی یہ آیات موجود ہیں، مزید کسی معجزے کی ضرورت نہیں۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں ہر واقعہ کے آخر پر دہرایا ہے: «{ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً }» [الشعراء: ۸] ”بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے۔“ یعنی قرآن میں آنے والی ہر آیت اور ہر واقعہ ہی معجزہ ہے، جو قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ہے اور جس کا جواب لانے سے پوری مخلوق عاجز ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ یہ وضاحت کرنے والی کتاب [1] کی آیات ہیں
[1] کتاب سے مراد یہی خاص سورہ شعراء بھی ہو سکتی ہے اور پورا قرآن بھی۔ کیونکہ قرآن کی ہر سورہ اپنی ذات میں جامع ہے، مکمل ہے اور مستقل کتاب ہے۔ جیسا کہ پہلے اس کی وضاحت کی جاچکی ہے اور مبین سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب اپنا مدعا صاف صاف بیان کر رہی ہے اس میں کچھ ابہام نہیں جس کی کسی کو سمجھ نہ آ سکے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتاب کی آیات ہیں۔ کسی انسان سے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایسی آیات پیش کر سکے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تعارف قرآن کریم ٭٭
پھر فرمان ہے کہ ’ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں ‘۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» ۱؎ [35-فاطر:8] ’ تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر ‘۔
اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» ۱؎ [18-الكهف:6]، ’ کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے ‘۔
چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:99]، ’ اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ’ اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا ‘۔ ۱؎ [11-هود:118]
یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ’ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔ ۱؎ [12-يوسف:103]
سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ’ بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا ‘۔ ۱؎ [36-يس:30]
اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ’ ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی ‘۔ ۱؎ [23-المؤمنون:44]
یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ ‘
پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ’ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں ‘۔
شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ» ۱؎ [35-فاطر:8] ’ تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت وافسوس نہ کر ‘۔
اور آیت میں ہے آیت «فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا» ۱؎ [18-الكهف:6]، ’ کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچھے اپنی جان گنوادے ‘۔
چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں کہ لوگوں کو ایمان پر زبردستی کریں اگر یہ چاہتے تو کوئی ایسی چیز آسمان سے اتارتے کہ یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے مگر ہم کو تو ان کا اختیاری ایمان طلب کرتے ہیں۔
اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [10-یونس:99]، ’ اگر تیرا رب چاہے تو روئے زمین کے تمام لوگ مومن ہو جائیں کیا تو لوگوں پر جبر کرے گا؟ جب تک کہ وہ مومن نہ ہو جائیں ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ» ’ اگر تیرا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا ‘۔ ۱؎ [11-هود:118]
یہ اختلاف دین ومذہب بھی اس کا مقرر کیا ہوا ہے اور اس کی حکمت کو ظاہر کرنے والا ہے اس نے رسول بھیج دئیے کتابیں اتاردیں اپنی دلیل وحجت قائم کر دی انسان کو ایمان لانے نہ لانے میں مختار کر دیا۔ اب جس راہ پر وہ چاہے لگ جائے جب کبھی کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی بہت سے لوگوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔ «وَمَا أَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ» ’ تیری پوری آرزو کے باوجود اکثر لوگ بے ایمان ہی رہیں گے ‘۔ ۱؎ [12-يوسف:103]
سورۃ یاسین میں فرمایا «يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ» ’ بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا ‘۔ ۱؎ [36-يس:30]
اور آیت میں ہے «ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَىٰ كُلَّ مَا جَاءَ أُمَّةً رَّسُولُهَا كَذَّبُوهُ فَأَتْبَعْنَا بَعْضَهُم بَعْضًا وَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ» ’ ہم نے پے در پے پیغمبر بھیجے لیکن جس امت کے پاس ان کا رسول آیا اس نے اپنے رسول کو جھٹلانے میں کمی نہ کی ‘۔ ۱؎ [23-المؤمنون:44]
یہاں بھی اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے بھی اسے جھٹلایا ہے انہیں بھی اس کا بدلہ عنقریب مل جائے گا ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ یہ کس راہ ڈالے گئے ہیں؟ ‘
پھر اپنی شان وشوکت قدرت و عظمت عزت ورفعت بیان فرماتا ہے کہ ’ جس کے پیغام اور جس کے قاصد کو تم جھوٹا کہہ رہے ہو وہ اتنا بڑا قادر قیوم ہے کہ اسی ایک نے ساری زمین بنائی ہے اور اس میں جاندار اور بے جان چیزیں پیدا کی ہیں۔ کھیت پھل باغ وبہار سب اسی کے پیدا کردہ ہیں ‘۔
شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں لوگ زمین کی پیداوار ہیں ان میں جو جنتی ہیں وہ کریم ہیں اور جو دوزخی ہیں وہ کنجوس ہیں۔
اس میں قدرت خالق کی بہت سی نشانیاں ہیں یہ اس نے پھیلی ہوئی زمین کو اور اونچے آسمان کو پیدا کر دیا۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اس کے نبیوں کو جھوٹا کہتے ہیں اس کی کتابوں کو نہیں مانتے اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے منع کردہ کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔
بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔
بیشک تیرا رب ہرچیز پر غالب ہے اس کے سامنے مخلوق عاجز ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے نافرمانوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا تاخیر اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوتوں سے باز آ جائیں لیکن پھر بھی جب وہ راہ راست پر نہیں آتے تو انہیں سختی سے پکڑلیتا ہے اور ان سے پورا انتقام لیتا ہے ہاں جو توبہ کرے اور اس کی طرف جھکے اور اس کا فرمانبردار ہو جائے وہ اس پر اس کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم و کرم کرتا ہے۔