ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 190

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۹۰﴾
بے شک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان والے نہیں تھے۔
اس میں یقیناً نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کےاکثر مسلمان نہ تھے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 191،190){ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً …:} اس سورت میں سات انبیاء کے واقعات میں سے ہر ایک کے آخر میں یہ الفاظ آئے ہیں، ان سے مقصود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا اور جھٹلانے والوں کو متنبہ کرنا ہے کہ ان میں سے ہر واقعہ میں ایک عظیم نشانی ہے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ بار بار دہرانے سے بات زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

190۔ اس واقعہ میں (بھی) ایک نشانی [111] ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔
[111] سات مستند تاریخی واقعات کا ماحصل۔ اللہ کی نافرمانی اور رسول کی تکذیب کے نتیجہ میں اللہ کا عذاب :۔
سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے سات اقوام کا ذکر کیا ہے۔ قوم موسیٰ، قوم ابراہیم، قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب ان سب قوموں نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی۔ اگرچہ ان اقوام کے تمدنی حالات ایک دوسرے سے مختلف تھے اور انبیاء سے ان کی بحث و جدال اور سوال و جواب کا انداز بھی کچھ حد مختلف اور کچھ حد تک یکساں رہا۔ لیکن چونکہ ان کے بنیادی جرم کی نوعیت ایک جیسی تھی یعنی تکذیب رسالت لہٰذا ان کا انجام بھی ایک ہی جیسا رہا یعنی وہ بالآخر اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں اور ان پر ایمان والوں کو ان ظالموں کے ہاتھوں سے بھی اور اپنے عذاب سے بھی بچا لیا۔ ان سات مستند تاریخی واقعات کے بعد بھی اگر کوئی شخص رسول کی تکذیب اور اللہ کی نافرمانی کے انجام یعنی عذاب الٰہی میں باہمی ربط کو توڑنا چاہئے۔ اور عذاب الٰہی کے طبعی اسباب ڈھونڈنا شروع کر دے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سات مرتبہ فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ اور یہ خطاب صرف کفار مکہ کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے جو اس سبب اور اس کے انجام کے ربط کو توڑنا چاہتا ہے۔ اور قیامت تک کے لئے ہے۔ اور ایسے شخص وہی لوگ ہو سکتے ہیں۔ جو اللہ کو بھول کر دنیا کے بندے ہی بن کر رہ گئے ہوں۔ خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ ان مسلمہ تاریخی واقعات اور ان کے مسلمہ نتائج بیان کرنے کے بعد سلسلہ کلام اسی مضمون کی طرف پھرتا ہے جو اس سورۃ کے ابتداء میں بیان ہوا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔