تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ”اصحابِ مدین“ اور ”اصحاب الایکہ “ الگ الگ قومیں تھیں، کیونکہ اصحاب الایکہ پر {” يَوْمِ الظُّلَّةِ “} کا عذاب آیا، جب کہ اصحابِ مدین پر زلزلے اور صیحہ (چیخ) کا عذاب آیا تھا، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ }» [الأعراف: ۷۸] ”تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا تو انھوں نے اپنے گھر میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔“ اور فرمایا: «{ وَ اَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ }» [ھود: ۶۷] ”اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔“
بعض مفسرین نے سائبان کے عذاب کی تفصیل یہ بیان کی ہے کہ ”اصحاب الایکہ “ پر پہلے سات دن تک سخت لو چلتی رہی، جس سے ان کے بدن پک گئے، چشموں اور کنووں کا پانی سوکھ گیا۔ وہ گھبرا کر جنگل کی طرف نکلے، وہاں دھوپ کی شدت اور نیچے سے گرم زمین نے ان کے پاؤں کی کھال اتار دی، پھر ایک سیاہ بادل سائبان کی شکل میں نمودار ہوا، وہ سارے کے سارے خوشی کے مارے اس کے سائے میں جمع ہو گئے، اس وقت اچانک بادل سے آگ برسنا شروع ہوئی جس سے سب ہلاک ہو گئے۔ مگر ہم مفسرین کی اس تفصیل کو نہ سچا کہتے ہیں نہ جھوٹا، کیونکہ یہ نہ قرآن مجید سے ثابت ہے نہ صحیح حدیث سے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فكذَّبوه}؛ أي: صار التكذيب لهم وصفاً، والكفر لهم ديدناً، بحيث لا تفيدهم الآياتُ، وليس بهم حيلةٌ إلاَّ نزول العذاب، {فأخَذَهُم عذابُ يوم الظُّلَّة}: أظلَّتْهم سحابةٌ، فاجتمعوا تحتَها مستلذِّين لظلِّها غير الظليل، فأحرقتهم بالعذاب، فظلوا تحتها خامدين، ولديارهم مفارقين، ولدار الشقاء والعذاب نازلين، {إنَّه كان عذابَ يوم عظيم}: لا كَرَّةَ لهم إلى الدنيا فيستأنفوا العمل، ولا يُفَتَّرُ عنهم العذابُ ساعةً ولا هم يُنْظَرون. {إنَّ في ذلك لآيةً}: دالَّة على صدق شُعيب وصحَّةِ ما دعا إليه وبطلان ردِّ قومه عليه، {وما كان أكثرُهُم مؤمنينَ}: مع رؤيَتِهِم الآيات؛ لأنَّهم لا زكاءَ فيهم ولا خير لديهم؛ {وما أكثرُ الناس وَلَوْ حرصتَ بمؤمنين}. {وإنَّ ربَّكَ لهو العزيزُ}: الذي امتنعَ بقوته عن إدراك أحدٍ وقهرِ كلِّ مخلوقٍ.
{الرحيم}: الذي الرحمةُ وصفُه، ومن آثارها جميعُ الخيرات في الدُّنيا والآخرةِ، من حين أوجدَ اللهُ العالَمَ إلى ما نهاية له، ومن عزَّتِهِ أن أهلَكَ أعداءَه حين كذَّبوا رسلَه، ومن رحمتِهِ أن نَجَّى أولياءَه ومَنِ اتَّبعهم من المؤمنين.