ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 189

فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَہُمۡ عَذَابُ یَوۡمِ الظُّلَّۃِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۸۹﴾
چنانچہ انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو انھیں سائبان کے دن والے عذاب نے آپکڑا۔ یقینا وہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔
تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا، پس سائبان کے عذاب نے ان کو آ پکڑا۔ بےشک وہ بڑے (سخت) دن کا عذاب تھا
چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ وه بڑے بھاری دن کا عذاب تھا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 189) ➊ { فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ …:} اس عذاب کی کوئی تفصیل قرآن مجید یا کسی صحیح حدیث میں نہیں آئی۔ ظاہر الفاظ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے کچھ ٹکڑے گرانے کے مطالبے کے جواب میں ان پر بادل کا ایک سائبان بھیج دیا، جس سے ایسا عذاب برسا کہ وہ تباہ و برباد ہو گئے۔ اس عذاب کی حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، مگر خود اللہ تعالیٰ نے اس سوال کا جواب دیا کہ وہ کس قسم کا عذاب تھا، فرمایا یقینا وہ ایک عظیم دن کا عذاب تھا۔ جب وہ دن عظیم تھا تو اس میں اترنے والے عذاب کی عظمت کا خود اندازہ کر لو۔
➋ یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اصحابِ مدین اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں تھیں، کیونکہ اصحاب الایکہ پر { يَوْمِ الظُّلَّةِ } کا عذاب آیا، جب کہ اصحابِ مدین پر زلزلے اور صیحہ (چیخ) کا عذاب آیا تھا، جیسا کہ فرمایا: «{ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ [الأعراف: ۷۸] تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا تو انھوں نے اپنے گھر میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔ اور فرمایا: «{ وَ اَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ [ھود: ۶۷] اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔
بعض مفسرین نے سائبان کے عذاب کی تفصیل یہ بیان کی ہے کہ اصحاب الایکہ پر پہلے سات دن تک سخت لو چلتی رہی، جس سے ان کے بدن پک گئے، چشموں اور کنووں کا پانی سوکھ گیا۔ وہ گھبرا کر جنگل کی طرف نکلے، وہاں دھوپ کی شدت اور نیچے سے گرم زمین نے ان کے پاؤں کی کھال اتار دی، پھر ایک سیاہ بادل سائبان کی شکل میں نمودار ہوا، وہ سارے کے سارے خوشی کے مارے اس کے سائے میں جمع ہو گئے، اس وقت اچانک بادل سے آگ برسنا شروع ہوئی جس سے سب ہلاک ہو گئے۔ مگر ہم مفسرین کی اس تفصیل کو نہ سچا کہتے ہیں نہ جھوٹا، کیونکہ یہ نہ قرآن مجید سے ثابت ہے نہ صحیح حدیث سے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

189-1انہوں نے بھی کفار مکہ کی طرح آسمانی عذاب مانگا تھا، اللہ نے اس کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما دیا اور وہ اس طرح کے بعض روایات کے مطابق سات دن تک ان پر سخت گرمی اور دھوپ مسلط کردی، اس کے بعد بادلوں کا ایک سایہ آیا اور یہ سب گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچنے کے لئے اس سائے تلے جمع ہوگئے اور کچھ سکھ کا سانس لیا لیکن چند لمحے بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرز اٹھی اور ایک سخت چنگھاڑ نے انھیں ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سلا دیا یوں تین قسم کا عذاب ان پر آیا اور یہ اس دن آیا جس دن ان پر بادل سایہ فگن ہوا، اس لئے فرمایا کہ سائے والے دن کے عذاب نے انھیں پکڑ لیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

189۔ چنانچہ انہوں نے شعیب کو جھٹلا دیا تو سایہ والے دن کے عذاب نے انھیں آ پکڑا۔ بلا شبہ وہ بڑے سخت [110] دن کا عذاب تھا۔
[110] اس آیت سے چند باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک یہ کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ دو الگ الگ قومیں تھیں۔ اصحاب مدین پر زلزلہ اور اسی سے پیدا ہونے والی ہولناک آواز کا عذاب آیا تھا [7: 91، 11: 94] جبکہ اصحاب الایکہ پر سائے کے دن کا عذاب آیا تھا اگرچہ اس عذاب کی تفصیل کتاب و سنت میں کہیں مذکور نہیں تاہم اتنا ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ عذاب کی الگ نوع ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سخت گہرے اور گاڑھے بادل ان پر چھتری کی صورت میں محیط ہو گئے تھے۔ اور اس کے تادیر ان پر سایہ کئے رکھنے اور اس کی دہشت سے ان کی تباہی ہوئی تھی۔ اور ایسے ہی عذاب کا ان لوگوں نے مطالبہ کیا تھا۔ اور دوسرے یہ کہ ان قوموں کی طرف شعیبؑ ہی مبعوث ہوئے تھے اور یہ دونوں اقوام ایک دوسرے سے تھوڑے سے فاصلہ پر آباد تھیں اور یہ دونوں ہی تجارتی بد دیانتیاں کرتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔