تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ:} یہ {” اِنْ “} اصل میں {”إِنَّ“} ہے جس کا اسم {”نَا“} محذوف ہے: {” أَيْ وَ إِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِيْنَ“} یعنی ہمارا گمان تمھارے جھوٹے ہونے کے سوا کہیں جاتا ہی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔
اور آیت میں ہے کہ ’ انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیرے پاس ہے اور حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے ‘ اسی طرح ان جاہل کافروں نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادے۔
رسول اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”اللہ کو تمہارے اعمال بخوبی معلوم ہیں جس لائق تم ہو وہ خود کر دے گا۔ اگر تم اس کے نزدیک آسمانی عذاب کے قابل ہو تو بلا تاخیر تم پر آسمانی عذاب آ جائے گا اللہ ظالم نہیں کہ بے گناہوں کو سزادے۔“
سورۃ الأعراف میں تو فرمایا گیا ہے کہ ’ ایک زلزلے کے ساتھ ہی یہ سب ہلاک ہو گئے ‘۔ سورۃ ہود میں بیان ہوا ہے کہ ’ ان کی تباہی کا باعث ایک خطرناک منظر دل شکن چیخ تھی ‘ اور یہاں بیان ہوا کہ ’ انہیں سائبان کے دن عذاب نے قابو کر لیا ‘، تو تینوں مقامات پر تینوں کا ایک ایک کر کے ذکر اس مقام کی عبارت کی مناسبت کی وجہ سے ہوا ہے۔
سورۃ الاعراف میں ان کی اس خباثت کا ذکر ہے کہ ’ انہوں نے شعیب علیہ السلام کو دھمکایا تھا کہ اگر تم ہمارے دین میں نہ آئے تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو شہر بدر کر دیں گے ‘۔ چونکہ وہاں نبی علیہ السلام کے دل کو ہلانے کا ذکر تھا اس لیے عذاب بھی ان کے جسموں کو مع دلوں کو ہلادینے والے یعنی زلزلے اور جھٹکے کا ذکر ہوا۔
سورۃ ہود میں ذکر ہے کہ ’ انہوں نے اپنے نبی کو بطور مذاق کے کہا تھا کہ آپ تو بڑے بردبار اور بھلے آدمی ہیں ‘۔ مطلب یہ تھا کہ بڑے بکی بکواسی اور برے آدمی ہیں تو وہاں عذاب میں چیخ اور چنگھاڑ کا بیان ہوا۔
یہاں چونکہ ان کی آرزو آسمان کے ٹکڑے کے گرنے کی تھی تو عذاب کا ذکر بھی سائبان نما ابر کے ٹکڑے سے ہوا۔ «فسبحانه ما اعظم شانه» ۔
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اہل مدین پر تینوں عذاب آئے شہروں میں زلزلہ آیا جس سے خائف ہو کر حدود شہر سے باہر آ گئے۔ باہر جمع ہوتے ہی گھبراہٹ پریشانی اور بے کلی شروع ہو گئی تو وہاں سے بھگدڑ مچی لیکن شہر میں جانے سے ڈرے وہیں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ایک جگہ ہے ایک اس کے نیچے گیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کر کے سب کو آواز دی کہ یہاں آ جاؤ یہاں جیسی ٹھنڈک اور تسکین تو کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سنتے سب اس کے نیچے جمع ہو گئے کہ اچانک ایک چیخ کی آواز آئی جس سے کلیجے پھٹ گئے سب کے سب مرگئے۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”سخت گرج کڑک اور گرمی شروع ہوئی جس سے سانس گھٹنے لگے اور بے چینی حد کو پہنچ گئی۔ گھبراکر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہو گئے۔ یہاں بادل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک اور راحت حاصل کرنے کے لیے سب جمع ہوئے۔ وہیں آگ برسی جل بھن گئے۔“
یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ یقیناً یہ واقعہ سراسر عبرت اور قدرت الٰہی کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ان میں اکثر بے ایمان تھے اللہ تعالیٰ اپنے بد بندوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔ کوئی اسے مغلوب نہیں کر سکتا وہ اپنے نیک بندوں پر مہربان ہے انہیں بچالیا کرتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قالوا له مكذِّبين له رادِّين لقوله: {إنَّما أنتَ من المسحَّرينَ}: فأنت تَهْذي وتتكَلَّم كلامَ المسحور الذي غايتُهُ أن لا يؤاخَذَ به، {وما أنت إلاَّ بشرٌ مثلُنا}: فليس فيك فضيلةٌ اختصصتَ بها علينا حتى تَدْعُوَنا إلى اتِّباعك. وهذا مثل قول من قبلَهم ومَنْ بعدَهم، ممَّن عارضوا الرسل بهذه الشبهة، التي لم يزالوا يُدْلون بها ويَصولون ويتَّفِقون عليها؛ لاتفاقِهِم على الكفر، وتشابُهِ قلوبِهِم، وقد أجابتْ عنها الرسلُ بقولِهِم: {إنْ نَحْنُ إلاَّ بشرٌ مثلُكُم ولكن الله يمنُّ على مَن يشاءُ من عبادِهِ}. {وإن نَظُنُّكَ لَمِنَ الكاذبين}: وهذا جراءةٌ منهم وظلمٌ وقولُ زورٍ، قد انطووا على خلافِهِ؛ فإنه ما من رسول من الرسل واجَهَ قومَه ودعاهم وجادلهم وجادلوه؛ إلاَّ وقد أظهر الله على يديه من الآيات ما به يتيقَّنون صدقَه وأمانتَه، خصوصاً شعيباً عليه السلام، الذي يسمَّى خطيبَ الأنبياء؛ لحسن مراجعتِهِ قومه ومجادلَتِهِم بالتي هي أحسنُ؛ فإنَّ قومَه قد تيقَّنوا صدقَه وأنَّ ما جاء به حقٌّ، ولكنَّ إخبارَهم عن ظنِّ كذبِهِ كذبٌ منهم. {فأسْقِطْ علينا كِسَفاً من السماءِ}؛ أي: قطع عذاب تستأصلنا، {إن كنتَ من الصادقينَ}؛ كقول إخوانهم: {وإذْ قالوا اللهمَّ إن كان هذا هو الحقَّ من عندِكَ فأمطرْ علينا حجارةً من السماء أو ائْتِنا بعذابٍ أليم}، أو أنَّهم طلبوا بعضَ آيات الاقتراح التي لا يلزمُ تتميمُ مطلوبِ مَنْ سَألها.