ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 185

قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الۡمُسَحَّرِیۡنَ ﴿۱۸۵﴾ۙ
انھوں نے کہا توُ تو انھی لوگوں سے ہے جن پر زبردست جادو کیا گیا ہے۔ En
وہ کہنے لگے کہ تم جادو زدہ ہو
En
انہوں نے کہا تو تو ان میں سے ہے جن پر جادو کردیا جاتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 186،185) ➊ { قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ…:} یہ وہی جواب ہے جو قوم ثمود نے صالح علیہ السلام کو دیا تھا۔
➋ { وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ:} یہ { اِنْ } اصل میں {إِنَّ} ہے جس کا اسم {نَا} محذوف ہے: { أَيْ وَ إِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِيْنَ} یعنی ہمارا گمان تمھارے جھوٹے ہونے کے سوا کہیں جاتا ہی نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

185۔ وہ کہنے لگے ”تم تو ایک جادو [108] کے مارے ہوئے آدمی ہو
[108] قوم کا سیدنا شعیبؑ کو مجنون اور بشر کہہ کر جھٹلا دینا:۔
اس کے جواب میں قوم نے کہا۔ تمہاری عقل ٹھیک کام نہیں کرتی۔ تم تجارت کے گر اور راز کیا جانو۔ اگر ہم تمہاری باتوں پر لگ جائیں تو چند ہی دنوں میں اس میدان میں مات کھا جائیں اور سرمایہ بھی ہاتھ سے گنوا بیٹھیں کیونکہ مقابلہ بڑا سخت ہے۔ اور ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تمہارا یہ نبوت کا دعویٰ بھی بس ایک فریب ہی ہے۔ تم ہی ہمارے جیسے ایک محتاج انسان ہی ہو۔ تم میں ہم سے زائد کونسی خصوصیت ہے کہ ہم تمہیں ہی سمجھ لیں۔ اور تم اپنے آپ کو اپنے اس دعویٰ نبوت میں سچا سمجھتے ہو کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے دھمکاتے رہتے ہو وہ عذاب ہم پر لے آؤ۔ اور آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی ہم پر گرا دو۔ واضح رہے کہ قریش مکہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کے عذاب کا مطالبہ کیا تھا جیسا کہ سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 92 میں گزر چکا ہے۔ اور کفار مکہ کو بتلایا جا رہا ہے کہ تم سے پہلے بھی ایک قوم ایسے عذاب کا مطالبہ کر چکی ہے۔ پھر جو حشر اس قوم کا ہوا تھا وہی یا اس سے ملتا جلتا تمہارا بھی ہونے والا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین کی وہی حماقتیں ٭٭
ثمودیوں نے جو جواب اپنے نبی علیہ السلام کو دیا تھا وہی جواب ان لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کو دیا کہ تجھ پر تو کسی نے جادو کر دیا ہے تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔ تو ہم جیسا ہی انسان ہے اور ہمیں تو یقین ہے کہ تو جھوٹا آدمی ہے۔ اللہ نے تجھے نہیں بھیجا۔ اچھا تو اگر اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرادے۔ آسمانی عذاب ہم پر لے آ۔
جیسے قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے نہیں جب تک کہ تو عرب کے اس ریتلی زمین میں دریا نہ بہادے یہاں تک کہا کہ یا تو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گردے جیسے کہ تیرا خیال ہے یا تو اللہ تعالیٰ کو یا فرشتوں کو کھلم کھلا لے آ۔
اور آیت میں ہے کہ ’ انہوں نے کہا اے اللہ اگر یہ تیرے پاس ہے اور حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے ‘ اسی طرح ان جاہل کافروں نے کہا کہ تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادے۔
رسول اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ اللہ کو تمہارے اعمال بخوبی معلوم ہیں جس لائق تم ہو وہ خود کر دے گا۔ اگر تم اس کے نزدیک آسمانی عذاب کے قابل ہو تو بلا تاخیر تم پر آسمانی عذاب آ جائے گا اللہ ظالم نہیں کہ بے گناہوں کو سزادے۔‏‏‏‏
بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب ان پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی۔ کسی جگہ کسی سایہ میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہ ہوئی۔ تڑپ اٹھے بے قرار ہو گئے، سات دن کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف آ رہا ہے وہ آ کر ان کے سروں پر چھا گیا یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہو گئے تھے اس کے نیچے جابیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی ساتھ ہی زمین زور زور سے جھٹکے لینے لگی اور اس زور کی ایک آواز آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے جان نکل گئی اور سارے بہ یک آن تباہ ویران ہو گئے۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا۔
سورۃ الأعراف میں تو فرمایا گیا ہے کہ ’ ایک زلزلے کے ساتھ ہی یہ سب ہلاک ہو گئے ‘۔ سورۃ ہود میں بیان ہوا ہے کہ ’ ان کی تباہی کا باعث ایک خطرناک منظر دل شکن چیخ تھی ‘ اور یہاں بیان ہوا کہ ’ انہیں سائبان کے دن عذاب نے قابو کر لیا ‘، تو تینوں مقامات پر تینوں کا ایک ایک کر کے ذکر اس مقام کی عبارت کی مناسبت کی وجہ سے ہوا ہے۔
سورۃ الاعراف میں ان کی اس خباثت کا ذکر ہے کہ ’ انہوں نے شعیب علیہ السلام کو دھمکایا تھا کہ اگر تم ہمارے دین میں نہ آئے تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو شہر بدر کر دیں گے ‘۔ چونکہ وہاں نبی علیہ السلام کے دل کو ہلانے کا ذکر تھا اس لیے عذاب بھی ان کے جسموں کو مع دلوں کو ہلادینے والے یعنی زلزلے اور جھٹکے کا ذکر ہوا۔
سورۃ ہود میں ذکر ہے کہ ’ انہوں نے اپنے نبی کو بطور مذاق کے کہا تھا کہ آپ تو بڑے بردبار اور بھلے آدمی ہیں ‘۔ مطلب یہ تھا کہ بڑے بکی بکواسی اور برے آدمی ہیں تو وہاں عذاب میں چیخ اور چنگھاڑ کا بیان ہوا۔
یہاں چونکہ ان کی آرزو آسمان کے ٹکڑے کے گرنے کی تھی تو عذاب کا ذکر بھی سائبان نما ابر کے ٹکڑے سے ہوا۔ «فسبحانه ما اعظم شانه» ۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان و الحفیظ کہیں ٹھنڈک کا نام نہیں تھا تلملا اٹھے اس کے بعد ایک ابر اٹھا اور امڈھا۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پاکر اس نے دوسروں کو بلایا جب سب جمع ہو گئے تو ابر پھٹا اور اس میں سے آگ برسی۔‏‏‏‏ یہ بھی مروی ہے کہ ابر جو بطور سائبان کے تھا ان کے جمع ہوتے ہی ہٹ گیا اور سورج سے ان پر آگ برسی جس نے ان سب کا بھرتا بنا دیا۔‏‏‏‏
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل مدین پر تینوں عذاب آئے شہروں میں زلزلہ آیا جس سے خائف ہو کر حدود شہر سے باہر آ گئے۔ باہر جمع ہوتے ہی گھبراہٹ پریشانی اور بے کلی شروع ہو گئی تو وہاں سے بھگدڑ مچی لیکن شہر میں جانے سے ڈرے وہیں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ایک جگہ ہے ایک اس کے نیچے گیا اور اس کی ٹھنڈک محسوس کر کے سب کو آواز دی کہ یہاں آ جاؤ یہاں جیسی ٹھنڈک اور تسکین تو کبھی دیکھی ہی نہیں یہ سنتے سب اس کے نیچے جمع ہو گئے کہ اچانک ایک چیخ کی آواز آئی جس سے کلیجے پھٹ گئے سب کے سب مرگئے۔‏‏‏‏
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سخت گرج کڑک اور گرمی شروع ہوئی جس سے سانس گھٹنے لگے اور بے چینی حد کو پہنچ گئی۔ گھبراکر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہو گئے۔ یہاں بادل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک اور راحت حاصل کرنے کے لیے سب جمع ہوئے۔ وہیں آگ برسی جل بھن گئے۔‏‏‏‏
یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ یقیناً یہ واقعہ سراسر عبرت اور قدرت الٰہی کی ایک زبردست نشانی ہے۔ ان میں اکثر بے ایمان تھے اللہ تعالیٰ اپنے بد بندوں سے انتقام لینے میں غالب ہے۔ کوئی اسے مغلوب نہیں کر سکتا وہ اپنے نیک بندوں پر مہربان ہے انہیں بچالیا کرتا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

انھوں نے حضرت شعیب کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْ٘مُسَحَّرِیْنَ۠ تم اس شخص کی مانند (کلام کرتے) ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہو اور وہ ہذیانی کیفیت میں باتیں کر رہا ہو۔ ایسے شخص کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے کہ اس کا مواخذہ نہ کیا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثْلُنَااور تم ہماری ہی طرح کے انسان ہو۔ اس لیے تمھارے اندر ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے جس کی بنا پر تمھیں ہم پر کوئی اختصاص حاصل ہو، یہاں تک کہ تم ہم سے اپنی اتباع کا مطالبہ کرنے لگو۔ اس قسم کی بات ان سے پہلے لوگوں نے بھی کی اور ان کے بعد آنے والوں نے بھی کی اور اسی شبہ کی بنا پر انھوں نے رسولوں کی مخالفت کی اور ان پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ وہ دلوں کی مشابہت اور کفر پر اتفاق ہونے کی وجہ سے اس شبہ پر بھی متفق ہیں۔ رسولوں نے ان کے اس شبہ اور اعتراض کاان الفاظ میں جواب دیا: ﴿ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ (ابراہیم:14؍11) ہم کچھ نہیں مگر تم ہی جیسے انسان ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے۔ ﴿ وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَ٘مِنَ الْكٰذِبِیْنَ اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ یہ ان کی جرأت، ظلم اور قول باطل تھا وہ سب حضرت شعیب علیہ السلام کی مخالفت پر متفق تھے۔ جو کوئی بھی رسول اپنی قوم میں مبعوث ہوا اس نے اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی اور اپنی قوم کے ساتھ مجادلہ کیا اور انھوں نے بھی اس (نبی) سے مجادلہ کیا البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر ایسی ایسی نشانیاں ظاہر کیں جن کی بنا پر انھیں اس کی صداقت اور امانت پر یقین تھا۔ خاص طور پر شعیب علیہ السلام، جن کو اپنی قوم کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث و جدال کرنے کی بنا پر خطیب الانبیاء کہا جاتاہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کو آپ کی صداقت کا یقین تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ آپ کی دعوت حق ہے۔ مگر ان کا آپ کے بارے میں جھوٹ کا گمان کرتے ہوئے خبر دینا، ان کا جھوٹ تھا۔
﴿ فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ پس تم آسمان سے ایک ٹکڑا لا کر ہم پر گراؤ۔ یعنی تو ہم پر عذاب نازل کر دے جو ہماری جڑ کاٹ دے۔ ﴿ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰؔدِقِیْنَ اگر تو سچا ہے۔ ان کی یہ بات ان کے بھائی، دیگر کفار کے اس قول کی مانند تھی۔ ﴿ وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (الانفال:8؍32) اور آپ اس بات کو بھی یاد کیجیے جب انھوں نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔ یا انھوں نے بعض معجزات کا مطالبہ کیا جن کے سائل کے لیے مطلوب کو پورا کرنا لازم نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قالوا له مكذِّبين له رادِّين لقوله: {إنَّما أنتَ من المسحَّرينَ}: فأنت تَهْذي وتتكَلَّم كلامَ المسحور الذي غايتُهُ أن لا يؤاخَذَ به، {وما أنت إلاَّ بشرٌ مثلُنا}: فليس فيك فضيلةٌ اختصصتَ بها علينا حتى تَدْعُوَنا إلى اتِّباعك. وهذا مثل قول من قبلَهم ومَنْ بعدَهم، ممَّن عارضوا الرسل بهذه الشبهة، التي لم يزالوا يُدْلون بها ويَصولون ويتَّفِقون عليها؛ لاتفاقِهِم على الكفر، وتشابُهِ قلوبِهِم، وقد أجابتْ عنها الرسلُ بقولِهِم: {إنْ نَحْنُ إلاَّ بشرٌ مثلُكُم ولكن الله يمنُّ على مَن يشاءُ من عبادِهِ}. {وإن نَظُنُّكَ لَمِنَ الكاذبين}: وهذا جراءةٌ منهم وظلمٌ وقولُ زورٍ، قد انطووا على خلافِهِ؛ فإنه ما من رسول من الرسل واجَهَ قومَه ودعاهم وجادلهم وجادلوه؛ إلاَّ وقد أظهر الله على يديه من الآيات ما به يتيقَّنون صدقَه وأمانتَه، خصوصاً شعيباً عليه السلام، الذي يسمَّى خطيبَ الأنبياء؛ لحسن مراجعتِهِ قومه ومجادلَتِهِم بالتي هي أحسنُ؛ فإنَّ قومَه قد تيقَّنوا صدقَه وأنَّ ما جاء به حقٌّ، ولكنَّ إخبارَهم عن ظنِّ كذبِهِ كذبٌ منهم. {فأسْقِطْ علينا كِسَفاً من السماءِ}؛ أي: قطع عذاب تستأصلنا، {إن كنتَ من الصادقينَ}؛ كقول إخوانهم: {وإذْ قالوا اللهمَّ إن كان هذا هو الحقَّ من عندِكَ فأمطرْ علينا حجارةً من السماء أو ائْتِنا بعذابٍ أليم}، أو أنَّهم طلبوا بعضَ آيات الاقتراح التي لا يلزمُ تتميمُ مطلوبِ مَنْ سَألها.