(آیت 184) {وَاتَّقُواالَّذِيْخَلَقَكُمْوَالْجِبِلَّةَالْاَوَّلِيْنَ:} شعیب علیہ السلام نے گفتگو کا آغاز {”اَلَاتَتَّقُوْنَ“} سے کیا تھا، اب اسی تقویٰ کی تاکید کے لیے فرمایا کہ اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمھیں اور تم سے پہلی نسلوں کو پیدا فرمایا۔ اس نے اگر تمھیں پیدا کیا ہے تو ملیا میٹ بھی کر سکتا ہے۔ اس میں توحید کی بھی تلقین ہے کہ جب پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک نہیں تو عبادت میں اس کے لیے شریک کیوں بناتے ہو۔ امتِ مسلمہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی دلیل کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیا، فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَاالنَّاسُاعْبُدُوْارَبَّكُمُالَّذِيْخَلَقَكُمْوَالَّذِيْنَمِنْقَبْلِكُمْلَعَلَّكُمْتَتَّقُوْنَ }»[البقرۃ: ۲۱]”اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
184-1جبلۃ اور جبل مخلوق کے معنی میں ہے جس طرح دوسرے مقام پر شیطان کے بارے میں فرمایا۔ (وَلَقَدْاَضَلَّمِنْكُمْجِبِلًّاكَثِيْرًا ۭ اَفَلَمْتَكُوْنُوْاتَـعْقِلُوْنَ) 36۔ یس:62) اس نے تم میں سے بہت ساری مخلوق کو گمراہ کیا اس کا استعمال بڑی جماعت کے لیے ہوتا ہے۔ وھو الجمع ذو العدد الکثیر من الناس۔ فتح القدیر۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
184۔ اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔