ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 184

وَ اتَّقُوا الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الۡجِبِلَّۃَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۸۴﴾ؕ
اور اس سے ڈرو جس نے تمھیں اور پہلی مخلوق کو پیدا کیا۔
اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور پہلی خلقت کو پیدا کیا
اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 184) {وَ اتَّقُوا الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِيْنَ:} شعیب علیہ السلام نے گفتگو کا آغاز { اَلَا تَتَّقُوْنَ } سے کیا تھا، اب اسی تقویٰ کی تاکید کے لیے فرمایا کہ اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمھیں اور تم سے پہلی نسلوں کو پیدا فرمایا۔ اس نے اگر تمھیں پیدا کیا ہے تو ملیا میٹ بھی کر سکتا ہے۔ اس میں توحید کی بھی تلقین ہے کہ جب پیدا کرنے میں اس کا کوئی شریک نہیں تو عبادت میں اس کے لیے شریک کیوں بناتے ہو۔ امتِ مسلمہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی دلیل کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیا، فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ [البقرۃ: ۲۱] اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

184-1جبلۃ اور جبل مخلوق کے معنی میں ہے جس طرح دوسرے مقام پر شیطان کے بارے میں فرمایا۔ (وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا ۭ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ) 36۔ یس:62) اس نے تم میں سے بہت ساری مخلوق کو گمراہ کیا اس کا استعمال بڑی جماعت کے لیے ہوتا ہے۔ وھو الجمع ذو العدد الکثیر من الناس۔ فتح القدیر۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

184۔ اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔