(آیت 169) {رَبِّنَجِّنِيْوَاَهْلِيْمِمَّايَعْمَلُوْنَ:} یعنی کفار پر ان اعمال کا وبال اور عذاب نازل فرما اور ہمیں ان کے اعمال بد کی نحوست اور وبال سے محفوظ رکھ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
169۔ پھر (دعا کی) پروردگار! جو کام یہ لوگ کر رہے ہیں اس سے مجھے اور میرے گھر والوں [101] کو نجات دے۔
[101] حضرت لوطؑ اور آپ کے معدودے چند پیروکار اس اوباش اور گندے قسم کے معاشرے سے سخت بیزار تھے۔ جب لوطؑ ان لوگوں کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہو گئے اور ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی تو اس وقت آپ نے سخت اضطراب کے عالم میں اللہ سے دعا کی کہ ہم اب زیادہ دیر اس اوباش سوسائٹی میں نہیں رہ سکتے لہٰذا ان لوگوں سے ہماری نجات کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔