(آیت 14) {وَلَهُمْعَلَيَّذَنْۢبٌ …:} یعنی مجھ سے ان کا ایک آدمی قتل ہو گیا ہے، جو ان کے کہنے کے مطابق میرا جرم ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ اس واقعہ کی تفصیل سورۂ قصص (۱۵) میں آ رہی ہے، مختصر یہ کہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک قبطی کو ایک اسرائیلی سے لڑتے دیکھ کر گھونسا مار دیا، جس سے اس قبطی کی موت واقع ہو گئی، پھر جب موسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع فرعون اور اس کے لوگوں کو ہو گئی ہے اور وہ بدلا لینے کے لیے مشورے کر رہے ہیں تو وہ مصر سے مدین چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ خوف طبعی طور پر انبیاء علیھم السلام کو بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ (قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14-1یہ اشارہ ہے اس قتل کی طرف، جو حضرت موسیٰ ؑ سے غیر ارادی طور پر ہوگیا تھا اور مقتول قبطی یعنی فرعون کی قوم سے تھا، اس لئیے فرعوں اس کے بدلے میں حضرت موسیٰ ؑ کو قتل کرنا چاہتا تھا، جس کی اطلاع پا کر حضرت موسیٰ ؑ مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ اس واقعہ پر اگرچہ کئی سال گزر چکے تھے، مگر فرعون کے پاس جانے میں واقعی یہ امکان موجود تھا کہ فرعون ان کو اس جرم میں پکڑ کر قتل کی سزا دینے کی کوشش کرے۔ اس لئے یہ خوف بھی بلا جواز نہیں تھا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ اور میرے ذمہ ان کا ایک جرم (بھی) ہے میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار ہی [10] نہ ڈالیں۔
[10] اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا فرمائی تو ساتھ ہی حکم دیا کہ تمہیں فرعون اور قوم فرعون کے پاس جو اپنے ظلم کی وجہ سے مشہور ہو چکی ہے۔ جا کر دعوت کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ تو حضرت موسیٰؑ کو سابقہ زندگی کے کئی واقعات آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گئے۔ اور کئی قسم کے خطرات سامنے آنے لگے۔ جن میں سر فہرست یہ تھا کہ وہ میری دعوت الی الحق کو کیا اہمیت دے گا۔ جبکہ میں اس قوم کا ایک فرد ہوں۔ جسے اس نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ اور خوب دبا کر رکھتا ہے۔ پھر میں اس کا پروردہ بھی ہوں۔ علاوہ ازیں میں ان کا مجرم بھی ہوں۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر جب اسے اللہ کا پیغام سنانے کا تصور کیا تو سینہ میں گھٹن سی محسوس ہوئی۔ چنانچہ اللہ کے حضور یہ خطرات بیان بھی کر دیئے۔ مگر انکار کی مجال نہ تھی۔ اور یہی اولوالعزم انبیاء کی شان ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے ایسے فرمانبردار بندے ہوتے ہیں کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی اللہ کا پیغام پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔ البتہ اتنی گزارش ضرور کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا فرما کر میرے ہمراہ کر دیجئے۔ جو اس کام میں میرا معاون و مددگار ہو اور ہم کم از کم ایک کے بجائے دو تو ہو جائیں گے جو ایک دوسرے کے غمگسار اور ہمدرد ہوں۔ علاوہ ازیں میری زبان بھی روانی سے نہیں چلتی۔ جبکہ میرا بھائی ہارون فصیح اللسان ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔