ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 138

وَ مَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِیۡنَ ﴿۱۳۸﴾ۚ
اور ہم قطعاً عذاب دیے جانے والے نہیں۔
اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا
اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیے جائیں گے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 137 میں تا آیت 139 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

138-1جب انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ ہم تو اپنا آبائی دین نہیں چھوڑیں گے، تو اس میں عقیدہ آخرت کا انکار بھی تھا۔ اس لئے انہوں نے عذاب میں مبتلا ہونے کا بھی انکار کیا۔ کیونکہ عذاب الٰہی کا اندیشہ تو اسے ہوتا ہے جو اللہ کو مانتا اور روز جزا کو تسلیم کرتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

138۔ اور ہم پر کچھ عذاب نہیں آنے کا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔