ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 137

اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾ۙ
نہیں ہے یہ مگر پہلے لوگوں کی عادت۔
یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں
یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 138،137){ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَ …:} یعنی یہ بت پرستی، یادگاریں اور عالی شان عمارتیں بنانا اور اپنے مخالفین کے ساتھ ایسا سلوک کرنا کوئی ہمارا شیوہ ہی نہیں، یہی کچھ ہمارے پہلے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ ان کا دین بھی یہی تھا اور تمدن بھی یہی، نہ ان پر کوئی عذاب آیا نہ ہم پر آئے گا۔ آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نصیحت کی یہ باتیں جو تم ہم سے کر رہے ہو کوئی نئی نہیں ہیں، پہلے بھی ایسے خبطی گزرے ہیں جو اس طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ ہم پر ان کا کچھ اثر نہیں، نہ ہمیں کوئی عذاب ہو گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

137-1یعنی وہی باتیں ہیں جو پہلے بھی لوگ کرتے آئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ہم جس دین اور عادات و روایات پر قائم ہیں، وہ وہی ہیں جن پر ہمارے آباء و اجداد کار بند رہے، مطلب دونوں سورتوں میں یہ ہے کہ ہم آبائی مذہب کو نہیں چھوڑ سکتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

137۔ ایسی باتیں تو یوں ہی ہوتی [86] چلی آئی ہیں۔
[86] اس نصیحت کے جواب میں یہ سرکش قوم کہنے لگی کہ ایسی باتیں تو ہم بھی سنتے چلے آئے ہیں۔ کچھ لوگ نبی بن کر ایسی باتیں کیا کرتے ہیں کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا اور مرنے جینے کا سلسلہ ان سے پہلے بھی چلتا تھا۔ بعد میں بھی چلتا رہا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا۔ لہٰذا تمہاری ایسی نصیحتیں ہمارے لئے بے کار ہیں۔ نہ ہم ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔
بنیاد پرستی کیا ہے؟
امام بخاری نے ﴿خُلُقُ الْأَوَّلِينَ میں خلق سے دین مراد لیا ہے [بخاري۔ كتاب التفسير۔ زير تفسير روم]
اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ تو پرانے لوگوں کا مذہب ہے۔ پرانے لوگ ایسی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر اب ایسے اولڈ فیشن لوگوں کا زمانہ لد چکا۔ موجودہ دور میں ایسے لوگوں کے لئے بنیاد پرست (Fundamental) کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اپنے عقیدہ و عمل میں اپنے نبی کی تعلیم پر سختی سے عمل پیرا ہوں اور نئی روشنی یا نئی تہذیب کو پرانی جہالت سمجھتے ہوں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موثر بیانات بھی بےاثر ٭٭
حضرت ہود علیہ السلام کے موثر بیانات نے اور آپ کے رغبت اور ڈر بھرے خطبوں نے قوم پر کوئی اثر نہیں کیا اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنائیں یا نہ سنائیں نصیحت کریں یا نہ کریں ہم تو اپنی روش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ «قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [11-هود:53]‏‏‏‏ ’ ہم آپ کی بات مان کر اپنے معبودوں سے دست بردار ہو جائیں یہ یقیناً محال ہے ہمارے ایمان سے آپ مایوس ہو جائیں ہم آپ کی نہیں مانیں گے ‘۔ فی الوقع کافروں کا یہی حال ہے کہ انہیں سمجھانا بےسود رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخرالزماں سے بھی یہی فرمایا کہا «إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ» ۱؎ [2-البقرة:6]‏‏‏‏ ’ ان ازلی کفار پر آپ کی نصیحت مطلق اثر نہیں کرے گی یہ نصیحت کرنے اور ہوشیار کر دینے کے بعد بھی ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے تھے ‘۔ «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [10-يونس: 96، 97]‏‏‏‏ یہ تو قدرتی طور پر ایمان سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ جن پر تیرے رب کی بات صادق آنے والی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے والا ‘۔
«إِنْ هَـٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» [26-الشعراء:137]‏‏‏‏ «خُلُقُ الْأَوَّلِينَ» کی دوسری قرأت «خَلْقُ الْاَوَّلِیْنَ» بھی ہے یعنی ’ جو باتیں تو ہمیں کہتا ہے یہ تو اگلوں کی کہی ہوئی ہیں ‘، جیسے قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں جو صبح شام تمہارے سامنے پڑھی جاتی ہیں۔
یہ ایک بہتان ہے جسے تو نے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگ اپنے طرفدار کرلئے ہیں۔ مشہور قرأت کی بنا پر معنی یہی ہوئے کہ ’ جس پر ہم ہیں وہی ہمارے پرانے باپ دادوں کا مذہب ہے ہم تو انہیں کی راہ چلیں گے اور اسی روش پر رہیں گے جیئں گے پھر مرجائیں گے جیسے وہ مرگئے۔ یہ محض لاف ہے کہ پھر ہم اللہ کے ہاں زندہ کئے جائیں گے۔ یہ بھی غلط ہے کہ ہمیں عذاب کیا جائے گا ‘۔
آخر شان کی تکذیب اور مخالفت کی وجہ سے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ سخت تیز وتند آندھی ان پر بھیجی گئی اور یہ برباد کر دئیے گئے یہ عاد اولیٰ تھے جنہیں آیت «اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ» [89-الفجر:7]‏‏‏‏ بھی کہا گیا۔ یہ ارم سام بن نوح علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ عمد میں یہ رہتے تھے ارم نوح علیہ السالم کے پوتے کا نام ہے نہ کہ کسی شہر کا۔ گو بعض لوگوں سے یہ بھی مروی ہے لیکن اس کے قائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان سے سن سنا کر اوروں نے بھی یہ کہہ دیا حقیقت میں اس کی کوئی مضبوط دلیل نہیں۔
اسی لیے قرآن نے ارم کا ذکر کرتے ہی فرمایا کہ آیت «لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» ۱؎ [89-الفجر:8]‏‏‏‏۔ ’ ان جیسا اور کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا ‘۔
اگر اس سے مراد شہر ارم ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ اس جیسا اور کوئی شہر بنایا نہیں گیا۔ قرآن کریم کی اور آیت میں ہے آیت «فَاَمَّا عَادٌ فَاسْـتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً» ۱؎ [41-فصلت:15]‏‏‏‏، ’ عادیوں نے زمین میں تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے بڑھ کر قوت والا کون ہے؟ ‘
’ کیا وہ اسے بھی بھول گئے ان کا پیدا کرنے والا ان سے زیادہ قوی ہے دراصل انہیں ہماری آیتوں سے انکار تھا ‘۔ یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ان پر صرف بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑی گئی تھی۔ جس نے ان کو ان کے شہروں کا ان کے مکانات کا نام و نشان مٹا دیا جہاں سے گزر گئی صفایا کر دیا شائیں شائیں کرتی تمام چیزوں کا ستیاناس کرتی چلی تھی۔ تمام قوم کے سر الگ ہو گئے اور دھڑ الگ ہو گئے۔ عذاب الٰہی کو ہوا کی صورت آتا دیکھ کر قلعوں میں محلات میں محفوظ مکانات میں گھس گئے تھے۔
زمین میں گڑھے کھود کھود کر آدھے آدھے جسم ان میں ڈال کر محفوظ ہوئے تھے لیکن بھلا عذاب اللہ کو کوئی چیز روک سکتی ہے؟ وہ ایک منٹ کے لیے بھی کسی کو مہلت اور دم لینے دیتا ہے؟ سب چٹ پٹ کر دئیے گئے اور اس واقعہ کو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بنا دیا گیا۔ ان میں سے پھر بھی اکثر لوگ بے ایمان ہی رہے اللہ کا غلبہ اور رحم دونوں مسلم تھے۔