ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 128

اَتَبۡنُوۡنَ بِکُلِّ رِیۡعٍ اٰیَۃً تَعۡبَثُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾
کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔ En
بھلا تم ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو
En
کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 128) {اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ: رِيْعٍ } اونچی جگہ۔ قاموس میں ہے {رِيْعٌ} (کسرہ اور فتحہ کے ساتھ) اونچی زمین یا ہر کشادہ راستہ یا ہر راستہ یا پہاڑ میں کھلا راستہ یا بلند پہاڑ۔ واحد کے لیے تاء کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ { اٰيَةً } نشانی، یادگار۔ { تَعْبَثُوْنَ عَبَثٌ} (ع) بے فائدہ اور لاحاصل کام کرنا، یعنی تم بے فائدہ اور لاحاصل کام کرتے ہو۔ {كُلُّ رِيْعٍ} سے مراد بہت سی اونچی جگہیں ہیں، کیونکہ ہر اونچی جگہ تو یاد گار نہ بن سکتی ہے اور نہ انھوں نے بنائی تھی۔ ہود علیہ السلام نے پہلے اپنی قوم کو تمام انبیاء کی لائی ہوئی بنیادی تعلیم اللہ پر ایمان، اس کے تقویٰ اور اطاعت کی دعوت دی، اس کے بعد ان کے چند کاموں پر انکار کا اظہار فرمایا۔ پہلا یہ کہ تم ہر اونچی اور نمایاں جگہ، جہاں تمھارے فخر و غرور، تمھاری شان و شوکت اور دولت و قوت کا اظہار ہو سکتا ہے کوئی نہ کوئی یاد گار بنا دیتے ہو، جس کا دنیا یا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں۔ ہود علیہ السلام کا مقصد نمود و نمائش کے اس رجحان سے ہٹانا ہے، جس کی وجہ سے ایسے عبث کام کیے جاتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ ہم کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔ بے دریغ مال خرچ کرتے ہوئے کوئی اپنی یاد گار کے طور پر شاندار مقبرہ تعمیر کرا دیتا ہے، کوئی بلند و بالا مینار کھڑا کر دیتا ہے، کوئی بارہ دری بنوا دیتا ہے۔ عجائب عالم میں شمار ہونے والے اہرامِ مصر اور تاج محل بھی اپنے بانیوں کی ایسی ہی لاحاصل اور عبث یاد گاریں ہیں، جن کی جواب دہی انھیں کرنا ہو گی۔ ان یادگاروں کی مذمت اس لیے فرمائی کہ یہ فخر و غرور، فضول خرچی اور عمر عزیز کو ضائع کرنے پر دلالت کرتی ہیں، جن کا باعث یہ ہے کہ ان کے بنانے والوں کو جواب دہی کا احساس نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

128-1ریع، ریعۃ، کی جمع ہے۔ ٹیلہ، بلند جگہ، پہاڑ، درہ یا گھاٹی یہ ان گزر گاہوں پر کوئی عمارت تعمیر کرتے جو بلندی پر ایک نشانی مشہور ہوتی۔ لیکن اس کا مقصد اس میں رہنا نہیں ہوتا بلکہ صرف کھیل کود ہوتا تھا۔ حضرت ہود ؑ نے منع فرمایا کہ یہ تم ایسا کام کرتے ہو، جس میں وقت اور وسائل کا بھی ضیاع ہے اور اس کا مقصد بھی ایسا ہے جس سے دین اور دنیا کا کوئی مفاد وابستہ نہیں بلکہ صرف کھیل کود ہوتا ہے بیکار محض بےفائدہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

128۔ یہ کیا بات ہے کہ تم ہر بلند جگہ پر بے فائدہ ایک یادگار تعمیر بنا ڈالتے ہو؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَتَبْنُوْنَ بِكُ٘لِّ رِیْعٍ بھلا تم ہر اونچی جگہ پر بناتے ہو۔ یعنی پہاڑوں کے درمیان کشادہ راستے پر ﴿ اٰیَةً علامت یعنی یادگار کے طورپر ﴿تَعْبَثُوْنَ کھیل کود کرتے ہوئے۔ یعنی یہ کام تم عبث کرتے ہو جس کا تمھارے دین اور دنیا میں کوئی فائدہ نہیں۔
﴿ وَتَتَّؔخِذُوْنَ مَصَانِعَ اور تم محل (یا حوض) بناتے ہو۔ یعنی بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے حوض بناتے ہو۔ ﴿ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ شاید تم ہمیشہ رہو گے؟ اور حال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی راہ نہیں۔ ﴿ وَاِذَا بَطَشْتُمْ اور جب تم (مخلوق کو) پکڑتے ہو۔ ﴿بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ تو انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ پکڑتے ہو۔ ان کو قتل کرتے ہو، مارتے ہو اور ان کا مال و متاع لوٹ لیتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ قوت عطا کر رکھی تھی ان پر واجب تھا کہ وہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے مگر اس کے برعکس انھوں نے فخر اور تکبر کا مظاہرہ کیا اورکہنے لگے: ﴿ مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّ٘ةً (حٓم السجدۃ:41؍15) کون ہے ہم سے زیادہ طاقتور؟ اور انھوں نے اپنی قوت و طاقت کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، عبث اور سفاہت کے کاموں میں استعمال کیا، اس لیے ان کے نبی نے ان کو ان کاموں سے روکا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ پس تم اللہ سے ڈرو۔ یعنی تم اپنے شرک اور تکبر کو چھوڑ دو ﴿ وَاَطِیْعُوْنِ اور میری اطاعت کرو۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میں خیرخواہ اور امین ہوں۔
﴿وَاتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ اور اس ذات سے ڈرو، جس نے تمھیں مدد دی۔ یعنی جس نے تمھیں عطا کیا ﴿ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ان چیزوں سے جن کو تم جانتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان نعمتوں سے نوازا ہے جو مجہول ہیں نہ ان کا انکار کیا جا سکتا ہے۔ ﴿ اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ اس نے چوپایوں کے ذریعے سے تمھاری مدد کی۔ یعنی اس نے تمھیں اونٹ، بھیڑ بکریاں اور گائیں عطا کیں ﴿ وَّبَنِیْنَ اور بیٹے عطا کیے۔ یعنی کثرت نسل سے نوازا اس نے تمھیں بہت زیادہ مال اور اولاد، خاص طور پر نرینہ اولاد عطا کی۔ جو دونوں اقسام میں سے بہترین نعمت ہے۔ یہ تو تھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلا کر وعظ و نصیحت، پھر انھیں نزول عذاب سے ڈرایا: ﴿ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ میں تم پر اپنی شفقت اور تمھارے ساتھ نیکی کی بنا پر ڈرتا ہوں کہ کہیں تم پر بڑے دن کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔ تمھارے کفر اور بغاوت کے رویے پر جمے رہنے کی بنا پر جب وہ عذاب نازل ہو گیا تو کسی کے روکے نہیں رکے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أتبنونَ بكلِّ رِيعٍ}؛ أي: مدخل بين الجبال {آيةً}؛ أي: علامة {تَعْبَثونَ}؛ أي: تفعلون ذلك عبَثاً لغير فائدةٍ تعود بمصالح دينكم ودنياكم، {وتتَّخِذونَ مصانعَ}؛ أي: بركاً ومجابي للمياه؛ {لعلَّكم تَخْلُدون}: والحال أنَّه لا سبيل إلى الخلود لأحدٍ. {وإذا بطشتُم}: بالخَلْق {بطَشْتُم جبَّارينَ}: قتلاً وضرباً وأخذَ أموال. وكان اللهُ تعالى قد أعطاهم قوةً عظيمةً، وكان الواجب عليهم أنْ يَسْتَعينوا بقوَّتِهم على طاعةِ الله، ولكنَّهم فخروا واستكبروا وقالوا: مَنْ أشدُّ منَّا قوَّةً؟ واستعملوا قوَّتَهم في معاصي الله وفي العبث والسفه؛ فلذلك نهاهم نبيُّهم عن ذلك. {فاتَّقوا الله}: واتركوا شِرْكَكَم وبَطَرَكم {وأطيعونِ}: حيثُ علمتُم أنِّي رسولُ الله إليكم أمينٌ ناصحٌ. {واتَّقوا الذي أمدَّكم}؛ أي: أعطاكم {بما تَعْلَمون}؛ أي: أمدَّكم بما لا يُجْهَلُ ولا يُنْكَرُ من الأنعام، {أمدَّكُم بأنعام}: من إبل وبقرٍ وغنم، {وبنينَ}؛ أي: وكثرة نسل؛ كثَّرَ أموالَكم وكثَّرَ أولادَكم؛ خصوصاً الذكورَ؛ أفضل القسمين. هذا تذكيرُهم بالنِّعم، ثم ذكَّرهم حلولَ عذاب الله فقال: {إنِّي أخافُ عليكم عذابَ يوم عظيم}؛ أي: إني من شفقتي عليكُم، وبِرِّي بكم أخافُ أن ينزِلَ بكم عذابٌ عظيمٌ. إذا نَزَلَ لا يُرَدُّ إنِ استَمْرَّيْتُم على كفرِكم وبَغْيِكُم.