ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 113

اِنۡ حِسَابُہُمۡ اِلَّا عَلٰی رَبِّیۡ لَوۡ تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾ۚ
ان کا حساب تو میرے رب ہی کے ذمے ہے، اگر تم سمجھو۔
ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو
ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے اگر تمہیں شعور ہو تو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 112 میں تا آیت 114 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

113-1یعنی ان کے ضمیروں اور اعمال کی تفتیش یہ اللہ کا کام ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

113۔ ان کا حساب تو میرے پروردگار کے ذمہ [76] ہے۔ کاش تم کچھ شعور رکھتے
[76] ان دو آیات کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مجھے اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ جو لوگ تمہاری نظروں میں کمینہ ہیں وہ کیا پیشہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ موچی ہیں یا جولاہے ہیں یا لوہار ہیں یا کمہار ہیں مجھے یہ معلوم کرنے سے کوئی مطلب نہیں۔ مجھے مطلب ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں اور میرے ساتھی ہیں۔ باقی ان کا پیشہ کیا ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ میرے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ جو شخص میرے پاس آکر ایمان لاتا ہے اور میرے کہنے کے مطابق اس پر عمل کرنے لگتا ہے تو اس کی تہ میں کیا محرکات کام کر رہے ہیں۔ یہ اندازہ لگانا نہ میرا کام ہے نہ تمہارا بلکہ یہ اللہ کا کام ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔