قَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ لَکَ وَ اتَّبَعَکَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾ؕ
انھوں نے کہا کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں، حالانکہ تیرے پیچھے وہ لوگ لگے ہیں جوسب سے ذلیل ہیں۔
وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو رذیل لوگ ہوتے ہیں
قوم نے جواب دیا کہ ہم تجھ پر ایمان ﻻئیں! تیری تابعداری تو رذیل لوگوں نے کی ہے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 111) {قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ …: ” الْاَرْذَلُوْنَ “ ”أَرْذَلُ“} (اسم تفضیل) کی جمع سالم ہے، سب سے کمتر، نیچ، ذلیل، جن کے پاس جاہ و مال نہ ہو، غریب، محتاج۔ ان میں وہ لوگ بھی آ جاتے ہیں جو حقیر سمجھے جانے والے پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بات کہنے والے نوح علیہ السلام کی قوم کے سردار تھے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۲۷) اس سے معلوم ہوا کہ نوح علیہ السلام پر ایمان لانے والے زیادہ تر غریب لوگ، چھوٹے چھوٹے پیشہ ور یا ایسے نوجوان تھے جن کی قوم میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے بھی ایسے ہی لوگ تھے۔ حدیثِ ہرقل میں ہے کہ اس نے ابوسفیان سے سوال کیا: [فَأَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُوْنَهُ أَمْ ضُعَفَائُهُمْ؟] ”اونچے لوگ اس کی پیروی اختیار کر رہے ہیں یا کمزور لوگ؟“ ابوسفیان نے جواب دیا: ”کمزور لوگ۔“ تو ہرقل نے کہا: ”رسولوں کی پیروی کرنے والے یہی لوگ ہوتے ہیں۔“ [بخاري، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي…: ۷] کیونکہ مال و جاہ والے لوگوں کو ایمان قبول کرنے میں ان کا مال و جاہ، اپنی عزت اور رتبے کا احساس اور دنیوی مفاد رکاوٹ بن جاتے ہیں، کیونکہ ایمان لانے کی صورت میں انھیں حکم منوانے کے بجائے حکم ماننا پڑتا ہے، جب کہ کمزور لوگ ان رکاوٹوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ اس مکالمے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی تسلی ہے، کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ بھی اللہ کے فضل کا مستحق مال داروں ہی کو سمجھتے تھے۔ ان کی نظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے مکہ یا طائف کے کسی مال دار سردار کو نبوت ملنی چاہیے تھی، سورۂ زخرف میں ہے: «{ وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ }» [الزخرف: ۳۱] ”اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دوبستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟“ واضح رہے کہ مومن کو رذیل یا ذلیل سمجھنا یا کہنا جائز نہیں، بلکہ ہر مومن کے متعلق یہی خیال رکھنا چاہیے کہ ہو سکتا ہے یہ مجھ سے بہتر ہو، جیسا کہ فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ }» [الحجرات: ۱۱] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کوئی قوم کسی قوم سے مذاق نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
111-1الارذلون، ارذل کی جمع ہے، جاہ و مال رکھنے والے، اور اس کی وجہ سے معاشرے میں کمتر سمجھے جانے والے اور ان ہی میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو حقیر سمجھے جانے والے پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
111۔ وہ کہنے لگے: ”کیا ہم تجھ پر ایمان لائیں حالانکہ کمینے لوگوں [75] نے تمہاری پیروی کی ہے۔
[75] انبیاء کے اولین مخالف مترفین ہوتے ہیں:۔
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ ہر نبی کی دعوت کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا معاشرہ میں کچھ اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ جنہیں عموماً چودھری، اشراف یا شیوخ کہا جاتا ہے اور قرآن ان کا ذکر ملأ اور مترفین کے الفاظ سے کرتا ہے۔ اور یہ لوگ انبیاء کی مخالفت محض اس لئے کرتے ہیں کہ انھیں نبی پر ایمان لانے کی صورت میں مطاع کے بجائے مطیع بننا پڑتا ہے۔ لہٰذا ابتداء میں نبیوں پر ایمان وہی لوگ لاتے ہیں جن کا معاشرہ میں کچھ اثر و رسوخ نہیں ہوتا اور جنہیں یہ اشراف عموماً حقیر اور کمینہ مخلوق تصور کرتے ہیں۔
مترفین کا قول کہ تمہارے ساتھی رذیل لوگ ہیں:۔
دوسری یہ بات کہ یہ اشراف اس بات میں اپنی ہتک اور توہین سمجھتے ہیں کہ ہم ایمان لا کر خود بھی اس حقیر اور کمینہ قسم کے لوگوں میں شامل ہو کر ان میں برابر کی سطح پر آجائیں۔ یعنی دوسری یہ چیز بھی ان کے ایمان لانے میں رکاوٹ کا سبب بن جاتی ہے اور اس طرح ان کی انا مجروح ہوتی ہے۔ چونکہ قریش مکہ بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے لہٰذا اس سوال و جواب میں بھی گویا انہی کا ذکر ہے۔ بلکہ ان کا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ بھی ہوتا تھا کہ اس قسم کے لوگوں کو اگر آپ اپنی مجلس سے کسی وقت اٹھا دیں تو ہم آپ کی باتیں سننے کو تیار ہیں۔ [تفصيل كے لئے سورة انعام كي آيت نمبر 52 كا حاشيه ملاحظه فرمائيے]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے ٭٭
قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا ”یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کر دینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔ شریف ہو یا رذیل ہو امیر ہو یا غریب ہو جو میری مانے میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔“