ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 105

کَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوۡحِۣ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۰۵﴾ۚۖ
نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔ En
قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
En
قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 105) ➊ { كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحٍ المُرْسَلِيْنَ:} سورت کا آغاز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلانے اور رسولوں کو جھٹلانے کے انجامِ بد کے ساتھ ہوا تھا، موسیٰ اور ابراہیم علیھما السلام اور ان کی قوم کے ذکر کے بعد اب قومِ نوح کا ذکر ہوتا ہے۔ اس میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کے انجامِ بد کا ذکر ہے، اس کے بعد عاد، ثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ کے ذکر میں بھی یہ دونوں چیزیں نمایاں ہیں۔
➋ اگرچہ انھوں نے صرف ایک پیغمبر نوح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا، لیکن چونکہ تمام پیغمبروں کی دعوت ایک تھی اور ایک پیغمبر کو جھٹلانا اس دعوت کو جھٹلانا ہے جو تمام پیغمبر لے کر آئے، اس لیے فرمایا کہ انھوں نے تمام پیغمبروں کو جھٹلا دیا۔ تقابل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۵۹ تا ۶۴)، یونس (۲۵ تا ۴۸)، بنی اسرائیل (۳)، انبیاء (۷۶، ۷۷)، مؤمنون (۲۳ تا ۳۰) اور فرقان (۳۷) اس کے علاوہ نوح علیہ السلام کے واقعہ کی تفصیل کے لیے یہ مقامات بھی زیر نظر رکھیں، سورۂ عنکبوت (۱۴، ۱۵)، صافات (۷۵ تا ۸۲)، قمر (۹ تا ۱۵) اور سورۂ نوح مکمل۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5-1قوم نوح ؑ نے اگرچہ صرف اپنے پیغمبر حضرت نوح ؑ کی تکذیب کی تھی۔ مگر چونکہ ایک نبی کی تکذیب، تمام نبیوں کی تکذیب کے مترادف ہے۔ اس لئے فرمایا کہ قوم نوح ؑ نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

105۔ نوح کی قوم نے (بھی) رسولوں [71] کو جھٹلایا تھا۔
[71] قوم نوح کی طرف مبعوث تو نوحؑ ہوئے تھے لیکن یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ تمام انبیاء کی بنیادی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ لہٰذا ایک نبی کو جھٹلانا سب نبیوں کو جھٹلانے کے مترادف ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس قوم کے پاس نوحؑ سے پہلے کچھ نبی آئے ہوں۔ جن کا ذکر قرآن اور حدیث میں موجود نہ ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بت پرستی کا اغاز ٭٭
زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو نوح علیہ السلام سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اس کی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ نوح علیہ السلام کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہو گئے۔ نوح علیہ السلام کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لیے آیت میں فرمایا گیا کہ ’ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔
حضرت نوح علیہ السلام نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں؟ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہیئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی قوم کا ذکر فرمایا کہ انھوں نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو جھٹلایا، نیز نوح علیہ السلام نے ان کے شرک کو رد کیا اور انھوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کے انجام سے آگاہ فرمایا، چنانچہ فرمایا: ﴿ كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ ِ۟ الْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ۠ نوح علیہ السلام کی قوم نے تمام رسولوں کو جھٹلایا۔ گویا حضرت نوح علیہ السلام کی تکذیب کو تمام رسولوں کی تکذیب قرار دیا، اس لیے کہ تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت ایک اور ان کی خبر ایک ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب اس دعوت حق کی تکذیب ہے جسے تمام انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔
﴿اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ جب ان کے (نسبی) بھائی نوح نے ان سے کہا اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ہمیشہ اسی قوم کے نسب سے پیدا کیا جس میں ان کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ اطاعت کرتے ہوئے انقباض اور کراہت محسوس نہ کریں کیونکہ وہ اس کی نسبی حقیقت سے واقف ہیں اور ان کو اس کے نسب کی تحقیق کی ضرورت نہیں۔ نوح علیہ السلام نے ان کو انتہائی نرمی سے خطاب کیا، جیسا کہ یہ تمام انبیاء کرام علیہ السلام کا طریقہ تھا۔ ﴿ اَلَا تَتَّقُوْنَ کیا تم (اللہ تعالیٰ سے) نہیں ڈرتے کہ تم بتوں کی عبادت کو چھوڑ دیتے اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرتے؟ ﴿ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ بے شک میں تو تمھارا امانت دار رسول ہوں۔ حضرت نوح علیہ السلام کا خاص طور پر ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا جانا اس امر کا موجب ہے کہ وہ، جو چیز ان کی طرف بھیجی گئی ہے اسے قبول کریں، اس پر ایمان لائیں اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے انھیں اس معزز رسول کے ساتھ خاص فرمایا اور آپ کا امین ہونا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ گھڑیں اور اس کی وحی میں کمی بیشی نہ کریں اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ لوگ آپ کی خبر کی تصدیق اور آپ کے حکم کی اطاعت کریں۔
﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ یعنی جس چیز کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں اور جس چیز سے میں تمھیں روکتا ہوں اس بارے میں میری اطاعت کرو۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی طرف آپ کے رسول امین کے طور پر مبعوث ہونے پر مترتب ہوتی ہے بنابریں اللہ تعالیٰ نے (فاء) کے ساتھ ذکر فرمایا جو سبب پر دلالت کرتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سبب موجب کا ذکر کیا پھر نفی مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اور میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا جس سے تمھیں بھاری تاوان کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہو۔ ﴿ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ میرا اجر تو صرف رب العالمین پر ہے۔ میں اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے تقرب اور ثواب جنریل کی امید رکھتا ہوں۔ رہا تمھارا معاملہ تو میری انتہائی تمنا اور ارادہ صرف تمھاری خیرخواہی اور تمھارا راہ راست پر گامزن ہونا ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ یہ آیت مکرر ذکر کی گئی ہے کیونکہ نوح علیہ السلام ایک نہایت طویل عرصہ تک اپنی قوم کو بار بار دعوت توحید دیتے رہے، وہ بتکرار یہ بات کہتے رہے اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو فرمایا: ﴿فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا (العنکبوت:29؍14) پس وہ (نوح علیہ السلام) پچاس کم ایک ہزار سال اپنی قوم میں رہے۔ نوح علیہ السلام نے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّنَهَارًاۙ۰۰ فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا (نوح:71؍5،6) اے میرے رب! میں اپنی قوم کو رات دن توحید کی طرف بلاتا رہا مگر وہ میرے بلانے پر اور زیادہ دور بھاگنے لگے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكر تعالى تكذيبَ قوم نوح لرسولهم نوح، وما ردَّ عليهم وردُّوا عليه، وعاقبة الجميع، فقال: {كذَّبتْ قومُ نوح المرسلينَ}: جمعهم، لأنَّ تكذيبَ نوح كتكذيب جميع المرسلين؛ لأنَّهم كلَّهم اتَّفقوا على دعوة واحدةٍ وأخبارٍ واحدةٍ؛ فتكذيبُ أحدِهم كتكذيبٍ بجميع ما جاؤوا به من الحقِّ. كذبوه {إذْ قال لهم أخوهم}: في النسب {نوحٌ}: وإنَّما ابتعثَ الله الرسل مِن نسب مَنْ أرسل إليهم؛ لئلاَّ يشمئِزُّوا من الانقياد له، ولأنَّهم يعرِفون حقيقَتَه؛ فلا يحتاجون أن يبحثوا عنه، فقال لهم مخاطباً بألطف خطاب؛ كما هي طريقة الرسل صلوات الله وسلامه عليهم: {ألا تَتَّقونَ}: الله تعالى، فتترُكون ما أنتم مقيمونَ عليه من عبادةِ الأوثان، وتُخْلِصون العبادةَ لله وحدَه. {إنِّي لكم رسولٌ أمينٌ}: فكونه رسولاً إليهم بالخصوص يوجب لهم تلقي ما أُرْسِلَ به إليهم، والإيمان به، وأنْ يشكُروا الله تعالى على أنْ خَصَّهم بهذا الرسول الكريم. وكونُهُ أميناً يقتضي أنَّه لا يقول على الله، ولا يزيدُ في وحيه ولا يَنْقصُ. وهذا يوجب لهمُ التصديقَ بخبرِهِ والطاعةَ لأمره، {فاتقوا الله وأطيعونِ}: فيما أمركم به ونهاكم - عنه؛ فإنَّ هذا هو الذي يترتَّب على كونِهِ رسولاً إليهم أميناً؛ فلذلك رتَّبه بالفاء الدالَّة على السبب، فذكر السبب الموجب، ثم ذكر انتفاء المانع، فقال: {وما أسألُكُم عليه من أجرٍ}: فتتكلَّفون من المَغْرَم الثقيل {إنْ أجْرِيَ إلاَّ على ربِّ العالَمينَ}: أرجو بذلك القُرْبَ منه والثواب الجزيل، وأمَّا أنتم؛ فمُنْيَتي ومُنتهى إرادتي منكم النُّصحُ لكم وسلوكُكُم الصراط المستقيم، {فاتَّقوا اللهَ وأطيعونِ}: كرَّر ذلك عليه السلام؛ لتكريره دعوةَ قومِهِ وطول مَكْثِهِ في ذلك؛ كما قال تعالى: {فَلَبِثَ فيهم ألف سنةٍ إلاَّ خمسين عاماً}، و {قال ربِّ إنِّي دعوتُ قومي ليلاً ونهاراً. فلم يَزِدْهُم دعائي إلاَّ فراراً ... } الآيات.