ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 40

وَ لَقَدۡ اَتَوۡا عَلَی الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡۤ اُمۡطِرَتۡ مَطَرَ السَّوۡءِ ؕ اَفَلَمۡ یَکُوۡنُوۡا یَرَوۡنَہَا ۚ بَلۡ کَانُوۡا لَا یَرۡجُوۡنَ نُشُوۡرًا ﴿۴۰﴾
اور بلاشبہ یقینا یہ لوگ اس بستی پر آ چکے، جس پر بارش برسائی گئی، بری بارش، تو کیا وہ اسے دیکھا نہ کرتے تھے؟ بلکہ وہ کسی طرح اٹھائے جانے کی امید نہ رکھتے تھے۔ En
اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح کا مینہ برسایا گیا تھا۔ کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہوں گے۔ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اُٹھنے کی امید ہی نہیں تھی۔
En
یہ لوگ اس بستی کے پاس سے بھی آتے جاتے ہیں جن پر بری طرح کی بارش برسائی گئی۔ کیا یہ پھر بھی اسے دیکھتے نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مرکر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40) ➊ { وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ …: وَ لَقَدْ } کا لفظ قسم کا مفہوم رکھتا ہے، یعنی قسم ہے کہ یہ لوگ شام کی طرف جاتے ہوئے قومِ لوط کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہیں، کیونکہ وہ مکہ سے شام کو جانے والے راستے پر تھیں۔ دیکھیے سورۂ حجر (۷۹) اور صافات (۱۳۷)۔
➋ { الَّتِيْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ:} مراد کھنگر پتھروں کی بارش ہے۔ دیکھیے سورۂ ہود (۸۲)، حجر (۷۴)، اعراف (۸۴)، شعراء (۱۷۳) اور نمل (۵۸)۔
➌ {اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا …:} تو کیا وہ اسے دیکھا نہ کرتے تھے؟ یعنی یقینا دیکھا کرتے تھے۔ تو ان کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ نہ تھی کہ انھوں نے ان تباہ شدہ بستیوں کے آثار نہیں دیکھے تھے، بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ کسی طرح دوبارہ زندہ ہونے کی امید نہ رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے انھیں صرف تماشائی کی حیثیت سے دیکھا، ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کے قائل اور اس کے منکر کے دیکھنے میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ { نُشُوْرًا } کی تنوین کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے بلکہ وہ کسی طرح اٹھائے جانے کی امید نہ رکھتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40-1بستی سے، قوم لوط کی بستیاں سدوم اور عمورہ وغیرہ مراد ہیں اور بری بارش سے پتھروں کی بارش مراد ہے۔ ان بستیوں کو الٹ دیا گیا تھا اور اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش کی گئی تھی جیسا کہ (فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ) 11۔ ہود:82) میں بیان ہے۔ یہ بستیاں شام فلسطین کے راستے میں پڑتی ہیں، جن سے گزر کر ہی اہل مکہ آتے جاتے تھے۔ 40-2اس لئے ان تباہ شدہ بستیوں اور ان کے کھنڈرات دیکھنے کے باوجود عبرت نہیں پکڑتے۔ اور آیات الٰہی اور اللہ کے رسول کو جھٹلانے سے باز نہیں آتے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ اور اس بستی پر تو ان کا گزر ہو چکا ہے جس پر بد ترین بارش برسائی [52] گئی تھی۔ کیا انہوں نے اس بستی کا حال نہ دیکھا ہو گا؟ لیکن (اصل معاملہ یہ ہے کہ) یہ لوگ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔
[52] آخرت کے قائل اور منکر کا فرق:۔
اس سے مراد لوطؑ کی بستی یا سدوم کا علاقہ ہے۔ ان کفار مکہ کے جو تجارتی قافلے شام کی طرف جاتے اور واپس آتے ہیں تو یہ علاقہ ان کے راستہ میں پڑتا ہے اس علاقہ کی ویرانی اور خستہ حالی یہ کئی بار بچشم خود دیکھ چکے ہیں مگر یہ لوگ اس علاقہ کو محض ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھ کر آگے چلے جاتے ہیں۔ اس سے کچھ بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور ان کی یہ کیفیت محض اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کے حضور پیش ہونے اور اپنے اعمال کی سزا پانے کا یقین ہی نہیں رکھتے۔ اور یہی وہ فرق ہے جو ایک آخرت کے منکر اور آخرت پر یقین رکھنے والے میں ہوتا ہے۔ آخرت کا منکر ایسے مقامات کو محض ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھتا ہے جبکہ آخرت پر یقین رکھنے والا ایسے مقامات سے عبرت اور کئی سبق حاصل کرتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔