وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡکُۨ افۡتَرٰىہُ وَ اَعَانَہٗ عَلَیۡہِ قَوۡمٌ اٰخَرُوۡنَ ۚۛ فَقَدۡ جَآءُوۡ ظُلۡمًا وَّ زُوۡرًا ۚ﴿ۛ۴﴾
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر ایک جھوٹ، جو اس نے گھڑ لیا اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر اس کی مدد کی، سو بلاشبہ وہ بھاری ظلم اور سخت جھوٹ پر اتر آئے ہیں۔
En
اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہی جو اس (مدعی رسالت) نے بنالی ہیں۔ اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے۔ یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اُتر) آئے ہیں
En
اور کافروں نے کہا یہ تو بس خود اسی کا گھڑا گھڑایا جھوٹ ہے جس پر اور لوگوں نے بھی اس کی مدد کی ہے، دراصل یہ کافر بڑے ہی ﻇلم اور سرتاسر جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 4) ➊ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …:} توحید کے بیان اور شرک اور مشرکین کے ردّ کے بعد منکرینِ نبوت کے شبہات و اعتراضات ذکر فرمائے، چنانچہ پہلا اعتراض ان کا یہ بیان فرمایا کہ یہ قرآن آپ نے اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے اور کچھ لوگوں نے اس معاملہ میں آپ کی مدد کی ہے۔ اس کی کچھ تفصیل سورۂ نحل (۱۰۳) میں گزر چکی ہے۔
➋ { فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًا:} ظلم کا معنی کسی چیز کو اس کی جگہ کے سوا رکھ دینا ہے، کیونکہ ظلم کا اصل معنی اندھیرا ہے اور اندھیرے میں آدمی چیز کو اس کی جگہ نہیں رکھ سکتا۔ {” زُوْرًا “} ایسے سخت جھوٹ کو کہتے ہیں جو بنا سنوار کر خوش نما بنا دیا گیا ہو، اس لیے اس کا معنی فریب بھی ہو سکتا ہے۔ تنوین تہویل کے لیے ہے، یعنی انھوں نے یہ جو بات کہی ہے وہ بھاری ظلم (بے انصافی) اور سخت جھوٹ ہے، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ قرآن جیسی کتاب، جس کی فصاحت و بلاغت اور مضامین کے مقابلے سے کل کائنات عاجز ہے، اسے اپنے پاس سے تصنیف کرکے پیش کر دینا کسی انسان کے بس میں نہیں، چاہے اس کی پشت پر چند نہیں ہزاروں بلکہ اللہ کے سوا سب جمع ہو جائیں۔ افسوس اور تعجب اس پر ہے کہ یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں جن کی پوری زندگی ان کے سامنے گزری (دیکھیے یونس: ۱۶) اور جن کے بارے میں انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ نے نہ کبھی پڑھنا لکھنا سیکھا اور نہ کسی عالم کی شاگردی کی (دیکھیے عنکبوت: ۴۸) پھر یہ قرآن آپ کی تصنیف کیسے ہو سکتا ہے؟
➋ { فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًا:} ظلم کا معنی کسی چیز کو اس کی جگہ کے سوا رکھ دینا ہے، کیونکہ ظلم کا اصل معنی اندھیرا ہے اور اندھیرے میں آدمی چیز کو اس کی جگہ نہیں رکھ سکتا۔ {” زُوْرًا “} ایسے سخت جھوٹ کو کہتے ہیں جو بنا سنوار کر خوش نما بنا دیا گیا ہو، اس لیے اس کا معنی فریب بھی ہو سکتا ہے۔ تنوین تہویل کے لیے ہے، یعنی انھوں نے یہ جو بات کہی ہے وہ بھاری ظلم (بے انصافی) اور سخت جھوٹ ہے، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ قرآن جیسی کتاب، جس کی فصاحت و بلاغت اور مضامین کے مقابلے سے کل کائنات عاجز ہے، اسے اپنے پاس سے تصنیف کرکے پیش کر دینا کسی انسان کے بس میں نہیں، چاہے اس کی پشت پر چند نہیں ہزاروں بلکہ اللہ کے سوا سب جمع ہو جائیں۔ افسوس اور تعجب اس پر ہے کہ یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں جن کی پوری زندگی ان کے سامنے گزری (دیکھیے یونس: ۱۶) اور جن کے بارے میں انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ نے نہ کبھی پڑھنا لکھنا سیکھا اور نہ کسی عالم کی شاگردی کی (دیکھیے عنکبوت: ۴۸) پھر یہ قرآن آپ کی تصنیف کیسے ہو سکتا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4-1مشرکین کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کتاب گھڑنے میں یہود سے یا ان کے بعض دوست (مثلاً ابو فکیہہ یسار، عداس اور جبرو غیرہ) سے مدد لی۔ جیسا کہ سورة النحل آیت13میں اس کی ضروری تفصیل گزر چکی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ کافر لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) تو محض جھوٹ ہے جسے اس نے خود بنا ڈالا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔ کتنا بڑا جھوٹ اور ظلم ہے جس پر [8] یہ لوگ اتر آئے ہیں۔
[8] مستشرقین کا یہ الزام ہے کہ آپ نے علماء یہود و نصاریٰ سے کسب فیض کیا تھا اور اس کے جوابات:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر قرآن کو تصنیف کرنے کا الزام اس دور کے مشرکین مکہ کو ہی نہ تھا، آج کے مستشرقین بھی اپنی تحقیق و تنقید کی آڑ میں کچھ ایسا ہی الزام لگا رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج کے ان محققین کا یہ کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پیشتر کئی تجارتی سفر کئے یہود و نصاریٰ کے کئی علماء سے آپ کی ملاقات ہوئیں اور اس سلسلہ میں بالخصوص بحیرا راہب کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ تو انھیں ملاقاتوں کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان علماء سے کسب فیض کیا۔ پھر اسے اپنے انداز میں اور اپنی زبان میں عربوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ یہی وہ انبیاء یا سابقہ اقوام کی تاریخ تھی جسے آپ نے نبوت کے نام سے پیش کیا۔ مستشرقین کے اس اعتراض کے باطل ہونے کی بے شمار وجوہ ہیں جو درج ذیل ہیں:
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی کوئی تجارتی سفر کیا تو اکیلے نہیں کیا تھا بلکہ اپنی قوم کے لوگوں کے ہمراہ کیا تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علمائے یہود و نصاریٰ سے کچھ ملاقاتیں کی تھیں یا ان سے کسب علم کیا تھا تو اس بات کا سب سے زیادہ علم آپ کے ہمراہیوں کو ہونا چاہئے تھا۔ حالانکہ نبوت سے پیشتر ان لوگوں نے آپ پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کیا تھا۔ پھر جس بات کا علم آپ کے ہمراہیوں کو نہ ہو سکا تھا ان لوگوں کو کیسے ہو گیا؟
2۔ نبوت سے پہلے اگر آپ نے علمائے یہود و نصاریٰ سے کچھ کسب علم کیا تھا تو ضروری تھا کہ اس کا اظہار دانستہ طور پر یا نا دانستہ طور پر نبوت سے پہلے بھی ہو جاتا۔ خواہ آپ اسے چھپانے کی کتنی ہی کوشش کرتے۔ نبوت سے پیشتر کوئی ایسی بات آپ کی زبان سے نہ نکلنا ہی اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ یہ اعتراض سراسر باطل اور لغو ہے۔
3۔ قرآن میں کئی ایسی پیشین گوئیاں مذکور ہیں جو آپ کی زندگی میں حرف بحرف پوری ہو گئیں اور ان کا علمائے یہود و نصاریٰ کو کسی طرح بھی علم نہ ہو سکتا تھا۔ جیسے روم کا شکست کھانے کے بعد ایران پر دوبارہ غلبہ یا کافروں کی مخالفانہ بھرپور کوششوں کے باوجود اسلام کا غلبہ اور کفار و مشرکین کی ذلت آمیز شکست وغیرہ وغیرہ۔
4۔ قرآن میں بے شمار ایسی آیات نازل ہوئیں جن کا ان کے پس منظر سے گہرا تعلق ہے۔ مثلاً جنگ بدر کے بعد اموال غنیمت میں تنازعہ کے موقع پر سورۃ انفال کا نزول، لعان اور ظہار کے احکام کا نزول، واقعہ افک کے بعد قذف اور زنا کی حدود کے احکام کا نزول۔ ایسی آیات کا بھلا علمائے یہود و نصاریٰ کا پہلے سے کیونکر علم ہو سکتا تھا اور وہ ایسے حکیمانہ احکام کیسے بتا سکتے تھے۔
5۔ قرآن میں بے شمار مقامات پر یہود و نصاریٰ کے عقائد اور ان کے اخلاق و کردار پر تنقید کی گئی ہے کیا یہ باتیں بھی علمائے یہود و نصاریٰ آپ کو بتا سکتے تھے؟ غرضیکہ اس اعتراض پر جتنا بھی غور کیا جائے اس کو باطل قرار دینے کی اور بھی کئی وجوہ سامنے آتی جائیں گی۔
1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی کوئی تجارتی سفر کیا تو اکیلے نہیں کیا تھا بلکہ اپنی قوم کے لوگوں کے ہمراہ کیا تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علمائے یہود و نصاریٰ سے کچھ ملاقاتیں کی تھیں یا ان سے کسب علم کیا تھا تو اس بات کا سب سے زیادہ علم آپ کے ہمراہیوں کو ہونا چاہئے تھا۔ حالانکہ نبوت سے پیشتر ان لوگوں نے آپ پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کیا تھا۔ پھر جس بات کا علم آپ کے ہمراہیوں کو نہ ہو سکا تھا ان لوگوں کو کیسے ہو گیا؟
2۔ نبوت سے پہلے اگر آپ نے علمائے یہود و نصاریٰ سے کچھ کسب علم کیا تھا تو ضروری تھا کہ اس کا اظہار دانستہ طور پر یا نا دانستہ طور پر نبوت سے پہلے بھی ہو جاتا۔ خواہ آپ اسے چھپانے کی کتنی ہی کوشش کرتے۔ نبوت سے پیشتر کوئی ایسی بات آپ کی زبان سے نہ نکلنا ہی اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ یہ اعتراض سراسر باطل اور لغو ہے۔
3۔ قرآن میں کئی ایسی پیشین گوئیاں مذکور ہیں جو آپ کی زندگی میں حرف بحرف پوری ہو گئیں اور ان کا علمائے یہود و نصاریٰ کو کسی طرح بھی علم نہ ہو سکتا تھا۔ جیسے روم کا شکست کھانے کے بعد ایران پر دوبارہ غلبہ یا کافروں کی مخالفانہ بھرپور کوششوں کے باوجود اسلام کا غلبہ اور کفار و مشرکین کی ذلت آمیز شکست وغیرہ وغیرہ۔
4۔ قرآن میں بے شمار ایسی آیات نازل ہوئیں جن کا ان کے پس منظر سے گہرا تعلق ہے۔ مثلاً جنگ بدر کے بعد اموال غنیمت میں تنازعہ کے موقع پر سورۃ انفال کا نزول، لعان اور ظہار کے احکام کا نزول، واقعہ افک کے بعد قذف اور زنا کی حدود کے احکام کا نزول۔ ایسی آیات کا بھلا علمائے یہود و نصاریٰ کا پہلے سے کیونکر علم ہو سکتا تھا اور وہ ایسے حکیمانہ احکام کیسے بتا سکتے تھے۔
5۔ قرآن میں بے شمار مقامات پر یہود و نصاریٰ کے عقائد اور ان کے اخلاق و کردار پر تنقید کی گئی ہے کیا یہ باتیں بھی علمائے یہود و نصاریٰ آپ کو بتا سکتے تھے؟ غرضیکہ اس اعتراض پر جتنا بھی غور کیا جائے اس کو باطل قرار دینے کی اور بھی کئی وجوہ سامنے آتی جائیں گی۔
مشرکین کا یہ الزام کہ آپ کو کوئی سکھا جاتا ہے کے جوابات:۔
اور مشرکین مکہ کا آپ پر جو اعتراض تھا وہ نبوت کے بعد کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ چند یہودی پڑھے لکھے غلام مسلمان ہو گئے تھے۔ مشرکوں کو اعتراض یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں ان سے سیکھی ہیں۔ ابتداًء صرف دو نمازیں فرض تھیں ایک صبح کی اور ایک شام کی۔ ان نمازوں کے اوقات میں مسلمان دار ارقم میں اکٹھے ہوتے۔ تو اگر کچھ وحی اس دوران نازل ہوتی تو آپ نماز کے لئے آنے والے مسلمانوں کو سنا دیتے۔ اس بات سے بتنگڑ یہ بنایا گیا کہ صبح و شام جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں تو یہی یہودی پڑھے لکھے غلام مسلمان اقوام سابقہ اور انبیائے سابقہ کے حالات بیان کرتے ہیں جو ساتھ ساتھ لکھ بھی لئے جاتے ہیں اور پڑھے اور سنے سنائے بھی جاتے ہیں۔ پھر انہی باتوں کو اللہ کی طرف سے منسوب کر کے قرآن کے نام سے دوسروں کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ اعتراض درج ذیل وجوہ کی بنا پر باطل ہے:
1۔ اگر یہ یہودی غلام جو مسلمان ہو گئے تھے آپ کے استاد یا معلوم ہوتے تو وہ آپ کے فرمانبردار بن کر نہیں رہ سکتے تھے۔ پھر فرمانبرداری بھی ایسی جو جانثاری کی حد تک پہنچ چکی ہو۔
2۔ اگر بفرض محال یہ تسلیم کر لیا جائے کہ دنیوی مفادات کی خاطر ایسا سمجھوتہ کر لیا گیا تھا تو آپ کے نزدیک آپ کے مقرب وہ یہودی غلام ہونے چاہئیں تھے نہ کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ، یا حضرت عمرؓ یا حضرت عثمانؓ، حضرت ابو عبیدہؓ اور حضرت علیؓ وغیرہم
3۔ علاوہ ازیں ان پر بھی وہ سب اعتراض وارد ہوتے ہیں جو اوپر مذکور ہیں۔ مثلاً قرآن کی پیشین گوئیاں، موقع اور ضرورت کے مطابق احکام الہٰی کا نزول اور یہود کے اخلاق و عقائد پر کڑی تنقید وغیرہ۔ لہٰذا یہ اعتراض قرآن کریم کی داخلی، خارجی شہادت اور عقلی دلائل کے لحاظ سے محض ایک افتراء اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔
1۔ اگر یہ یہودی غلام جو مسلمان ہو گئے تھے آپ کے استاد یا معلوم ہوتے تو وہ آپ کے فرمانبردار بن کر نہیں رہ سکتے تھے۔ پھر فرمانبرداری بھی ایسی جو جانثاری کی حد تک پہنچ چکی ہو۔
2۔ اگر بفرض محال یہ تسلیم کر لیا جائے کہ دنیوی مفادات کی خاطر ایسا سمجھوتہ کر لیا گیا تھا تو آپ کے نزدیک آپ کے مقرب وہ یہودی غلام ہونے چاہئیں تھے نہ کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ، یا حضرت عمرؓ یا حضرت عثمانؓ، حضرت ابو عبیدہؓ اور حضرت علیؓ وغیرہم
3۔ علاوہ ازیں ان پر بھی وہ سب اعتراض وارد ہوتے ہیں جو اوپر مذکور ہیں۔ مثلاً قرآن کی پیشین گوئیاں، موقع اور ضرورت کے مطابق احکام الہٰی کا نزول اور یہود کے اخلاق و عقائد پر کڑی تنقید وغیرہ۔ لہٰذا یہ اعتراض قرآن کریم کی داخلی، خارجی شہادت اور عقلی دلائل کے لحاظ سے محض ایک افتراء اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خود فریب مشرک ٭٭
خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔
چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔
عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔
چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔
عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟
پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟
کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟
اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔
اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔
کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟
اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔
اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔
رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔
چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ ‘
مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔
چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ۱؎ [5-المائدة:74] ’ یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ ‘
مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔