ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 33

وَ لَا یَاۡتُوۡنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰکَ بِالۡحَقِّ وَ اَحۡسَنَ تَفۡسِیۡرًا ﴿ؕ۳۳﴾
اور وہ تیرے پاس کوئی مثال نہیں لاتے مگر ہم تیرے پاس حق اور بہترین تفسیر بھیج دیتے ہیں۔ En
اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں
En
یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال ﻻئیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمده توجیہ آپ کو بتادیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33){ وَ لَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ …: مَثَلٌ } کا معنی کسی چیز کے مشابہ چیز بھی ہے، ضرب المثل یا کہاوت بھی اور کسی چیز کی صفت بھی، جیسے فرمایا: «{ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ [الرعد: ۳۵] اس جنت کی صفت جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (راغب) سورت کے شروع سے اللہ تعالیٰ نے کفار کے پانچ اعتراض ذکر فرمائے ہیں اور سب کا دندان شکن جواب دیا ہے، آخر میں خلاصے کے طور پر فرمایا کہ ان لوگوں نے جو شکوک و شبہات اور طعن و اعتراض پیش کیے ہیں، یا قیامت تک پیش کریں گے ہم نے سب کا ایسا جواب دیا ہے اور دیتے رہیں گے جو سراسر حق ہے اور نہایت واضح ہے، ان کے اقوال کی طرح باطل یا غیر واضح نہیں ہے۔ { مَثَلٌ} سے مراد ان کے وہ سوالات، مطالبات اور اعتراضات ہیں جو انھوں نے آپ پر پیش کیے تھے اور {اَلْحَقُّ} سے مراد شبہے کا ازالہ اور سوال کا جواب ہے۔ (شوکانی) دیکھیے ان کا پہلا اعتراض تھا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ افْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ [الفرقان: ۴] اسی کے ضمن میں تھا: { وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا } [الفرقان: ۵] دوسرا اعتراض تھا: «{ وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا (7) اَوْ يُلْقٰۤى اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا [الفرقان: ۷، ۸] تیسرا اعتراض تھا: «{ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا [الفرقان: ۸] چوتھا اعتراض تھا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا [الفرقان: ۲۱] اور پانچواں اعتراض تھا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً [الفرقان: ۳۲] ان اعتراضات کو امثال کہنے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا تیسرا اعتراض { وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا } بیان کرنے کے بعد فرمایا: «{ اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا [الفرقان: ۹] دیکھ انھوں نے تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کیں، سو گمراہ ہو گئے، پس وہ کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ (ابن عاشور)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

33-1یہ قرآن کے وقفے وقفے سے اتارے جانے کی حکمت و علت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مشرکین جب بھی کوئی مثال یا اعتراض اور شبہ پیش کریں گے تو قرآن کے ذریعے سے ہم اس کا جواب یا وضاحت پیش کردیں گے اور یوں انھیں لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ اور اس لئے بھی کہ جب بھی یہ کافر آپ کے پاس کوئی مثال (اعتراض) لائیں تو اس کا ٹھیک اور برجستہ [44] جواب اور بہترین توجیہ ہم نے آپ کو بتلا دیں۔
[44] قرآن کے بتدریج ہونے کے فوائد:۔
کفار نے یہ اعتراض متعدد بار کیا اور مختلف مقامات پر قرآن نے اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔ اس مقام پر قرآن کو بتدریج نازل کرنے کے تین فوائد بتائے گئے ہیں۔
1۔ نبی کی دعوت پر جو معرکہ حق و باطل بپا ہوتا ہے اور جس طرح باطل ہجوم کر کے حق پر ایک دم ٹوٹ پڑتا ہے تو یہ معرکہ کوئی ایک دو دن کا قصہ نہیں ہوتا بلکہ نبی کی پوری زندگی کو محیط ہوتا ہے۔ اور جب بھی حالات مسلمانوں کے لئے حوصلہ شکن ہوتے ہیں تو انہیں تسلی دینے اور ان کی ڈھارس بندھانے کی ضرورت پیش آتی ہے اور ایک ہی دفعہ حوصلہ افزائی خواہ کتنی ہی کی جائے۔ وہ فائدہ نہیں دے سکتی۔ جو فائدہ ساتھ کے ساتھ اور بارہا حوصلہ افزائی کا ہوتا ہے۔
2۔ قرآن کو حفظ کرنا، اسے سمجھنا اور اس پر عمل پیرا ہو کر اپنی پوری طرز زندگی میں تبدیلی پیدا کرنا اسی صورت میں ممکن تھا کہ قرآن کریم بتدریج نازل ہوتا۔ قرآن کو بتدریج نازل کرنے سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ ہر ایمان لانے والے کو یہ معلوم ہے کہ فلاں آیت یا فلاں سورت کا شان نزول کیا تھا اور کس طرح کے پس منظر میں یہ نازل ہوئی تھی۔ نیز اگر کوئی شخص قرآن کی کسی آیت یا اس کے کسی مفہوم کو غلط معنی پہناتا تو قرآن ساتھ کے ساتھ نازل ہو کر اس مفہوم کی تردید کر کے صحیح تعبیر پیش کر دیتا ہے۔ علاوہ ازیں معاشرہ سے برائیوں مثلاً شراب نوشی، لوٹ مار، قتل و غارت، بے حیائی، زنا اور سود کے استیصال کے لئے سب احکام ایک دفعہ نازل کئے جاتے تو ان پر عمل پیرا ہونا بہت مشکل ہو جاتا اور لوگ سرے سے نبی پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے دستبردار ہو جاتے۔
3۔ تیسرا فائدہ جو اگلی آیت میں مذکور ہے یہ ہے کہ کافر جس قسم کے آپ پر اعتراضات کرتے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔ ہم ساتھ کے ساتھ ان اعتراضات کے واضح اور مدلل جوابات دیتے جاتے ہیں۔ اب یہ کیا تک ہے کہ اعتراضات تو بعد میں ہوں اور ان کے جوابات پہلے ہی یکبارگی نازل کر دیئے جائیں۔ اور اگر ہم ایسا کرتے ہیں بھی یہ لوگ ان جوابات پر کئی طرح کے اعتراضات کرنا شروع کر دیتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قرآن حکیم مختلف اوقات میں کیوں اتارا ٭٭
کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جیسے تورات، انجیل، زبور وغیرہ ایک ساتھ پیغمبروں پر نازل ہوتی رہیں۔ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیوں نہ ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں واقعی یہ متفرق طور پر اترا ہے، بیس برس میں نازل ہوا ہے جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی، جو جو واقعات ہوتے رہے، احکام نازل ہوتے گئے تاکہ مومنوں کا دل جما رہے۔ ٹھہر ٹھہر کر احکام اتریں تاکہ ایک دم عمل مشکل نہ ہو پڑے، وضاحت کے ساتھ بیان ہو جائے۔ سمجھ میں آ جائے۔ تفسیر بھی ساتھ ہی ساتھ ہوتی رہے۔
ہم ان کے کل اعتراضات کا صحیح اور سچا جواب دیں گے جو ان کے بیان سے بھی واضح اور سچا ہو گا۔ جو کمی یہ بیان کریں گے، ہم ان کی تسلی کر دیں گے۔ صبح و شام، رات دن، سفر حضر میں بار بار اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور اپنے خاص بندوں کی ہدایت کے لیے ہمارا کلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی تک اترتا رہا۔ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور فضیلت بھی ظاہر ہوتی رہی لیکن دوسرے انبیاء علیہم السلام پر ایک ہی مرتبہ سارا کلام اترا مگر اس سے بہترین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تبارک و تعالیٰ بار بار خطاب کرتا رہا تاکہ اس قرآن کی عظمت بھی آشکار ہو جائے، اس لیے کہ یہ کتنی لمبی مدت میں نازل ہوا۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں میں اعلیٰ اور قرآن بھی سب کلاموں میں بالا۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ قرآن کو دونوں بزرگیاں ملیں۔ یہ ایک ساتھ لوح محفوظ سے ملأ اعلیٰ میں اترا۔ لوح محفوظ سے پورے کا پورا دنیا کے آسمان تک پہنچا۔ پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتا رہا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: سارا قرآن ایک دفعہ ہی لیلۃ القدر میں دنیا کے آسمان پر نازل ہوا پھر بیس سال تک زمین پر اترتا رہا۔ پھر اس کے ثبوت میں آپ نے آیت «وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا» اور آیت «وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:106]‏‏‏‏ تلاوت فرمائی۔
اس کے بعد کافروں کی جو درگت قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کا بیان فرمایا کہ بدترین حالت اور قبیح تر ذلت میں ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ یہ اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے، یہی برے ٹھکانے والے اور سب سے بڑھ کر گمراہ ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں کا حشر منہ کے بل کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انہیں پیر کے بل چلایا ہے ِ، وہ سر کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا یَ٘اْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اور یہ لوگ کوئی بھی ایسی مثال آپ کے سامنے پیش نہیں کریں گے۔ جس سے وہ حق کے ساتھ معارضہ (مقابلہ) کریں اور آپ کی رسالت کا انکار کریں۔ ﴿ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا مگر ہم اس کا سچا جواب اور عمدہ توجیہ آپ کو بتا دیں گے۔ یعنی ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا جو اپنے معانی میں جامع، اپنے الفاظ میں واضح اور بیان کامل کا حامل ہے۔ اس کے تمام معانی حق اور صداقت پر مبنی ہیں جس میں کسی بھی پہلو سے باطل کا کوئی شائبہ نہیں، تمام اشیاء کے بارے میں اس کے الفاظ اور حدود انتہائی واضح، مفصل اور معانی کو کامل طور پر بیان کرتے ہیں۔
یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ علم میں بحث کرنے والے محدث، معلم یا واعظ کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے رب کی تدبیر کی پیروی کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کے مطابق تدبیر فرمائی اسی طرح اس عالم کو چاہیے کو وہ مخلوق کے معاملے کی اسی طرح تدبیر کرے جب بھی کوئی ایسا موجب اور موقع پیش آئے تو موقع کی مناسبت سے لوگوں میں آیات قرآنی، احادیث نبوی اور مواعظ بیان کرے۔
نیز ان آیات کریمہ میں جہمیہ کا رد ہے جو قرآن کریم کی تفسیر میں تکلف سے کام لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی بہت سے نصوص کو ان کے ظاہری معنوں پر محمول نہیں کیا جائے گا، ان کے اصل معانی ان معانی سے مختلف ہیں جو ظاہر میں سمجھ میں آئے ہیں تب اگر ان کی اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو قرآن کی یہ تفسیر احسن تفسیر نہیں ہو گی ان کے زعم باطل کے مطابق، احسن تفسیر تو وہ ہے، جس کے لیے وہ معانی میں تحریف کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {ولا يأتونَكَ بِمَثَلٍ}: يعارضون به الحقَّ ويدفعون به رسالتك، {إلاَّ جئناك بالحقِّ وأحسنَ تفسيراً}؛ أي: أنزلنا عليك قرآناً جامعاً للحقِّ في معانيه والوضوح والبيان التامِّ في ألفاظِهِ؛ فمعانيه كلُّها حقٌّ وصدقٌ لا يشوبها باطلٌ ولا شبهةٌ بوجه من الوجوه، وألفاظُهُ وحدودُهُ للأشياء أوضحُ ألفاظاً وأحسنُ تفسيراً، مبين للمعاني بياناً كاملاً.

وفي هذه الآية دليلٌ على أنَّه ينبغي للمتكلِّم في العلم من محدِّث ومعلِّم وواعظٍ أن يقتدي بربِّه في تدبيره حال رسوله، كذلك العالم يدبِّر أمر الخلق، وكلَّما حدث موجبٌ أو حصل موسمٌ؛ أتى بما يناسب ذلك من الآيات القرآنية والأحاديث النبويَّة والمواعظ الموافقة لذلك.

وفيه ردٌّ على المتكلِّفين من الجهميَّة ونحوهم ممَّن يرى أنَّ كثيراً من نصوص القرآن محمولةٌ على غير ظاهرها، ولها معانٍ غير ما يُفْهَم منها؛ فإذاً على قولهم لا يكون القرآن أحسنَ تفسيراً من غيره، وإنما التفسير الأحسن على زعمهم تفسيرُهم الذي حرَّفوا له المعاني تحريفاً!