یَوۡمَ یَرَوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ لَا بُشۡرٰی یَوۡمَئِذٍ لِّلۡمُجۡرِمِیۡنَ وَ یَقُوۡلُوۡنَ حِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا ﴿۲۲﴾
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے خوشی کی کوئی خبر نہ ہوگی اور کہیں گے (کاش! ہمارے اوران کے درمیان) ایک مضبوط آڑ ہو۔
En
جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لئے (اور بند کردیئے) جاؤ
En
جس دن یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن ان گناه گاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی اور کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 22) ➊ { يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰٓىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ:} یعنی رب تعالیٰ کو دیکھنا تو بہت دور، فرشتوں کو دیکھنا بھی معمولی بات نہیں، جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن ان مجرموں کے لیے کوئی خوشی کی خبر نہیں ہو گی، کیونکہ وہ ان کے لیے عذاب ہی لے کر آتے ہیں (حجر: ۸) خواہ وہ دنیا میں کوئی عذاب لے کر آئیں یا موت کے وقت ان کے پاس آئیں (انعام: ۹۳۔ انفال: ۵۰۔ محمد: ۲۷، ۲۸) یا قیامت کے دن انھیں دکھائی دیں۔
➋ { وَ يَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا: ” حِجْرًا “} کا معنی آڑ، رکاوٹ ہے، {” مَحْجُوْرًا “} تاکید کے لیے ہے، یعنی بہت مضبوط رکاوٹ۔ یعنی جب مجرم فرشتوں کو دیکھیں گے تو چاہیں گے کہ ان کے اور فرشتوں کے درمیان کوئی مضبوط آڑ ہو، کوئی سخت رکاوٹ ہو جس کے ذریعے سے وہ ان سے بچ جائیں۔
➋ { وَ يَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا: ” حِجْرًا “} کا معنی آڑ، رکاوٹ ہے، {” مَحْجُوْرًا “} تاکید کے لیے ہے، یعنی بہت مضبوط رکاوٹ۔ یعنی جب مجرم فرشتوں کو دیکھیں گے تو چاہیں گے کہ ان کے اور فرشتوں کے درمیان کوئی مضبوط آڑ ہو، کوئی سخت رکاوٹ ہو جس کے ذریعے سے وہ ان سے بچ جائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22-1اس دن سے مراد موت کا دن ہے یعنی یہ کافر فرشتوں کو دیکھنے کی آرزو تو کرتے ہیں لیکن موت کے وقت جب یہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو ان کے لیے کوئی خوشی اور مسرت نہیں ہوگی اس لیے کہ فرشتے انھیں اس موقع پر عذاب جہنم کی وعید سناتے ہیں اور کہتے ہیں اے خبیث روح خبیث جسم سے نکل جس سے روح دوڑتی اور بھاگتی ہے جس پر فرشتے اسے مارتے اور کوٹتے ہیں جیسا کہ (وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ يَتَوَفَّى الَّذِيْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَاَدْبَارَهُمْ ۚ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ) 8۔ الانفال:50)، (وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ) 6۔ الانعام:93) میں ہے اس کے برعکس مومن کا حال وقت احتضار جان کنی کے وقت یہ ہوتا ہے کہ فرشتے اسے جنت اور اس کی نعمتوں کی نوید جاں فزا سناتے ہیں جیسا کہ سورة حم السجدۃ332میں ہے اور حدیث میں بھی آتا ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں اے پاک روح جو پاک جسم میں تھی نکل اور ایسی جگہ چل جہاں اللہ کی نعمتیں ہیں اور وہ رب ہے جو تجھ سے راضی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے مسند احمد، ابن ماجہ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دونوں ہی قول صحیح ہیں اس لیے کہ دونوں ہی دن ایسے ہیں کہ فرشتے مومن اور کافر دونوں کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں مومنوں کو رحمت ورضوان الہی کی خوشخبری اور کافروں کو ہلاکت و خسران کی خبر دیتے ہیں۔ 22-2حِجْر کے اصل معنی ہیں منع کرنا، روک دینا۔ جس طرح قاضی کسی کو اس کی بےوقوفی یا کم عمری کی وجہ سے اس کے اپنے مال کو خرچ کرنے سے روک دے تو کہتے ہیں حَجَرَ الْقَاضِیْ عَلٰی فُلَان قاضی نے فلاں کو تصرف کرنے سے روک دیا ہے۔ اسی مفہوم میں خانہ کعبہ کے اس حصے حطیم کو حجر کہا جاتا ہے جسے قریش مکہ نے خانہ کعبہ میں شامل نہیں کیا تھا اس لیے طواف کرنے والوں کے لیے اس کے اندر سے طواف کرنا منع ہے طواف کرتے وقت اس کے بیرونی حصے سے گزرنا چاہیے جسے دیوار سے ممتاز کردیا گیا ہے اور عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے اس لیے کہ عقل بھی انسانوں کو ایسے کاموں سے روکتی ہے جو انسان کے لائق نہیں ہیں معنی یہ ہیں کہ فرشتے کافروں کو کہتے ہیں کہ تم ان چیزوں سے محروم ہو جن کی خوشخبری متقین کو دی جاتی ہے یعنی یہ حراما محرما علیکم کے معنی میں ہے آج جنت الفردوس اور اس کی نعمتیں تم پر حرام ہیں اس کے مستحق صرف اہل ایمان وتقوی ہوں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں وہ دن [31] ایسے مجرموں کے لئے کوئی خوشی کا دن نہ ہو گا اور وہ پکار اٹھیں گے کہ ہم تو تم سے [32] پناہ مانگتے ہیں“
[31] ان کے فرشتوں کے دیکھنے کی تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ دو دنیا میں اور ایک آخرت میں۔ دنیا میں ایسے لوگ اس وقت فرشتوں کو بچشم خود دیکھ لیتے ہیں جب وہ ان پر قہر الہٰی اور عذاب الہٰی لے کر نازل ہوتے ہیں۔ دوسرے اس وقت جب وہ ان کی جانیں نکالنے کے لئے ان کے پاس آئیں گے اور قیامت میں تو یہ ہر وقت ہی فرشتوں کو دیکھا کریں گے۔ جو بھی وقت اور جو بھی صورت ہو، ان کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہو گی بلکہ جب بھی وہ ان کے پاس آئیں گے قہر الہٰی بن کر ہی آئیں گے۔ [32] فرشتوں کو دیکھنے کی تین صورتیں :۔
یہ محاورہ ہے۔ حجارۃ بمعنی پتھر اور حجر ہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو پتھر کی طرح سخت بھی ہو اور روک یا آڑ کا کام بھی دے۔ اہل عرب کی عادت تھی کہ جب اپنے کسی دشمن کو، جس سے انہیں تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہوتا، دیکھ کر، یا کسی دوسری آفت کو دیکھ کر حجرا محجورا کہنے لگتے۔ جیسے ہم کہتے ہیں ”اس سے اللہ کی پناہ“ یا ”اللہ اس سے ہمیں بچائے“ تو سننے والا عموماً یہ قول سن کر تکلیف نہیں پہنچاتا تھا۔ ایسے مجرمین بھی جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے تو یہی الفاظ بول کر ان سے پناہ مانگیں گے لیکن اس دن انھیں کوئی پناہ نہ مل سکے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط ٭٭
کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:92] یعنی ’ تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ ‘ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ ‘
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے کہ «قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا، ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے، ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں۔ خود فرشتے آ کر ہمیں سمجھائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا: «أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:92] یعنی ’ تو اللہ کو لے آ، فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ۔ ‘ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ یہ بات اس لیے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی۔ جیسے ارشاد ہے «وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:111] الخ، یعنی ’ اگر ہم ان پر فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کر دیتے۔ جب بھی انہیں ایمان لانا نصیب نہ ہوتا۔ ‘
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لیے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہو گا۔ اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس! تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا، اب گرم ہواؤں، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل، وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:93] یعنی ’ کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ ‘
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ’ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ ‘
صحیح حدیث میں ہے کہ { فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:93] یعنی ’ کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتا جب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات تراشتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔ ‘
مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہو گا، وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ» ۱؎ [41-فصلت:30-32] ’ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے، ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو بلکہ ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جاتا رہا۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، تم جو کچھ چاہو گے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کرو گے موجود ہو جائے گی، بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہو گی۔ ‘
صحیح حدیث میں ہے کہ { فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں: اے پاک روح! جو پاک جسم میں تھی، تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل، جو تجھ سے نارض نہیں۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4262،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سورۃ ابراہیم کی آیت «يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّـهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّـهُ مَا يَشَاءُ» ۱؎ [14-إبراهيم:27] کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہو چکی ہیں۔
بعض نے کہا ہے: مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو۔ اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں موقعوں پر ہر نیک و بد فرشتوں کو دیکھیں گے، مومنوں کو رحمت و رضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہو گا اور کافروں کو لعنت و پھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ۔ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح و بہبود تم پر حرام ہے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کے تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں: «حَجرَ الْقَاضِیَ عَلیٰ فُلاَنٍ» ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لیے وہ بھی انسان کو برے کاموں سے روک دیتی ہے۔
پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوشخبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں، اس سے تم محروم ہو۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہو گا۔ وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو، تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے۔ گو یہ معنی ہو سکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی، سلف سے مروی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» ۱؎ [14-إبراهيم:18] ’ کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ ‘
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ ۱؎ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
البتہ مجاہد رحمہ اللہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہو گا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت و اکارت ہو جائیں گے۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے، وہ بےکار ہو جائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو، وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے کر دیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ میں سے آ رہی ہوں، ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہے تو ہاتھ نہیں آتے۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے، وہ پھر ہاتھ نہیں آ سکتا۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یا راکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بے کار ہو گئے، ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اس لیے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے۔
پس جب یہ عالم و عادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے، اسی لیے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی چیز سے تشبیہ دی گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ» ۱؎ [14-إبراهيم:18] ’ کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑا دے۔ ‘
انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہو جاتی ہیں جیسے صدقہ و خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ» ۱؎ [2-البقرة:264] پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں۔
اور آیت میں ان کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن جب پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے۔ ۱؎ [24-النور:39] اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے۔
پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں۔ جنتی تو بلند درجوں میں، اعلیٰ بالاخانوں میں امن و امان، راحت و آرام کے ساتھ عیش و عشرت میں ہوں گے۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔
نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
مقام اچھا، منظر دل پسند، ہر راحت موجود، ہر دل خوش کن چیز سامنے، جگہ اچھی، مکان طیب، منزل مبارک، سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام۔ برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند، اوپر نیچے، دائیں بائیں آگ، حسرت افسوس، رنج و غم پھکنا، جلنا و بےقراری، جگرسوزی، مقام بد، بری منزل، خوفناک منظر، عذاب سخت۔
نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے، اچھی جزائیں دی گئیں، بدلے ملے۔ جہنم سے بچے، جنت کے مالک وارث بنے۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے، کہیں برابر ہو سکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کر دی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کوئی ساعت ایسی بھی ہو گی کہ جنتی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔ پس جنتیوں کا دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہو گا اور دوزخیوں کا جہنم میں۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» ۱؎ [84-الانشقاق:7-9] یعنی ’ جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ ‘ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں۔ یہ وہ وقت ہو گا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے اور لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہو گا۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو، اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت «ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ» ۱؎ [37-الصافات:68] بھی پڑھی۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے، یہی آسانی سے حساب لینا ہے پھر یہ جنت میں جا کر دوپہر کا آرام کریں گے۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے: «فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا» ۱؎ [84-الانشقاق:7-9] یعنی ’ جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے بہت آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔ ‘ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے۔
صفوان بن محرز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا، ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا، اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک بھی نیکی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا۔ پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی، جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے؟ اللہ فرمائے گا: یہ سچا ہے، اسے چھوڑ دو۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کس حال میں ہو؟ کہے گا: نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا۔ اس سے پوچھا جائے گا: کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا: الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔
سعید صواف رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہو جائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہو جائیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:382/9] پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہوں گے۔