(آیت 11){ بَلْكَذَّبُوْابِالسَّاعَةِ …:} پچھلی آیت کے ساتھ اس کا تعلق یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے کہیں بہتر چیزیں عطا کر بھی دے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟ یقینی جواب اس کا یہ ہے کہ یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ پھر اور قسم کی باتیں بنانا شروع کر دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے قیامت کے دن کو، دوبارہ جی اٹھنے کو، اللہ کے سامنے حاضر ہونے کو اور اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ انھوں نے اسے صاف جھٹلا دیا ہے، کیونکہ اس سے انھیں دنیا میں اپنی خواہش پرستی سے دست بردار ہونا پڑتا ہے، پھر اگر یہ لوگ ایسی کٹ حجتیاں نہ کریں تو اور کریں بھی کیا؟ دیکھیے سورۂ قیامہ کی آیات (۱ تا ۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11-1قیامت کا جھٹلانا ہی تکذیب رسالت کا بھی باعث ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ لیکن بات یہ نہیں بلکہ یہ لوگ [15] در اصل قیامت تک جھٹلا رہے ہیں اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔
[15] یعنی اللہ اگر چاہے تو آپ کو ایک باغ کیا، ایسے بیسیوں باغ عطا کر سکتا ہے۔ اسی طرح رہائش کے لئے ایک محل کیا بیسیوں محل بھی عطا کر سکتا ہے۔ اور دوسری جن چیزوں کا یہ نام لیتے ہیں وہ بھی دینے پر قادر ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پھر یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟ اور اس سوال کا یقینی جواب یہ ہے کہ یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ بلکہ پھر اور قسم کی باتیں بنانا شروع کر دیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے قیامت کے دن پر، دوبارہ جی اٹھنے پر اور اللہ کے سامنے حاضر ہونے پر اور اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنے پر یقین ہی نہیں رکھتے۔ پھر یہ لوگ ایسی کٹ حجتیاں نہ کریں تو اور کریں بھی کیا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔