وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۵۵﴾
اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔
En
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں
En
تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان ﻻئے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالیٰ وعده فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کرکے جما دے گا جسے ان کے لئے وه پسند فرما چکا ہے اور ان کے اس خوف وخطر کو وه امن وامان سے بدل دے گا، وه میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وه یقیناً فاسق ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 55) ➊ { وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ …:} منافقین کی تمام تر زیادتیوں کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صَرفِ نظر فرماتے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہی ساتھیوں کو اور پناہ دینے والوں کو قتل کرتے ہیں۔ اب ایک طرف پورے عرب کے کفار کی دشمنی تھی، دوسری طرف اسلام کے دعوے دار منافقین کی سازشیں تھیں، نتیجتاً مسلمان سخت پریشان اور خوف زدہ رہتے تھے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا طرزِ عمل بیان کرنے اور انھیں نصیحت کرنے کے بعد مخلص مومنوں کو کئی بشارتیں دیں۔ اُبیَ بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی مدینہ میں آئے اور انصار نے انھیں جگہ دی تو سارا عرب ایک کمان کے ساتھ ان پر حملہ آور ہو گیا، اس لیے مسلمان رات اسلحہ کے ساتھ گزارتے اور دن بھی اسی حال میں گزارتے، حتیٰ کہ وہ یہ کہنے لگ گئے: ”کیا تم خیال کرتے ہو کہ ہم اس وقت تک زندہ رہیں گے جب ہماری راتیں امن و اطمینان سے گزریں گی، ہمیں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہو گا۔“ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «{ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ}» [النور: ۵۵] [مستدرک حاکم: 401/2، ح: ۳۵۱۲، قال الحاکم صحیح الإسناد وقال الذھبي صحیح] اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ {” وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ “} کا معنی ہے، جو اس کے بعد نعمت کی ناشکری کرے گا۔ مسلمانوں کی اس خوف کی حالت کا نقشہ سورۂ انفال (۲۶) میں بہترین صورت میں کھینچا گیا ہے۔
➋ { وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ …:} یعنی تم کھلے اور چھپے دشمن کفار و منافقین کی دشمنی سے پریشان نہ ہو، تم میں سے مخلص مومن جو اعمالِ صالحہ سے آراستہ ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ انھیں عرب و عجم کے کفار و مشرکین کی زمین کا وارث بنائے گا، وہ اس کے جانشین اور حکمران ہوں گے، جیسا کہ اس نے اس سے پہلے کفار و مشرکین کے بعد بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کو جزیرۂ عرب، مصر اور شام کی حکومت بخشی۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے کیا ہوا یہ وعدہ بہت تھوڑے عرصے میں پورا فرما دیا، ہجرت کے بعد دس سال کے اندر، جب کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ، خیبر، بحرین، یمن اور پورے جزیرۂ عرب پر فتح عطا فرما دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجر کے مجوسیوں اور شام کے کئی علاقوں سے جزیہ وصول کرنے لگے، روم کے بادشاہ ہرقل، مصر کے بادشاہ مقوقس اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے آپ کی خدمت میں ہدیے ارسال کیے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو خلفائے اسلام نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چل کر انھوں نے مشرق و مغرب کا بہت سا حصہ فتح کر لیا۔ اس وقت کے سب سے مضبوط حکمران کسریٰ کے تخت پر قبضہ کر لیا اور قیصر کو اس کے مملوکہ علاقوں شام وغیرہ سے ایسا نکالا کہ اسے قسطنطنیہ میں پناہ لینا پڑی۔ مشرق میں چین اور مغرب میں افریقہ تک اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ مسلمان ان کی گردنوں اور ان کے خزانوں کے مالک بن گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی: [إِنَّ اللّٰهَ زَوٰی لِيَ الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَ مَغَارِبَهَا، وَ إِنَّ أُمَّتِيْ سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِيْ مِنْهَا، وَ أُعْطِيْتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ] [مسلم، الفتن، باب ھلاک ھذہ الأمۃ بعضہم ببعض: ۲۸۸۹] ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین لپیٹ دی تو میں نے اس کے تمام مشرق اور مغرب دیکھ لیے اور میری امت کی سلطنت اس کے ان مقامات تک پہنچے گی جو مجھے لپیٹ کر دکھائے گئے اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے۔“
➌ { وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ:} یہ دوسرا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے ان کے اس دین کو اقتدار بخشے گا جو اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، یعنی مسلمانوں کو ایسا اقتدار ملے گا جس میں کسی اور آئین و قانون کا نہیں بلکہ اللہ کے دین اسلام کا مکمل غلبہ ہو گا، اس میں اللہ کی بات سب سے اونچی اور اس کا بول سب سے بالا ہو گا۔ دین کا یہ اقتدار پوری دنیا پر ہو گا۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: [لَيَبْلُغَنَّ هٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَلاَ يَتْرُكُ اللّٰهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللّٰهُ هٰذَا الدِّيْنَ بِعِزِّ عَزِيْزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيْلٍ، عِزًّا يَعِزُّ اللّٰهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَ ذُلًّا يُذِلُّ اللّٰهُ بِهِ الْكُفْرَ] [مسند أحمد: 103/4، ح: ۱۶۹۵۹، قال محقق المسند إسنادہ صحیح علی شرط مسلم] ”یہ کام یعنی دین اسلام وہاں تک پہنچے گا جہاں رات اور دن پہنچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کوئی اینٹوں کا بنا ہوا مکان چھوڑے گا اور نہ ریشم کا بنا ہوا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت دے کر اور ذلیل کو ذلت دے کر۔ عزت ایسی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اسلام کو عزت بخشے گا اور ذلت ایسی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کرے گا۔“ اس پیش گوئی کا اکثر حصہ خلفائے راشدین، خلفائے بنی امیہ اور عثمانی خلفاء کے ہاتھوں پورا ہوا اور جو رہ گیا ہے وہ بھی پورا ہو کر رہے گا، مسلمانوں میں دین کی طرف رجوع اور جذبہ جہاد کی بیداری آنے والی صبح روشن کی نوید ہیں۔
➍ {وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا:} یہ تیسرا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو خوف کی حالت بدل کر امن عطا فرمائے گا۔ جہاد کی بدولت کفار یا تو اسلام قبول کرکے اس کے محافظ بن جائیں گے، یا محکوم ہو کر جزیہ دیں گے۔ اللہ کے احکام پر عمل کی بدولت خوش حالی کا دور دورہ ہو گا اور حدود اللہ کے نفاذ کی برکت سے اسلام کے زیر نگیں تمام علاقے امن کی نعمت سے فیض یاب ہوں گے۔ عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ سے فاقے کی شکایت کی، پھر ایک اور آیا اور اس نے ڈاکے اور راہ زنی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب ہو کر فرمایا: ”عدی! تم نے حیرہ (شہر) دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: ”میں نے اسے نہیں دیکھا، لیکن میں نے اس کے متعلق سنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمھاری زندگی لمبی ہوئی تو تم اونٹنی پر سوار ایک عورت کو دیکھو گے، وہ حیرہ سے سفر کرے گی، حتیٰ کہ کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے سوا اسے کسی کا خوف نہیں ہو گا۔“ میں نے دل ہی دل میں کہا، تو بنو طے کے وہ بدمعاش کہاں جائیں گے جنھوں نے شہروں میں آگ لگا رکھی ہے؟ (آپ نے مزید فرمایا:) ”اور اگر تمھاری زندگی لمبی ہوئی تو تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔“ میں نے کہا: ”کسریٰ بن ہرمز کے خزانے؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں، کسریٰ بن ہرمز کے خزانے، اور اگر تمھاری زندگی لمبی ہوئی تو تم آدمی کو دیکھو گے، وہ سونے یا چاندی سے اپنی لپ بھر کر اس شخص کی تلاش میں نکلے گا جو اس سے اسے قبول کرے، مگر اسے کوئی شخص نہیں ملے گا جو اس سے قبول کرے…۔“ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پھر میں نے اونٹنی پر سوار ایک عورت کو دیکھا جو حیرہ سے سفر شروع کرتی تھی، حتیٰ کہ کعبہ کا طواف کرتی تھی اور میں ان لوگوں میں شامل تھا جنھوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے اور اگر تمھاری زندگی لمبی ہوئی تو تم وہ بھی دیکھ لو گے جو نبی ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی سونے چاندی سے لپ بھر کر صدقہ نکالے گا۔“ [بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام: ۳۵۹۵]
➎ { يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا:} یعنی وہ لوگ جن کے ساتھ خلافتِ ارضی، دین کے غلبے اور خوف کے بعد امن عطا کرنے کا وعدہ ہے، وہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان اور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے، صرف اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں میں ان اوصاف میں سے کسی وصف کی کمی ہو گی یا سرے سے ان سے عاری ہوں گے انھیں حکومت مل بھی جائے تو دین کے غلبے اور امن کی نعمت میسر نہ ہو گی۔
➏ یہ آیت خلفائے راشدین کی خلافت کے برحق ہونے کی بہت بڑی اور واضح دلیل ہے، کیونکہ اس آیت میں اگرچہ خلافت، تمکینِ دین اور خوف کے بعد امن کا وعدہ ان تمام لوگوں سے ہے جو ایمان اور عمل صالح پر کاربند ہوں، خواہ کسی زمانے میں ہوں، مگر اس کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ }» کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا جو ”تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔“ اس لیے اس آیت کے سب سے پہلے مصداق بھی وہی ہیں اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنھم کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں خلافت بخشی، ان کے زمانے میں دین غالب ہوا، اللہ کی حدود قائم ہوئیں، مسلمانوں کو امن میسر رہا اور تمام دنیا کے کافر مرعوب و مقہور رہے۔ ان کے بعد بھی جن خلفاء نے جہاد جاری رکھا، اللہ کی حدود پر عمل کیا اور کسی بھی قسم کے شرک سے آلودہ نہیں ہوئے، وہ بھی اس کے مصداق ہیں اور ان کے زمانے میں بھی دین غالب رہا اور مسلمانوں کو امن کی نعمت میسر رہی۔ آئندہ جو لوگ ان اوصاف سے آراستہ ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بھی یہ وعدہ پورا فرمائے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ خلافت صرف تیس (۳۰) برس قائم رہی ان کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ اعلیٰ درجے کے اوصاف والے لوگ یہی خلفاء تھے، کیونکہ وہ براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ تھے اور انھیں ایمان میں سبقت اور ہجرت کا شرف بھی حاصل تھا، ان کے بعد والوں کو یہ سارے فضائل حاصل نہ تھے، اس لیے ان کی خلافت اس بلند ترین درجے کی نہ تھی، مگر یہ بات غلط ہے کہ اس کے بعد امتِ مسلمہ اللہ کے اس وعدے سے محروم ہو گئی۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تیس (۳۰) سالوں کے بعد بھی ایسے خلفاء کی پیش گوئی فرمائی ہے جن کے زمانے میں دین غالب ہو گا۔ چنانچہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میرے ساتھ میرے والد بھی تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: [لَا يَزَالُ هٰذَا الدِّيْنُ عَزِيْزًا مَنِيْعًا إِلَي اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيْفَةً] ”یہ دین بارہ خلیفوں تک خوب غالب اور محفوظ رہے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات کی جو لوگوں نے مجھے سننے نہیں دی، میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ تو انھوں نے بتایا: [كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ] ”وہ سب قریش سے ہوں گے۔“ [مسلم، الإمارۃ، باب الناس تبع لقریش: 1821/9] ابو داؤد کی روایت (۴۲۷۹) میں یہ الفاظ بھی ہیں: [كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ] ”ان سب پر امت مجتمع ہو گی۔“ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ان الفاظ کو ضعیف کہا ہے۔
ان بارہ خلفاء سے مسلسل خلفاء مراد ہیں، یا درمیان میں کچھ وقفے سے آنے والے خلفاء مراد ہیں، یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ میں نااہل لوگوں کے بعد پھر نبوی طریقے پر خلافت قائم ہونے کی پیش گوئی فرمائی ہے، حتیٰ کہ آخر زمانے میں مہدی خلیفہ راشد ہوں گے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَكُوْنُ النُّبُوَّةُ فِيْكُمْ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ تَكُوْنَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُوْنُ خِلَافَةً عَلٰی مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ فَتَكُوْنُ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ تَكُوْنَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَّرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُوْنُ مُلْكًا عَاضًّا فَيَكُوْنُ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَّكُوْنَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُوْنُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَتَكُوْنُ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ تَكُوْنَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُوْنُ خِلَافَةً عَلٰی مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، ثُمَّ سَكَتَ] [مسند أحمد: 273/4، ح: ۱۸۴۳۶، مسند احمد کے محقق اور شیخ البانی نے صحیحہ (۵) میں اسے حسن کہا ہے] ”تم میں نبوت رہے گی جب تک اللہ نے چاہا کہ رہے، پھر جب وہ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے، پھر اللہ اسے اٹھا لے گا جب چاہے گا کہ اسے اٹھا لے پھر ”ملک عاض“ (دانتوں سے کاٹنے والی بادشاہی) ہو گی اور جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے، وہ رہے گی، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا، تو اٹھا لے گا، پھر جبر والی بادشاہی ہو گی اور جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے، وہ رہے گی، پھر جب وہ چاہے گا کہ اسے اٹھائے تو اٹھا لے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔“
اس آیت اور ان احادیث کی روشنی میں مسلمانوں کو ہمیشہ پُر امید رہنا چاہیے کہ جب بھی مسلمان ایمان اور عمل صالح پر کاربند ہو گئے، اللہ کے ساتھ شرک سے تائب ہو گئے، اپنی روزمرہ کی زندگی، اپنی معیشت، اپنی سیاست، غرض ہر چیز میں غیر اللہ کے حکم سے مکمل منہ موڑ کر ایک اللہ کے حکم پر چلنے لگے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے لگے، اللہ کے سوا ہر حاجت روا اور مشکل کشا کو چھوڑ کر ایک اللہ سے استغاثہ و استعانت کرنے لگے، بزدلی اور دنیا سے محبت کے بجائے شوقِ شہادت سے سرشار ہو کر جہاد کرنے لگے، تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور خلافت علی منہاج النبوۃ کی نعمت عطا فرمائے گا، کیونکہ اسے ایمان اور عمل صالح سے مزین ایسے بندے مطلوب ہیں جو {” يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا “} کی عملی تصویر ہوں، یعنی صرف اس کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ البتہ یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جب تک مسلمانوں کی موجودہ حالت نہیں بدلتی کہ ان کی عدالتوں میں کفار کا قانون رائج ہے، ان کی تجارت سود پر مبنی ہے، ان کی حکومت کا طریقہ کفار سے لیا ہوا ہے، ان کے معاشرے میں ہندوؤں اور یہود و نصاریٰ کی رسوم جاری ہیں، ان کی مساجد کے اندر پختہ قبروں کی پرستش ہو رہی ہے، ایک اللہ کو حاجت روا اور مشکل کُشا ماننے کے بجائے ہر ایک نے اپنا الگ داتا و دستگیر بنا رکھا ہے، وہ ایک امت بننے کے بجائے مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالت کے بدلنے تک اس خلافت کی نعمت کا حصول ایک خوبصورت خواب کے سوا کچھ نہیں جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔
➐ کچھ لوگوں نے چار صحابہ کے سوا تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو کافر کہنا اپنے دین کا جز بنا لیا ہے کوئی ان سے پوچھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح والوں سے خلافت عطا کرنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ کس طرح اور کن لوگوں کے ذریعے سے پورا ہوا؟ اگر وہ اپنے بارہ (۱۲) خود ساختہ اماموں کو حقیقی خلفاء بتائیں تو بتائیں علی اور حسن رضی اللہ عنھما کو چھوڑ کر دوسرے دس (۱۰) خلفاء و ائمہ کی حکومت زمین کے کس خطے پر تھی، ان میں سے کس نے امن کے ساتھ حکومت کی؟ ان ائمہ کی حالت تو یہ تھی کہ یہ حضرات خود بتاتے ہیں کہ ان کا بارھواں امام دشمنوں کے خوف سے ایک غار میں چھپ گیا اور آج تک نمودار نہیں ہوا۔ پھر اللہ کا وعدہ کن لوگوں کے ذریعے سے پورا ہوا؟ ان لوگوں کے باطل پر ہونے کے لیے یہ بات بھی ایک واضح اور فیصلہ کن دلیل ہے کہ اسلام کے مرکز مکہ اور مدینہ میں ان ساڑھے چودہ سو سالوںمیں حکومت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تھے، یا پھر ان سے محبت کرنے والے۔ آج تک اللہ تعالیٰ نے اس پاک سرزمین میں صحابہ کے دشمنوں کے ناپاک قدم جمنے نہیں دیے۔
➑ { وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ:} فاسق کے کئی درجے ہیں، کامل فاسق وہی ہے جو ایمان ہی سے نکل جائے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اس خلافت کے بعد جو لوگ کفر کریں اور کفر ہی پر مریں تو یہی لوگ پورے نافرمان ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو کوئی خلفائے اربعہ کی خلافت (اور ان کے فضل و شرف) سے منکر ہوا ان الفاظ سے اس کا حال سمجھا گیا۔“
➋ { وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ …:} یعنی تم کھلے اور چھپے دشمن کفار و منافقین کی دشمنی سے پریشان نہ ہو، تم میں سے مخلص مومن جو اعمالِ صالحہ سے آراستہ ہیں، ان سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ انھیں عرب و عجم کے کفار و مشرکین کی زمین کا وارث بنائے گا، وہ اس کے جانشین اور حکمران ہوں گے، جیسا کہ اس نے اس سے پہلے کفار و مشرکین کے بعد بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کو جزیرۂ عرب، مصر اور شام کی حکومت بخشی۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے کیا ہوا یہ وعدہ بہت تھوڑے عرصے میں پورا فرما دیا، ہجرت کے بعد دس سال کے اندر، جب کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ، خیبر، بحرین، یمن اور پورے جزیرۂ عرب پر فتح عطا فرما دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجر کے مجوسیوں اور شام کے کئی علاقوں سے جزیہ وصول کرنے لگے، روم کے بادشاہ ہرقل، مصر کے بادشاہ مقوقس اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے آپ کی خدمت میں ہدیے ارسال کیے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو خلفائے اسلام نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چل کر انھوں نے مشرق و مغرب کا بہت سا حصہ فتح کر لیا۔ اس وقت کے سب سے مضبوط حکمران کسریٰ کے تخت پر قبضہ کر لیا اور قیصر کو اس کے مملوکہ علاقوں شام وغیرہ سے ایسا نکالا کہ اسے قسطنطنیہ میں پناہ لینا پڑی۔ مشرق میں چین اور مغرب میں افریقہ تک اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ مسلمان ان کی گردنوں اور ان کے خزانوں کے مالک بن گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی: [إِنَّ اللّٰهَ زَوٰی لِيَ الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَ مَغَارِبَهَا، وَ إِنَّ أُمَّتِيْ سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِيْ مِنْهَا، وَ أُعْطِيْتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ] [مسلم، الفتن، باب ھلاک ھذہ الأمۃ بعضہم ببعض: ۲۸۸۹] ”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین لپیٹ دی تو میں نے اس کے تمام مشرق اور مغرب دیکھ لیے اور میری امت کی سلطنت اس کے ان مقامات تک پہنچے گی جو مجھے لپیٹ کر دکھائے گئے اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کیے گئے۔“
➌ { وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ:} یہ دوسرا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے ان کے اس دین کو اقتدار بخشے گا جو اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، یعنی مسلمانوں کو ایسا اقتدار ملے گا جس میں کسی اور آئین و قانون کا نہیں بلکہ اللہ کے دین اسلام کا مکمل غلبہ ہو گا، اس میں اللہ کی بات سب سے اونچی اور اس کا بول سب سے بالا ہو گا۔ دین کا یہ اقتدار پوری دنیا پر ہو گا۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: [لَيَبْلُغَنَّ هٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَلاَ يَتْرُكُ اللّٰهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللّٰهُ هٰذَا الدِّيْنَ بِعِزِّ عَزِيْزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيْلٍ، عِزًّا يَعِزُّ اللّٰهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَ ذُلًّا يُذِلُّ اللّٰهُ بِهِ الْكُفْرَ] [مسند أحمد: 103/4، ح: ۱۶۹۵۹، قال محقق المسند إسنادہ صحیح علی شرط مسلم] ”یہ کام یعنی دین اسلام وہاں تک پہنچے گا جہاں رات اور دن پہنچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کوئی اینٹوں کا بنا ہوا مکان چھوڑے گا اور نہ ریشم کا بنا ہوا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت دے کر اور ذلیل کو ذلت دے کر۔ عزت ایسی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اسلام کو عزت بخشے گا اور ذلت ایسی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کرے گا۔“ اس پیش گوئی کا اکثر حصہ خلفائے راشدین، خلفائے بنی امیہ اور عثمانی خلفاء کے ہاتھوں پورا ہوا اور جو رہ گیا ہے وہ بھی پورا ہو کر رہے گا، مسلمانوں میں دین کی طرف رجوع اور جذبہ جہاد کی بیداری آنے والی صبح روشن کی نوید ہیں۔
➍ {وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا:} یہ تیسرا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو خوف کی حالت بدل کر امن عطا فرمائے گا۔ جہاد کی بدولت کفار یا تو اسلام قبول کرکے اس کے محافظ بن جائیں گے، یا محکوم ہو کر جزیہ دیں گے۔ اللہ کے احکام پر عمل کی بدولت خوش حالی کا دور دورہ ہو گا اور حدود اللہ کے نفاذ کی برکت سے اسلام کے زیر نگیں تمام علاقے امن کی نعمت سے فیض یاب ہوں گے۔ عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ سے فاقے کی شکایت کی، پھر ایک اور آیا اور اس نے ڈاکے اور راہ زنی کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب ہو کر فرمایا: ”عدی! تم نے حیرہ (شہر) دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: ”میں نے اسے نہیں دیکھا، لیکن میں نے اس کے متعلق سنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمھاری زندگی لمبی ہوئی تو تم اونٹنی پر سوار ایک عورت کو دیکھو گے، وہ حیرہ سے سفر کرے گی، حتیٰ کہ کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے سوا اسے کسی کا خوف نہیں ہو گا۔“ میں نے دل ہی دل میں کہا، تو بنو طے کے وہ بدمعاش کہاں جائیں گے جنھوں نے شہروں میں آگ لگا رکھی ہے؟ (آپ نے مزید فرمایا:) ”اور اگر تمھاری زندگی لمبی ہوئی تو تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔“ میں نے کہا: ”کسریٰ بن ہرمز کے خزانے؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں، کسریٰ بن ہرمز کے خزانے، اور اگر تمھاری زندگی لمبی ہوئی تو تم آدمی کو دیکھو گے، وہ سونے یا چاندی سے اپنی لپ بھر کر اس شخص کی تلاش میں نکلے گا جو اس سے اسے قبول کرے، مگر اسے کوئی شخص نہیں ملے گا جو اس سے قبول کرے…۔“ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پھر میں نے اونٹنی پر سوار ایک عورت کو دیکھا جو حیرہ سے سفر شروع کرتی تھی، حتیٰ کہ کعبہ کا طواف کرتی تھی اور میں ان لوگوں میں شامل تھا جنھوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے اور اگر تمھاری زندگی لمبی ہوئی تو تم وہ بھی دیکھ لو گے جو نبی ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی سونے چاندی سے لپ بھر کر صدقہ نکالے گا۔“ [بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام: ۳۵۹۵]
➎ { يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا:} یعنی وہ لوگ جن کے ساتھ خلافتِ ارضی، دین کے غلبے اور خوف کے بعد امن عطا کرنے کا وعدہ ہے، وہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان اور عمل صالح سے آراستہ ہوں گے، صرف اللہ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں میں ان اوصاف میں سے کسی وصف کی کمی ہو گی یا سرے سے ان سے عاری ہوں گے انھیں حکومت مل بھی جائے تو دین کے غلبے اور امن کی نعمت میسر نہ ہو گی۔
➏ یہ آیت خلفائے راشدین کی خلافت کے برحق ہونے کی بہت بڑی اور واضح دلیل ہے، کیونکہ اس آیت میں اگرچہ خلافت، تمکینِ دین اور خوف کے بعد امن کا وعدہ ان تمام لوگوں سے ہے جو ایمان اور عمل صالح پر کاربند ہوں، خواہ کسی زمانے میں ہوں، مگر اس کے سب سے پہلے مخاطب چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «{ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ }» کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا جو ”تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔“ اس لیے اس آیت کے سب سے پہلے مصداق بھی وہی ہیں اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنھم کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں خلافت بخشی، ان کے زمانے میں دین غالب ہوا، اللہ کی حدود قائم ہوئیں، مسلمانوں کو امن میسر رہا اور تمام دنیا کے کافر مرعوب و مقہور رہے۔ ان کے بعد بھی جن خلفاء نے جہاد جاری رکھا، اللہ کی حدود پر عمل کیا اور کسی بھی قسم کے شرک سے آلودہ نہیں ہوئے، وہ بھی اس کے مصداق ہیں اور ان کے زمانے میں بھی دین غالب رہا اور مسلمانوں کو امن کی نعمت میسر رہی۔ آئندہ جو لوگ ان اوصاف سے آراستہ ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بھی یہ وعدہ پورا فرمائے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ خلافت صرف تیس (۳۰) برس قائم رہی ان کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ اعلیٰ درجے کے اوصاف والے لوگ یہی خلفاء تھے، کیونکہ وہ براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ تھے اور انھیں ایمان میں سبقت اور ہجرت کا شرف بھی حاصل تھا، ان کے بعد والوں کو یہ سارے فضائل حاصل نہ تھے، اس لیے ان کی خلافت اس بلند ترین درجے کی نہ تھی، مگر یہ بات غلط ہے کہ اس کے بعد امتِ مسلمہ اللہ کے اس وعدے سے محروم ہو گئی۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تیس (۳۰) سالوں کے بعد بھی ایسے خلفاء کی پیش گوئی فرمائی ہے جن کے زمانے میں دین غالب ہو گا۔ چنانچہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میرے ساتھ میرے والد بھی تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: [لَا يَزَالُ هٰذَا الدِّيْنُ عَزِيْزًا مَنِيْعًا إِلَي اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيْفَةً] ”یہ دین بارہ خلیفوں تک خوب غالب اور محفوظ رہے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات کی جو لوگوں نے مجھے سننے نہیں دی، میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ تو انھوں نے بتایا: [كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ] ”وہ سب قریش سے ہوں گے۔“ [مسلم، الإمارۃ، باب الناس تبع لقریش: 1821/9] ابو داؤد کی روایت (۴۲۷۹) میں یہ الفاظ بھی ہیں: [كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ] ”ان سب پر امت مجتمع ہو گی۔“ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ان الفاظ کو ضعیف کہا ہے۔
ان بارہ خلفاء سے مسلسل خلفاء مراد ہیں، یا درمیان میں کچھ وقفے سے آنے والے خلفاء مراد ہیں، یہ بات اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، مگر اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ میں نااہل لوگوں کے بعد پھر نبوی طریقے پر خلافت قائم ہونے کی پیش گوئی فرمائی ہے، حتیٰ کہ آخر زمانے میں مہدی خلیفہ راشد ہوں گے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [تَكُوْنُ النُّبُوَّةُ فِيْكُمْ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ تَكُوْنَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُوْنُ خِلَافَةً عَلٰی مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ فَتَكُوْنُ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ تَكُوْنَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَّرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُوْنُ مُلْكًا عَاضًّا فَيَكُوْنُ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَّكُوْنَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُوْنُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَتَكُوْنُ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ تَكُوْنَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَّرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُوْنُ خِلَافَةً عَلٰی مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، ثُمَّ سَكَتَ] [مسند أحمد: 273/4، ح: ۱۸۴۳۶، مسند احمد کے محقق اور شیخ البانی نے صحیحہ (۵) میں اسے حسن کہا ہے] ”تم میں نبوت رہے گی جب تک اللہ نے چاہا کہ رہے، پھر جب وہ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے، پھر اللہ اسے اٹھا لے گا جب چاہے گا کہ اسے اٹھا لے پھر ”ملک عاض“ (دانتوں سے کاٹنے والی بادشاہی) ہو گی اور جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے، وہ رہے گی، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا، تو اٹھا لے گا، پھر جبر والی بادشاہی ہو گی اور جب تک اللہ چاہے گا کہ رہے، وہ رہے گی، پھر جب وہ چاہے گا کہ اسے اٹھائے تو اٹھا لے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔“
اس آیت اور ان احادیث کی روشنی میں مسلمانوں کو ہمیشہ پُر امید رہنا چاہیے کہ جب بھی مسلمان ایمان اور عمل صالح پر کاربند ہو گئے، اللہ کے ساتھ شرک سے تائب ہو گئے، اپنی روزمرہ کی زندگی، اپنی معیشت، اپنی سیاست، غرض ہر چیز میں غیر اللہ کے حکم سے مکمل منہ موڑ کر ایک اللہ کے حکم پر چلنے لگے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے لگے، اللہ کے سوا ہر حاجت روا اور مشکل کشا کو چھوڑ کر ایک اللہ سے استغاثہ و استعانت کرنے لگے، بزدلی اور دنیا سے محبت کے بجائے شوقِ شہادت سے سرشار ہو کر جہاد کرنے لگے، تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور خلافت علی منہاج النبوۃ کی نعمت عطا فرمائے گا، کیونکہ اسے ایمان اور عمل صالح سے مزین ایسے بندے مطلوب ہیں جو {” يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا “} کی عملی تصویر ہوں، یعنی صرف اس کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ البتہ یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جب تک مسلمانوں کی موجودہ حالت نہیں بدلتی کہ ان کی عدالتوں میں کفار کا قانون رائج ہے، ان کی تجارت سود پر مبنی ہے، ان کی حکومت کا طریقہ کفار سے لیا ہوا ہے، ان کے معاشرے میں ہندوؤں اور یہود و نصاریٰ کی رسوم جاری ہیں، ان کی مساجد کے اندر پختہ قبروں کی پرستش ہو رہی ہے، ایک اللہ کو حاجت روا اور مشکل کُشا ماننے کے بجائے ہر ایک نے اپنا الگ داتا و دستگیر بنا رکھا ہے، وہ ایک امت بننے کے بجائے مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالت کے بدلنے تک اس خلافت کی نعمت کا حصول ایک خوبصورت خواب کے سوا کچھ نہیں جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔
➐ کچھ لوگوں نے چار صحابہ کے سوا تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو کافر کہنا اپنے دین کا جز بنا لیا ہے کوئی ان سے پوچھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح والوں سے خلافت عطا کرنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ کس طرح اور کن لوگوں کے ذریعے سے پورا ہوا؟ اگر وہ اپنے بارہ (۱۲) خود ساختہ اماموں کو حقیقی خلفاء بتائیں تو بتائیں علی اور حسن رضی اللہ عنھما کو چھوڑ کر دوسرے دس (۱۰) خلفاء و ائمہ کی حکومت زمین کے کس خطے پر تھی، ان میں سے کس نے امن کے ساتھ حکومت کی؟ ان ائمہ کی حالت تو یہ تھی کہ یہ حضرات خود بتاتے ہیں کہ ان کا بارھواں امام دشمنوں کے خوف سے ایک غار میں چھپ گیا اور آج تک نمودار نہیں ہوا۔ پھر اللہ کا وعدہ کن لوگوں کے ذریعے سے پورا ہوا؟ ان لوگوں کے باطل پر ہونے کے لیے یہ بات بھی ایک واضح اور فیصلہ کن دلیل ہے کہ اسلام کے مرکز مکہ اور مدینہ میں ان ساڑھے چودہ سو سالوںمیں حکومت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم تھے، یا پھر ان سے محبت کرنے والے۔ آج تک اللہ تعالیٰ نے اس پاک سرزمین میں صحابہ کے دشمنوں کے ناپاک قدم جمنے نہیں دیے۔
➑ { وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ:} فاسق کے کئی درجے ہیں، کامل فاسق وہی ہے جو ایمان ہی سے نکل جائے۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اس خلافت کے بعد جو لوگ کفر کریں اور کفر ہی پر مریں تو یہی لوگ پورے نافرمان ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو کوئی خلفائے اربعہ کی خلافت (اور ان کے فضل و شرف) سے منکر ہوا ان الفاظ سے اس کا حال سمجھا گیا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
55-1بعض نے اس وعدہ الٰہی کو صحابہ کرام کے ساتھ یا خلفائے راشدین کے ساتھ خاص قرار دیا ہے لیکن اس کی تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔ قرآن کے الفاظ عام ہیں اور ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مشروط ہیں۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ عہد خلافت راشدہ اور عہد خیر القرون میں، اس وعدہ الٰہی کا ظہور ہوا، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو زمین میں غلبہ عطا فرمایا۔ اپنے پسندیدہ دین اسلام کو عروج دیا اور مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دیا، پہلے مسلمان کفار عرب سے ڈرتے تھے، پھر اس کے برعکس معاملہ ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جو پیش گوئیاں فرمائی تھیں وہ بھی اس عہد میں پوری ہوئیں۔ مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا حیرہ سے ایک عورت تن تنہا اکیلی چلے گی اور بیت اللہ کا آ کر طواف کرے گی، اسے کوئی خوف خطرہ نہیں ہوگا۔ کسریٰ کے خزانے تمہارے قدموں میں ڈھیر ہوجائیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا (صحیح بخاری) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا (ان اللہ زوی لی الارض، فرایت مشارقھا ومغاربھا، وان امتی سیبلغ ملکھا ما زوی لی منھا) (صحیح مسلم) " اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے سکیڑ دیا " پس میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصے دیکھے، عنقریب میری امت کا دائرہ اقتدار وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک میرے لیے زمین سکیڑ دی گئی " حکمرانی کی یہ وسعت بھی مسلمانوں کے حصے میں آئی، اور فارس وشام اور مصر افریقہ اور دیگر دور دراز کے ممالک فتح ہوئے اور کفر و شرک کی جگہ توحید وسنت کی مشعلیں ہر جگہ روشن ہوگئیں اور اسلامی تہذیب وتمدن کا پھریرا چار دانگ عالم میں لہرا گیا۔ لیکن یہ وعدہ چونکہ مشروط تھا، جب مسلمان ایمان میں کمزور اور عمل صالح میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے اور اللہ نے ان کی عزت کو ذلت میں، ان کے اقتدار اور غلبے کو غلامی میں اور ان کے امن واستحکام کو خوف اور دہشت میں بدل دیا۔ 55-2یہ بھی ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ایک اور بنیادی شرط ہے جس کی وجہ سے مسلمان اللہ کی مدد کے مستحق اور اس وصف توحید سے عاری ہونے کے بعد وہ اللہ کی مدد سے محروم ہوجائیں گے۔ 55-3اس کفر سے مراد، وہی ایمان، عمل صالح اور توحید سے محرومی ہے، جس کے بعد ایک انسان اللہ کی اطاعت سے نکل جاتا اور کفر فسق کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ تم میں سے جو مومن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے [83] گا جیسے تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی تھی اور ان کے اس دین کو مضبوط کرے گا جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اور ان کی حالت خود کو امن میں تبدیل کر دے گا۔ پس وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے [84] تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔
[83] نظام خلافت کی استعداد ہر انسان میں بالقوۃ موجود ہے:۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو دنیا میں خلیفہ بنا کر بھیجا تھا تاکہ آدم اور اس کی اولاد دنیا میں وہ نظام حیات قائم کرے جو اللہ کی مرضی کے مطابق ہو اور جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو بھی اور بعد میں وقتاً فوقتاً ان کی اولاد کو بذریعہ وحی بتا بھی دیا تھا۔ اور نظام خلافت کے قائم کرنے کے لئے جو اوصاف درکار تھے وہ سب آدم اور اس کی اولاد کی فطرت میں ودیعت کر دیئے گئے تھے۔ ساتھ ہی انسان کو قوت ارادہ و اختیار بھی دیا گیا۔ اور اسی میں حضرت انسان کی آزمائش رکھ دی گئی کہ آیا وہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ اس مقصد خلافت کو پورا کرتا ہے یا نہیں؟ اور چونکہ ایسے اوصاف ہر انسان کی فطرت میں رکھ دیئے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے آدم کی تمام تر اولاد خلافت کی مستحق قرار پاتی ہے۔ التبہ ان سے وہ لوگ از خود خارج ہو جاتے ہیں جو اپنی مرضی اور اپنی خواہشات کو اللہ کی مرضی کے تحت نہ بنائیں۔ اس آیت کی رو سے منافقین کو اس خلافت ارضی کے استحقاق سے خارج کر دیا گیا اور ان لوگوں کو بھی جو سرے سے ایمان ہی نہ لائیں یا ان کے اعمال صالح نہ ہوں۔ گویا یہ استحقاق صرف ان لوگوں کے لئے باقی رہ گیا جو ایمان بھی لائیں اور اعمال بھی صالح بجا لائیں۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر انھیں زمین میں اقتدار حاصل ہو تو وہ ایسا نظام حیات قائم کریں گے جو اللہ کے ہاں پسندیدہ اور اس کی منشاء کے مطابق ہو اور یہی لوگ اپنے میں سے کسی بہترین آدمی کو اپنا امیر یا امام یا خلیفہ بنا لیں گے اور جب وہ ایسا دین یا نظام حیات قائم کر لیں گے تو اللہ ان کے دین کو اور زیادہ مضبوط بنا دیں گے اور ان کی نمایاں خصوصیت یہ ہو گی کہ شرک کو کسی قیمت پر بھی گوارا نہ کریں گے۔
صحابہ کرام سے خلافت ارضی اور دین کے استحکام کا وعدہ الہٰی :۔
اس آیت میں منکم سے اور اس سے پہلی آیات میں منافقین مدینے کے ذکر سے صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ وعدہ صحابہ کرامؓ کی جماعت سے کیا جا رہا ہے اور جب یہ سورت نازل ہوئی اس وقت تک مسلمان تنگدستی کی زندگی بسر کر رہے تھے فتح خیبر کے بعد مسلمانوں کی معیشت میں صرف اس حد تک آسودگی آئی تھی کہ مہاجرین نے جو باغ اور کھجوروں کے درخت معاہدہ مواخات کے تحت انصار سے مزارعت پر لئے تھے وہ انہوں نے واپس کر دیئے تھے۔ اور جنگ احزاب سے پہلے تک مسلمانوں کی نوخیز ریاست مدینہ کی یہ حالت تھی کہ وہاں ہر وقت کفار کے حملہ سے خوف و ہراس کی فضا چھائی رہتی تھی۔ جنگ احزاب کے خاتمہ پر البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا تھا کہ آج کے بعد کفار ہم پر چڑھائی کرنے کے لئے نہیں آئیں گے بلکہ اب ہم ان پر چڑھائیں کریں گے۔ مگر مدینہ سے باہر عرب میں لوٹ مار کا بازار گرم رہتا تھا اور کوئی شخص یا کوئی قافلہ خیر خیریت سے سفر نہ کر سکتا تھا۔ اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ نےصرف ایسے خوف وہراس کے خاتمہ کی خوشخبری دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کے علاوہ تنگ دستی کے خاتمہ کی بھی خوشخبری دی۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
تنگدستی اور بد امنی کے خاتمہ کی شہادت:۔
عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ دو آدمی آئے۔ ایک تنگی معیشت کی شکایت کرتا تھا اور دوسرا رہزنی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایسا امن ہو گا کہ یہاں سے جانے والا قافلہ بغیر کسی محافظ کے جائے گا اور اے عدی بن حاتم! کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟“ میں نے کہا ”نہیں البتہ اس کی خبر ملی ہے“ فرمایا: اگر تمہاری عمر زیادہ ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی لیکن اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو گا“ میں نے دل میں سوچا: ”قبیلہ بنو طے کے لٹیرے جنہوں نے تہلکہ مچا رکھا ہے اس وقت کہاں جائیں گے۔“ اور قیامت نہیں آئے گی کہ ایک شخص اپنا صدقہ لے کر چکر لگائے کہ اسے کوئی لینے والا مل جائے لیکن اسے کوئی صدقہ لینے والا نہیں ملے گا۔ اور تم لوگ کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔ میں نے کہا:”کسریٰ بن ہرمز؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ”اور اے عدی! اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو ضرور تم ایسے شخص کو دیکھو گے جو مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر ایسے آدمی کی تلاش میں نکلے گا جو اسے قبول کرے لیکن اسے ایسا کوئی آدمی نہ ملے گا۔“ [بخاری۔ کتاب الزکوۃ باب الصدقہ قبل الرد کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام]
حضرت عدی کہتے ہیں پھر میں نے حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرنے والی عورت کو دیکھا جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی تھی اور میں خود ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے۔ [بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ]
ان حالات میں ایسی پیشین گوئی مسلمانوں کے لئے ایک عظیم خوشخبری تھی چنانچہ اس خوشخبری کا کچھ حصہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی پورا ہو گیا۔ فتح مکہ اور بالخصوص اعلان براءت کے بعد عرب بھر سے لوٹ مار کی وارداتیں ختم ہو گئیں۔ اور صحابہ کرامؓ کو آسودگی بھی میسر آ گئی مگر عرب سے باہر ابھی تک خوف و ہراس، لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کی فضا قائم تھی۔ جو خلفائے راشدین کے زمانہ میں پوری ہوئی۔ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں فی الواقع اتنی آسودگی ہو گئی کہ ایک شخص اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے نکلتا تو اسے کوئی مستحق زکوٰۃ شخص نہیں ملتا تھا۔ ضمناً اس آیت سے درج ذیل نتائج بھی سامنے آتے ہیں:
1۔
حضرت عدی کہتے ہیں پھر میں نے حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرنے والی عورت کو دیکھا جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی تھی اور میں خود ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے۔ [بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ]
ان حالات میں ایسی پیشین گوئی مسلمانوں کے لئے ایک عظیم خوشخبری تھی چنانچہ اس خوشخبری کا کچھ حصہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی پورا ہو گیا۔ فتح مکہ اور بالخصوص اعلان براءت کے بعد عرب بھر سے لوٹ مار کی وارداتیں ختم ہو گئیں۔ اور صحابہ کرامؓ کو آسودگی بھی میسر آ گئی مگر عرب سے باہر ابھی تک خوف و ہراس، لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کی فضا قائم تھی۔ جو خلفائے راشدین کے زمانہ میں پوری ہوئی۔ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں فی الواقع اتنی آسودگی ہو گئی کہ ایک شخص اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے نکلتا تو اسے کوئی مستحق زکوٰۃ شخص نہیں ملتا تھا۔ ضمناً اس آیت سے درج ذیل نتائج بھی سامنے آتے ہیں:
1۔
اعمال صالحہ کی نئی تاویل:۔
صحابہ کرامؓ نے جو نظام خلافت قائم کیا۔ وہی اللہ کے ہاں پسندیدہ دین ہے۔ اور اللہ نے اسی دین کو ان کے لئے پسند فرمایا تھا اور اس نظام خلافت کی خصوصیات سورۃ حج کی آیت نمبر 41 میں یہ بیان فرمائیں کہ ایسے مومنوں کو جب ہم اقتدار بخشتے ہیں تو نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کرتے ہیں۔ بھلے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں اس وضاحت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اعمال صالح کس قسم کے اعمال ہوتے ہیں اور اس اصطلاح سے شرعاً کون سے اعمال مراد لئے جا سکتے ہیں۔ یہ وضاحت ہمیں اس لئے کرنا پڑی ہے کہ بعض کج فہم حضرات اعمال صالحہ سے مراد صلاحیت رکھنے والے کام لیتے ہیں جیسے وہ اعمال جن سے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہو۔ اس لحاظ سے ان کے نزدیک ہر وہ قوم جو اس وقت اقتدار حاصل کئے ہوئے ہے وہی ایماندار ہے اور اسی کے اعمال صالح ہیں۔ خواہ وہ قوم کافر، مشرک یا دہریہ ہی کیوں نہ ہو۔ ظاہر ہے یہ کج فکری کتاب و سنت کی تمام تر تعلیمات پر پانی پھیر دیتی ہے۔
2۔
2۔
صحابہ کرام کی فضیلت :۔
یہ نظام خلافت اس قدر مضبوط ہو گیا تھا جس کی تمام روئے زمین پر دھاک بیٹھ گئی تھی۔ اور یہ دور حضرت عثمانؓ کی شہادت تک مسلسل ترقی پذیر رہا۔ اگرچہ بعد میں مسلمانوں کے باہمی تنازعات کی بنا پر ان میں انحطاط آنا شروع ہو گیا۔ تاہم یہ نظام بعد میں مدتوں چلتا رہا۔
3۔ اس نظام میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا، لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی ہر قسم کے شرک سے پاک و صاف تھی۔ ان تمام باتوں سے صحابہ کرامؓ کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
3۔ اس نظام میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا، لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی ہر قسم کے شرک سے پاک و صاف تھی۔ ان تمام باتوں سے صحابہ کرامؓ کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
کون سے اعمال صالح ہیں:۔
اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا اللہ کا یہ وعدہ صرف صحابہ کرام کے لئے ہی مخصوص تھا یا بعد کے مومنوں کے لئے بھی ہے؟ تو اس کا جواب اسی آیت میں مذکور ہے یعنی یہ وعدہ جب صحابہ کرامؓ سے پہلے کے مومنوں کے لئے بھی تھا تو بعد میں آنے والے مومنوں کے لئے کیوں نہ ہو گا؟ بشرطیکہ ان میں مندرجہ اوصاف پائے جائیں یعنی وہ سچے مومن ہوں، اعمال صالح بجا لائیں۔ نظام، نماز اور زکوٰۃ قائم کریں۔ اچھے کاموں کا حکم دیں۔ برے کاموں سے روکیں ان کا مقصد محض اللہ کے دین یا نظام خلافت کا قیام ہو۔ اور اس کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ ان کی زندگیاں شرک سے کلیتاً پاک صاف ہوں۔ صرف اللہ سے ڈرنے والے اور اسی پر توکل کرنے والے ہوں اور باہم متحد ہو کر اور باہمی مشورہ سے کام کریں۔ اور تفرقہ بازی سے بچ رہیں۔ کیونکہ قرآن کریم تفرقہ بازی کو بھی اقسام شرک میں شمار کیا ہے۔ اگر مومن ان اوصاف کو اپنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ ان سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کرے۔
[84] یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے مومنوں یا صحابہ کرام سے ایسے وعدہ اور پکی خوشخبری کے بعد بھی ان کا ساتھ نہ دے اور کفر و نفاق کی راہ اختیار کرے تو ایسے لوگ یقیناً بدکردار ہیں اور بعض علماء نے اس فقرہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ خلفائے راشدین کی خلافت قائم ہونے اور دین کے مضبوط ہونے کے بعد بھی جو شخص اس بات کا انکار کرے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کا اختیار کردہ دین اللہ کا پسندیدہ دین نہیں تھا وہ ایسے لوگ فاسق ہیں۔
[84] یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے مومنوں یا صحابہ کرام سے ایسے وعدہ اور پکی خوشخبری کے بعد بھی ان کا ساتھ نہ دے اور کفر و نفاق کی راہ اختیار کرے تو ایسے لوگ یقیناً بدکردار ہیں اور بعض علماء نے اس فقرہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ خلفائے راشدین کی خلافت قائم ہونے اور دین کے مضبوط ہونے کے بعد بھی جو شخص اس بات کا انکار کرے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ کا اختیار کردہ دین اللہ کا پسندیدہ دین نہیں تھا وہ ایسے لوگ فاسق ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عروج اسلام لازم ہے ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ فرما رہا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو زمین کا مالک بنا دے گا، لوگوں کا سردار بنا دے گا، ملک ان کی وجہ سے آباد ہوگا، بندگان رب ان سے دل شاد ہوں گے۔ آج یہ لوگوں سے لرزاں وترساں ہیں کل یہ باامن و اطمینان ہوں گے، حکومت ان کی ہو گی، سلطنت ان کے ہاتھوں میں ہوگی ‘۔
الحمدللہ یہی ہوا بھی، مکہ، خیبر، بحرین، جزیرہ عرب اور یمن تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں فتح ہوگیا۔ حجر کے مجوسیوں نے جزیہ دے کر ماتحتی قبول کرلی، شام کے بعض حصوں کا بھی یہی حال ہوا۔ شاہ روم ہرقل نے تحفے تحائف روانہ کئے۔ مصر کے والی نے بھی خدمت اقدس میں تحفے بھیجے، اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس نے، عمان کے شاہوں نے بھی یہی کیا اور اس طرح اپنی اطاعت گزاری کا ثبوت دیا۔
حبشہ کے بادشاہ اصحمہ رحمہ اللہ تو مسلمان ہی ہوگئے اور ان کے بعد جو والی حبشہ ہوا۔ اس نے بھی سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں عقیدت مندی کے ساتھ تحائف روانہ کئے۔ پھر جب کہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مہمانداری میں بلوالیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سنبھالی، جزیرہ عرب کی حکومت کو مضبوط اور مستقل بنایا اور ساتھ ہی ایک جرار لشکر سیف اللہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں بلاد فارس کی طرف بھیجا جس نے وہاں فتوحات کا سلسلہ شروع کیا، کفر کے درختوں کو چھانٹ دیا اور اسلامی پودے ہر طرف لگادئیے۔
الحمدللہ یہی ہوا بھی، مکہ، خیبر، بحرین، جزیرہ عرب اور یمن تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں فتح ہوگیا۔ حجر کے مجوسیوں نے جزیہ دے کر ماتحتی قبول کرلی، شام کے بعض حصوں کا بھی یہی حال ہوا۔ شاہ روم ہرقل نے تحفے تحائف روانہ کئے۔ مصر کے والی نے بھی خدمت اقدس میں تحفے بھیجے، اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس نے، عمان کے شاہوں نے بھی یہی کیا اور اس طرح اپنی اطاعت گزاری کا ثبوت دیا۔
حبشہ کے بادشاہ اصحمہ رحمہ اللہ تو مسلمان ہی ہوگئے اور ان کے بعد جو والی حبشہ ہوا۔ اس نے بھی سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں عقیدت مندی کے ساتھ تحائف روانہ کئے۔ پھر جب کہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مہمانداری میں بلوالیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سنبھالی، جزیرہ عرب کی حکومت کو مضبوط اور مستقل بنایا اور ساتھ ہی ایک جرار لشکر سیف اللہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں بلاد فارس کی طرف بھیجا جس نے وہاں فتوحات کا سلسلہ شروع کیا، کفر کے درختوں کو چھانٹ دیا اور اسلامی پودے ہر طرف لگادئیے۔
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ وغیرہ امراء کے ماتحت شام کے ملکوں کی طرف لشکر اسلام کے جاں بازوں کو روانہ فرمایا، انہوں نے بھی یہاں محمدی جھنڈا بلند کیا اور صلیبی نشان اوندھے منہ گرائے، پھر مصر کی طرف مجاہدین کا لشکر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی سرداری میں روانہ فرمایا۔ بصریٰ، دمشق، حران وغیرہ کی فتوحات کے بعد آپ رضی اللہ عنہ بھی راہی ملک بقا ہوئے اور بہ الہام الٰہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے فاروق کے زبردست زورآور ہاتھوں میں سلطنت اسلام کی باگیں دے گئے۔
سچ تو یہ ہے کہ آسمان تلے کسی نبی علیہ السلام کے بعد ایسے پاک خلیفوں کا دور نہیں ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی قوت، طبیعت، آپ رضی اللہ عنہ کی نیکی، سیرت، آپ رضی اللہ عنہ کے عدل کا کمال، آپ رضی اللہ عنہ کی ترسی کی مثال دنیا میں آپ رضی اللہ عنہ کے بعد تلاش کرنا محض بے سود اور بالکل لا حاصل ہے۔ تمام ملک شام، پورا علاقہ مصر، اکثر حصہ فارس آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں فتح ہوا۔ سلطنت کسریٰ کے ٹکڑے اڑگئے، خود کسریٰ کو منہ چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہ ملی۔ کامل ذلت واہانت کے ساتھ بھاگتا پھرا۔ قیصر کو فنا کر دیا۔ مٹا دیا۔ شام کی سلطنت سے دست بردار ہونا پڑا۔ قسطنطنیہ میں جا کر منہ چھپایا ان سلطنتوں کی صدیوں کی دولت اور جمع کئے ہوئے بے شمار خزانے ان بندگان رب نے اللہ کے نیک نفس اور مسکین خصلت بندوں پر خرچ کئے اور اللہ کے وعدے پورے ہوئے جو اس نے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوائے تھے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
سچ تو یہ ہے کہ آسمان تلے کسی نبی علیہ السلام کے بعد ایسے پاک خلیفوں کا دور نہیں ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی قوت، طبیعت، آپ رضی اللہ عنہ کی نیکی، سیرت، آپ رضی اللہ عنہ کے عدل کا کمال، آپ رضی اللہ عنہ کی ترسی کی مثال دنیا میں آپ رضی اللہ عنہ کے بعد تلاش کرنا محض بے سود اور بالکل لا حاصل ہے۔ تمام ملک شام، پورا علاقہ مصر، اکثر حصہ فارس آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں فتح ہوا۔ سلطنت کسریٰ کے ٹکڑے اڑگئے، خود کسریٰ کو منہ چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہ ملی۔ کامل ذلت واہانت کے ساتھ بھاگتا پھرا۔ قیصر کو فنا کر دیا۔ مٹا دیا۔ شام کی سلطنت سے دست بردار ہونا پڑا۔ قسطنطنیہ میں جا کر منہ چھپایا ان سلطنتوں کی صدیوں کی دولت اور جمع کئے ہوئے بے شمار خزانے ان بندگان رب نے اللہ کے نیک نفس اور مسکین خصلت بندوں پر خرچ کئے اور اللہ کے وعدے پورے ہوئے جو اس نے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوائے تھے۔ «صَلَوَاتُ اللَّهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ» ۔
پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آتا ہے اور مشرق و مغرب کی انتہا تک اللہ کا دین پھیل جاتا ہے۔ اللہ کا لشکر ایک طرف اقصیٰ مشرق تک اور دوسری طرف انتہاء مغرب تک پہنچ کر دم لیتے ہیں۔ اور مجاہدین کی آب دار تلواریں اللہ کی توحید کو دنیا کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں پہنچا دیتی ہیں۔ اندلس، قبرص، قیروان وسبتہ یہاں تک کہ چین تک آپ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فتح ہوئے۔ کسریٰ قتل کر دیا گیا اس کا ملک تو ایک طرف نام و نشان تک کھود کر پھینک دیا گیا اور ہزارہا برس کے آتش کدے بجھا دئیے گئے اور ہر اونچے ٹیلے سے صدائے اللہ اکبر آنے لگی۔
دوسری جانب مدائن، عراق، خراسان، اھواز سب فتح ہو گئے ترکوں سے جنگ عظیم ہوئی آخر ان کا بڑا بادشاہ خاقان خاک میں ملا ذلیل وخوار ہوا اور زمین کے مشرقی اور مغربی کونوں نے اپنے خراج بارگاہ خلافت عثمانی رضی اللہ عنہ میں پہنچوائے۔ حق تو یہ ہے کہ مجاہدین کی ان جانبازیوں میں جان ڈالنے والی چیز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تلاوت قرآن کی برکت تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو قرآن سے کچھ ایسا شغف تھا جو بیان سے باہر ہے۔ قرآن کے جمع کرنے، اس کے حفظ کرنے، اس کی اشاعت کرنے، اس کے سنبھالنے میں جو نمایاں خدمیتں خلیفہ ثالث نے انجام دیں وہ یقیناً عدیم المثال ہیں۔
دوسری جانب مدائن، عراق، خراسان، اھواز سب فتح ہو گئے ترکوں سے جنگ عظیم ہوئی آخر ان کا بڑا بادشاہ خاقان خاک میں ملا ذلیل وخوار ہوا اور زمین کے مشرقی اور مغربی کونوں نے اپنے خراج بارگاہ خلافت عثمانی رضی اللہ عنہ میں پہنچوائے۔ حق تو یہ ہے کہ مجاہدین کی ان جانبازیوں میں جان ڈالنے والی چیز سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تلاوت قرآن کی برکت تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو قرآن سے کچھ ایسا شغف تھا جو بیان سے باہر ہے۔ قرآن کے جمع کرنے، اس کے حفظ کرنے، اس کی اشاعت کرنے، اس کے سنبھالنے میں جو نمایاں خدمیتں خلیفہ ثالث نے انجام دیں وہ یقیناً عدیم المثال ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہ کے زمانے کو دیکھو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کو دیکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ { میرے لیے زمین سمیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرق و مغرب دیکھ لی عنقریب میری امت کی سلطنت وہاں تک پہنچ جائے گی جہاں تک اس وقت مجھے دکھائی گئی ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2889]
(مسلمانو! رب کے اس وعدے کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کو دیکھو پھر تاریخ کے اوراق پلٹو اور اپنی گزشتہ عظمت وشان کو دیکھو آؤ نظریں ڈالو کہ آج تک اسلام کا پرچم بحمد اللہ بلند ہے اور مسلمان ان مجاہدین کرام کی مفتوح زمینوں میں شاہانہ حیثیت سے چل پھر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول سچے ہیں مسلمانو حیف اور صد حیف اس پر جو قرآن حدیث کے دائرے سے باہر نکلے حسرت اور صد حسرت اس پر جو اپنے آبائی ذخیرے کو غیر کے حوالے کرے۔ اپنے آباؤ اجداد کے خون کے قطروں سے خریدی ہوئی چیز کو اپنی نالائقیوں اور بے دینیوں سے غیر کی بھینٹ چڑھاوے اور سکھ سے بیٹھا، لیٹا رہے۔ اللہ ہمیں اپنا لشکری بنا لے آمین آمین)۔
(مسلمانو! رب کے اس وعدے کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کو دیکھو پھر تاریخ کے اوراق پلٹو اور اپنی گزشتہ عظمت وشان کو دیکھو آؤ نظریں ڈالو کہ آج تک اسلام کا پرچم بحمد اللہ بلند ہے اور مسلمان ان مجاہدین کرام کی مفتوح زمینوں میں شاہانہ حیثیت سے چل پھر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول سچے ہیں مسلمانو حیف اور صد حیف اس پر جو قرآن حدیث کے دائرے سے باہر نکلے حسرت اور صد حسرت اس پر جو اپنے آبائی ذخیرے کو غیر کے حوالے کرے۔ اپنے آباؤ اجداد کے خون کے قطروں سے خریدی ہوئی چیز کو اپنی نالائقیوں اور بے دینیوں سے غیر کی بھینٹ چڑھاوے اور سکھ سے بیٹھا، لیٹا رہے۔ اللہ ہمیں اپنا لشکری بنا لے آمین آمین)۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { لوگوں کا کام بھلائی سے جاری رہے گا یہاں تک کہ ان میں بارہ خلفاء ہوں گے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ آہسۃ بولا جو راوی حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہا سن نہ سکے تو انہوں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ یہ فرمایا ہے { یہ سب کے سب قریشی ہوں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7222]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس شام کو بیان فرمائی تھی جس دن ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رجم کیا گیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ ان بارہ خلیفوں کا ہونا ضروری ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ وہ خلفاء نہیں جو شیعوں نے سمجھ رکھے ہیں کیونکہ شیعوں کے اماموں میں بہت سے وہ بھی ہیں جنہیں خلافت وسلطنت کا کوئی حصہ بھی پوری عمر میں نہیں ملا تھا اور یہ بارہ خلفاء ہوں گے۔ سب کے سب قریشی ہوں گے، حکم میں عدل کرنے والے ہوں گے، ان کی بشارت اگلی کتابوں میں بھی ہے اور یہ شرط نہیں ہے کہ یہ سب یکے بعد دیگرے ہوں گے بلکہ ان کا ہونایقینی ہے خواہ پے در پے کچھ ہوں خواہ متفرق زمانوں میں کچھ ہوں۔
چنانچہ چاروں خلیفہ تو بالترتیب ہوئے اول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے بعد پھر سلسلہ ٹوٹ گیا پھر بھی ایسے خلیفہ ہوئے اور ممکن ہے آگے چل کر بھی ہوں۔ ان کے صحیح زمانوں کا علم اللہ ہی کو ہے۔
ہاں اتنا یقینی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام بھی انہی بارہ میں سے ہوں گے جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جن کی کنیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت سے مطابق ہوگی تمام زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے جیسے کہ وہ ظلم وناانصافی سے بھرگئی ہوگی۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی پھر کاٹ کھانے والا ملک ہو جائے گا } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4646، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوالعالیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم بیس سال تک مکے میں رہے اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کی طرف دنیا کو دعوت دیتے رہے لیکن یہ زمانہ پوشیدگی کا، ڈر خوف کا اور بے اطمینانی کا تھا، جہاد کا حکم نہیں آیا تھا۔ مسلمان بے حد کمزور تھے اس کے بعد ہجرت کا حکم ہوا۔ مدینے پہنچے اب جہاد کا حکم ملا جہاد شروع ہوا دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ اہل اسلام بہت خائف تھے۔ خطرے سے کوئی وقت خالی نہیں جاتا تھا صبح شام صحابہ رضی اللہ عنہم ہتھیاروں سے آراستہ رہتے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اسی طرح خوف زدہ ہی رہیں گے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہماری زندگی کی کوئی گھڑی بھی اطمینان سے نہیں گزرے گی؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہتھیار اتار کر بھی ہمیں کبھی آسودگی کا سانس لینا میسر آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے سکون سے فرمایا: { کچھ دن اور صبر کر لو پھر تو اس قدر امن و اطمینان ہو جائے گا کہ پوری مجلس میں، بھرے دربار میں چوکڑی بھر کر آرام سے بیٹھے ہوئے رہو گے۔ ایک کے پاس کیا کسی کے پاس بھی کوئی ہتھیار نہ ہوگا کیونکہ کامل امن وامان پورا اطمینان ہوگا }۔
اسی وقت یہ آیت اتری۔ پھر تو اللہ کے نبی جزیرہ عرب پر غالب آگئے عرب میں بھی کوئی کافر نہ رہا مسلمانوں کے دل خوف سے خالی ہو گئے اور ہتھیار ہر وقت لگائے رہنے ضروری نہ رہے۔ پھر یہی امن و راحت کا دور دورہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد بھی تین خلافتوں تک رہا یعنی ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے تک۔ پھر مسلمان ان جھگڑوں میں پڑگئے جو رونما ہوئے پھر خوف زدہ رہنے لگے اور پہرے دار اور چوکیدار داروغے وغیرہ مقرر کئے اپنی حالتوں کو متغیر کیا تو متغیر ہوگئے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26179:مرسل]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس شام کو بیان فرمائی تھی جس دن ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رجم کیا گیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ ان بارہ خلیفوں کا ہونا ضروری ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ وہ خلفاء نہیں جو شیعوں نے سمجھ رکھے ہیں کیونکہ شیعوں کے اماموں میں بہت سے وہ بھی ہیں جنہیں خلافت وسلطنت کا کوئی حصہ بھی پوری عمر میں نہیں ملا تھا اور یہ بارہ خلفاء ہوں گے۔ سب کے سب قریشی ہوں گے، حکم میں عدل کرنے والے ہوں گے، ان کی بشارت اگلی کتابوں میں بھی ہے اور یہ شرط نہیں ہے کہ یہ سب یکے بعد دیگرے ہوں گے بلکہ ان کا ہونایقینی ہے خواہ پے در پے کچھ ہوں خواہ متفرق زمانوں میں کچھ ہوں۔
چنانچہ چاروں خلیفہ تو بالترتیب ہوئے اول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے بعد پھر سلسلہ ٹوٹ گیا پھر بھی ایسے خلیفہ ہوئے اور ممکن ہے آگے چل کر بھی ہوں۔ ان کے صحیح زمانوں کا علم اللہ ہی کو ہے۔
ہاں اتنا یقینی ہے کہ امام مہدی علیہ السلام بھی انہی بارہ میں سے ہوں گے جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے جن کی کنیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت سے مطابق ہوگی تمام زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے جیسے کہ وہ ظلم وناانصافی سے بھرگئی ہوگی۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی پھر کاٹ کھانے والا ملک ہو جائے گا } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4646، قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوالعالیہ رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم بیس سال تک مکے میں رہے اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کی طرف دنیا کو دعوت دیتے رہے لیکن یہ زمانہ پوشیدگی کا، ڈر خوف کا اور بے اطمینانی کا تھا، جہاد کا حکم نہیں آیا تھا۔ مسلمان بے حد کمزور تھے اس کے بعد ہجرت کا حکم ہوا۔ مدینے پہنچے اب جہاد کا حکم ملا جہاد شروع ہوا دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ اہل اسلام بہت خائف تھے۔ خطرے سے کوئی وقت خالی نہیں جاتا تھا صبح شام صحابہ رضی اللہ عنہم ہتھیاروں سے آراستہ رہتے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم اسی طرح خوف زدہ ہی رہیں گے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہماری زندگی کی کوئی گھڑی بھی اطمینان سے نہیں گزرے گی؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہتھیار اتار کر بھی ہمیں کبھی آسودگی کا سانس لینا میسر آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے سکون سے فرمایا: { کچھ دن اور صبر کر لو پھر تو اس قدر امن و اطمینان ہو جائے گا کہ پوری مجلس میں، بھرے دربار میں چوکڑی بھر کر آرام سے بیٹھے ہوئے رہو گے۔ ایک کے پاس کیا کسی کے پاس بھی کوئی ہتھیار نہ ہوگا کیونکہ کامل امن وامان پورا اطمینان ہوگا }۔
اسی وقت یہ آیت اتری۔ پھر تو اللہ کے نبی جزیرہ عرب پر غالب آگئے عرب میں بھی کوئی کافر نہ رہا مسلمانوں کے دل خوف سے خالی ہو گئے اور ہتھیار ہر وقت لگائے رہنے ضروری نہ رہے۔ پھر یہی امن و راحت کا دور دورہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد بھی تین خلافتوں تک رہا یعنی ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانے تک۔ پھر مسلمان ان جھگڑوں میں پڑگئے جو رونما ہوئے پھر خوف زدہ رہنے لگے اور پہرے دار اور چوکیدار داروغے وغیرہ مقرر کئے اپنی حالتوں کو متغیر کیا تو متغیر ہوگئے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26179:مرسل]
بعض سلف سے منقول ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کی خلافت کی حقانیت کے بارے میں اس آیت کو پیش کیا۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس وقت یہ آیت اتری ہے اس وقت ہم انتہائی خوف اور اضطراب کی حالت میں تھے۔ جیسے فرمان ہے آیت «اذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [8-الأنفال:26]، یعنی ’ یہ وہ وقت بھی تھا کہ تم بے حد کمزور اور تھوڑے تھے اور قدم قدم اور دم دم پر خوف زدہ رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعداد بڑھا دی تمہیں قوت وطاقت عنایت فرمائی اور امن وامان دیا ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کو اس نے زمین کا مالک کر دیا تھا ‘ جیسے کہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:129]، ’ بہت ممکن ہے بلکہ بہت ہی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دے اور تمہیں ان کا جانشین بنا دے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:5-6] یعنی ’ ہم نے ان پر احسان کرنا چاہا جو زمین بھر میں سب سے زیادہ ضعیف اور ناتواں تھے ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کو اس نے زمین کا مالک کر دیا تھا ‘ جیسے کہ کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:129]، ’ بہت ممکن ہے بلکہ بہت ہی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دے اور تمہیں ان کا جانشین بنا دے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:5-6] یعنی ’ ہم نے ان پر احسان کرنا چاہا جو زمین بھر میں سب سے زیادہ ضعیف اور ناتواں تھے ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ ان کے دین کو جو اللہ کا پسندیدہ ہے جما دے گا اور اسے قوت و طاقت دے گا ‘۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جب بطور وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: { کیا تو نے حیرہ دیکھا ہے } اس نے جواب دیا کہ میں حیرہ کو نہیں جانتا ہاں اس کا نام سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ میرے اس دین کو کامل طور پر پھیلائے گا یہاں تک کہ امن وامان قائم ہو جائے گا کہ حیرہ سے ایک سانڈنی سوار عورت تنہا نکلے گی اور وہ بیت اللہ تک پہنچ کر طواف سے فارغ ہو کر واپس ہوگی نہ خوف زدہ ہوگی نہ ہی اس کے ساتھ محافظ ہوگا۔ یقین مان کہ کسریٰ بن ھرمز کے خزانے مسلمانوں کی فتوحات میں آئیں گے }۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اسی کسری بن ھرمز کے۔ سنو اس قدر مال بڑھ جائے گا کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ملے گا }۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اب تم دیکھ لو کہ فی الواقع حیرہ سے عورتیں بغیر کسی کی پناہ کی آتی جاتی ہیں۔ اس پیشن گوئی کو پورا ہوتے ہوئے ہم نے دیکھ لیا دوسری پیشین گوئی تو میری نگاہوں کے سامنے پوری ہوئی کسریٰ کے خزانے فتح کرنے والوں نے بتایا خود میں موجود تھا اور تیسری پیشین گوئی یقیناً پوری ہو کر رہے گی کیونکہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3595]
مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { اس امت کو ترقی اور بڑھوتری کی مدد اور دین کی اشاعت کی بشارت دو۔ ہاں جو شخص آخرت کا عمل دنیا کے حاصل کرنے کے لیے کرے وہ جان لے کہ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:134/5:صحیح]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اسی کسری بن ھرمز کے۔ سنو اس قدر مال بڑھ جائے گا کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ملے گا }۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اب تم دیکھ لو کہ فی الواقع حیرہ سے عورتیں بغیر کسی کی پناہ کی آتی جاتی ہیں۔ اس پیشن گوئی کو پورا ہوتے ہوئے ہم نے دیکھ لیا دوسری پیشین گوئی تو میری نگاہوں کے سامنے پوری ہوئی کسریٰ کے خزانے فتح کرنے والوں نے بتایا خود میں موجود تھا اور تیسری پیشین گوئی یقیناً پوری ہو کر رہے گی کیونکہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3595]
مسند احمد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { اس امت کو ترقی اور بڑھوتری کی مدد اور دین کی اشاعت کی بشارت دو۔ ہاں جو شخص آخرت کا عمل دنیا کے حاصل کرنے کے لیے کرے وہ جان لے کہ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ملے گا }۔ ۱؎ [مسند احمد:134/5:صحیح]
پھر فرماتا ہے کہ ’ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے ‘۔
مسند میں ہے { معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف پالان کی لکڑی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے نام سے مجھے آواز دی میں نے «لبیک و سعدیک» کہا پھر تھوڑی سی دیر کے بعد چلنے کے بعد اسی طرح مجھے پکارا اور میں نے بھی اسی طرح جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو اللہ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ } میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں }۔ پھر تھوڑی سی دیر چلنے کے بعد مجھے پکارا اور میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو اللہ کے ذمے بندوں کا حق کیا ہے؟ } میں نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پورا علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ کہ انہیں عذاب نہ کرے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5967]
پھر فرمایا ’ اس کے بعد جو منکر ہو جائے وہ یقیناً فاسق ہے ‘۔ یعنی اس کے بعد بھی جو میری فرمانبرداری چھوڑ دے اس نے میری حکم عدولی کی اور یہ گناہ سخت اور بہت بڑا ہے۔ شان الٰہی دیکھو جتنا جس زمانے میں اسلام کا زور رہا اتنی ہی مدد اللہ کی ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے ایمان میں بڑھے ہوئے تھے فتوحات میں بھی سب سے آگے نکل گئے جوں جوں ایمان کمزور ہوتا گیا دنیوی حالت سلطنت وشوکت بھی گرتی گئی۔
بخاری و مسلم میں ہے { میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ برسر حق رہے گی اور وہ غالب اور نڈر رہے گی ان کی مخالفت ان کا کچھ نہ بگاڑسکیں گے قیامت تک یہ اسی طرح رہے گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7459]
مسند میں ہے { معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف پالان کی لکڑی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے نام سے مجھے آواز دی میں نے «لبیک و سعدیک» کہا پھر تھوڑی سی دیر کے بعد چلنے کے بعد اسی طرح مجھے پکارا اور میں نے بھی اسی طرح جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو اللہ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ } میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں }۔ پھر تھوڑی سی دیر چلنے کے بعد مجھے پکارا اور میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جانتے ہو جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو اللہ کے ذمے بندوں کا حق کیا ہے؟ } میں نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی پورا علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ کہ انہیں عذاب نہ کرے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5967]
پھر فرمایا ’ اس کے بعد جو منکر ہو جائے وہ یقیناً فاسق ہے ‘۔ یعنی اس کے بعد بھی جو میری فرمانبرداری چھوڑ دے اس نے میری حکم عدولی کی اور یہ گناہ سخت اور بہت بڑا ہے۔ شان الٰہی دیکھو جتنا جس زمانے میں اسلام کا زور رہا اتنی ہی مدد اللہ کی ہوئی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے ایمان میں بڑھے ہوئے تھے فتوحات میں بھی سب سے آگے نکل گئے جوں جوں ایمان کمزور ہوتا گیا دنیوی حالت سلطنت وشوکت بھی گرتی گئی۔
بخاری و مسلم میں ہے { میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ برسر حق رہے گی اور وہ غالب اور نڈر رہے گی ان کی مخالفت ان کا کچھ نہ بگاڑسکیں گے قیامت تک یہ اسی طرح رہے گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7459]
اور روایت میں ہے { یہاں تک اللہ کا وعدہ آ جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1923]
ایک اور روایت میں ہے { یہاں تک کہ یہی جماعت سب سے آخر دجال سے جہاد کرے گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:3387:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ { عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے تک یہ لوگ کافروں پر غالب رہیں گے }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:2078:ضعیف وله شواهد] یہ سب روایتیں صحیح ہیں اور ایک ہی مطلب سب کا ہے۔
ایک اور روایت میں ہے { یہاں تک کہ یہی جماعت سب سے آخر دجال سے جہاد کرے گی }۔ ۱؎ [مسند بزار:3387:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ { عیسیٰ علیہ السلام کے اترنے تک یہ لوگ کافروں پر غالب رہیں گے }۔ ۱؎ [مسند ابو یعلی:2078:ضعیف وله شواهد] یہ سب روایتیں صحیح ہیں اور ایک ہی مطلب سب کا ہے۔