ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 52

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَخۡشَ اللّٰہَ وَ یَتَّقۡہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۵۲﴾
اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس سے بچے تو یہی لوگ مرُاد پانے والے ہیں۔ En
اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں
En
جو بھی اللہ تعالیٰ کی، اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، خوف الٰہی رکھیں اور اس کے عذابوں سے ڈرتے رہیں، وہی نجات پانے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 52){ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …: يَتَّقْهِ } اصل میں {يَتَّقِيْهِ} تھا، آیت کے شروع میں اسم جازم { مَنْ } کی وجہ سے اس کی یاء گر گئی اور لفظ {يَتَّقِهِ} ہو گیا، جس میں قاف اور ہاء دونوں پر کسرہ ہے، پھر تخفیف کے لیے قاف کو ساکن کر دیا، جیسے {كَتْفٌ} کی تاء کو ساکن کیا گیا۔ (ابوالسعود) یعنی صرف باہمی جھگڑے کے لیے ہی نہیں بلکہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور کوئی کوتاہی ہو جائے تو اللہ سے ڈرے، اس گناہ سے توبہ کرے اور معافی مانگے اور آئندہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور جو ایسا کریں سو وہی مراد پانے والے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52-1یعنی فلاح و کامیابی کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو اپنے تمام معاملات میں اللہ اور رسول کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرتے اور انہی کی اطاعت کرتے ہیں اور خشیت الٰہی اور تقوٰی سے متصف ہیں، نہ کہ دوسرے لوگ، جو ان صفات سے محروم ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

52۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اللہ سے ڈرے، اور اس کی نافرمانی سے بچتا رہے تو ایسے ہی لوگ با مراد ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اطاعت، خاص طور پر حکم شریعت کی اطاعت کی فضیلت بیان کی تو تمام احوال میں اطاعت کی فضیلت کا عمومی تذکرہ کیا اور فرمایا:﴿ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ اور جو اطاعت کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی خبر کی تصدیق اور ان کے حکم کی تعمیل کرتا ہے﴿ وَیَخْشَ اللّٰهَ اور اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرتا ہے کہ اس کا یہ خوف معرفت سے مقرون ہوتا ہے، بنابریں وہ منہیات کو ترک کر دیتا ہے اور خواہشات نفس کی تعمیل سے باز آجاتا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿وَیَتَّقْهِ اور تقویٰ اختیار کرتے ہوئے محظورات کو چھوڑ دیتا ہے کیونکہ تقویٰ سے، علی الاطلاق، مراد ہے مامورات کی تعمیل کرنا اور منہیات کو چھوڑ دینا اور جب یہ نیکی اور اطاعت سے مقرون ہو… جیسا کہ اس مقام پر ہے… تب اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو چھوڑ کر اس کے عذاب سے بچنا ہے۔
﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ یہی لوگ، جو اطاعت الٰہی، اطاعت رسول، تقوائے الٰہی اور خشیت الٰہی کے جامع ہیں ﴿ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠ کامیاب ہیں۔ اسباب عذاب کو ترک کر کے، اس سے نجات حاصل کرکے، ثواب کے اسباب اختیار کر کے اور اس کی منزل تک پہنچ کر وہ کامیاب ہوئے۔ پس کامیابی انھی کے لیے مخصوص ہے۔ جو کوئی ان لوگوں کے اوصاف سے متصف نہیں تو وہ ان اوصاف حمیدہ میں کوتاہی کے مطابق اس فوزوفلاح سے محروم ہو گا۔
یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشترک حق کے بیان پر مشتمل ہے۔ رسول کے حق سے مراد اطاعت رسول ہے جو ایمان کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص حق سے مراد تقویٰ اور خشیت الٰہی ہے اور تیسرا حق جو صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مختص ہے، وہ ہے آپ کی مدد و توقیر کرنا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان حقوق ثلاثہ کو سورۃ الفتح میں یوں جمع فرمایا ہے: ﴿ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ٘ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّ٘رُوْهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوْهُ بُؔكْرَةً وَّاَصِیْلًا (الفتح:48؍9) تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور توقیر کرو اور صبح و شام اس (اللہ تعالیٰ) کی تسبیح بیان کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذَكَرَ فضل الطاعة في الحكم خصوصاً؛ ذَكَرَ فضلَها عموماً في جميع الأحوال، فقال: {ومَنْ يُطِع اللهَ ورسولَه}: فيصدِّقُ خَبَرَهُما ويمتثلُ أمْرَهُما {ويَخْشَ الله}؛ أي: يخافُه خوفاً مقروناً بمعرفة، فيترُكُ ما نهى عنه، ويكفُّ نفسَه عمَّا تَهْوى، ولهذا قال: {وَيَتَّقْهِ}: بترك المحظور؛ لأن التَّقْوى عند الإطلاق يدخُلُ فيها فعلُ المأمور وتركُ المنهيِّ عنه، وعند اقترانها بالبرِّ أو الطاعة ـ كما في هذا الموضع ـ تفسَّر بتوقِّي عذاب الله بترك معاصيه. {فأولئك}: الذين جَمَعوا بين طاعةِ الله وطاعةِ رسوله، وخشيةِ الله وتقواه {هم الفائزون}: بنجاتِهِم من العذاب؛ لتركِهم أسبابَه، ووصولِهم إلى الثواب؛ لفعلهم أسبابه؛ فالفوزُ محصورٌ فيهم، وأمَّا مَنْ لم يتَّصِفْ بوصفِهم؛ فإنَّه يفوته من الفوز بحسب ما قصَّر عنه من هذه الأوصافِ الحميدة.

واشتملتْ هذه الآيةُ على الحقِّ المشترك بين الله وبين رسوله، وهو الطاعةُ المستلزمةُ للإيمان، والحقِّ المختص بالله، وهو الخشيةُ والتقوى، وبقي الحقُّ الثالث المختصُّ بالرسول، وهو التعزيرُ والتوقيرُ؛ كما جَمَعَ بين الحقوق الثلاثة في سورة الفتح في قوله: {لِتُؤْمِنوا باللهِ ورسولِهِ وتعزِّروهُ وتوقِّروهُ وتسبِّحوهُ بُكْرَةً وأصيلاً}.