(آیت 46) ➊ { لَقَدْاَنْزَلْنَاۤاٰيٰتٍمُّبَيِّنٰتٍ:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۳۴) کی تفسیر۔ ➋ { وَاللّٰهُيَهْدِيْمَنْيَّشَآءُ:} دیکھیے اسی سورت کی آیت (۳۵) کی تفسیر۔ ➌ یہ آیت آئندہ آیات کی تمہید ہے، جن میں منافقین کا ذکر فرمایا ہے کہ یقینا ہم نے تو کھول کر بیان کرنے والی عظیم الشان آیات نازل کی ہیں، مگر ان کے ذریعے سے صراطِ مستقیم کی ہدایت دینا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ آگے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا جنھیں ہدایت دینا اللہ کی مشیت نہیں ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46-1اللہ تعالیٰ اسے نظر صحیح اور قالب صادق عطا فرما دیتا ہے جس سے اس کے لئے ہدایت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد یہی ہدایت کا راستہ ہے جس میں کوئی کجی نہیں، اسے اختیار کر کے انسان اپنی منزل مقصود جنت تک پہنچ جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ ہم نے صاف صاف حقیقت بتلانے والی آیات اتاری ہیں اور سیدھی [74] راہ کی طرف رہنمائی تو اللہ ہی جسے چاہے کرتا ہے۔
[74] یعنی یہ جتنی نشانیاں اوپر مذکور ہوئیں، غور و فکر کرنے والوں کو ان سے اللہ تعالیٰ کی بخوبی معرفت حاصل ہو سکتی ہے اور جو ان باتوں کی طرف توجہ ہی نہ کرے اسے ہدایت کیسے نصیب ہو سکتی ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
یہ حکمت بھرے احکام، یہ روشن، اس قرآن کریم میں اللہ ہی نے بیان فرمائی ہیں۔ عقلمندوں کو ان کے سمجھنے کی توفیق دی ہے، رب جسے چاہے اپنی سیدھی راہ پر لگائے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔