اَوۡ کَظُلُمٰتٍ فِیۡ بَحۡرٍ لُّجِّیٍّ یَّغۡشٰہُ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ سَحَابٌ ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعۡضُہَا فَوۡقَ بَعۡضٍ ؕ اِذَاۤ اَخۡرَجَ یَدَہٗ لَمۡ یَکَدۡ یَرٰىہَا ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَجۡعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوۡرًا فَمَا لَہٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴿٪۴۰﴾
یا ان اندھیروں کی طرح جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں، جب اپنا ہاتھ نکالے تو قریب نہیں کہ اسے دیکھے اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔
En
یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چڑھی چلی آتی ہو اور اس کے اوپر اور لہر (آرہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں، ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ دیکھ سکے۔ اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی)
En
یا مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانﭗ رکھا ہو، پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ الغرض اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پےدرپے ہیں۔ جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ہے کہ نہ دیکھ سکے، اور (بات یہ ہے کہ) جسے اللہ تعالیٰ ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 40) ➊ {اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ …: ” لُجِّيٍّ “} میں یاء نسبت کی ہے اور یہ{”لُجٌّ“} کی طرف منسوب ہے، جو {”لُجَّةٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی ہے بہت بڑا اور گہرا پانی۔ {” بَحْرٍ لُّجِّيٍّ “} کا معنی ہو گا ”نہایت گہرے پانیوں والا سمندر۔“ اس مثال کی وضاحت یہ ہے کہ گہرے پانیوں والے سمندر کی گہرائی پانی کی موٹائی کی وجہ سے نہایت تاریک ہوتی ہے۔ جدید تحقیقات بھی یہی ہیں کہ سمندر کی گہرائی میں ایک حد کے بعد روشنی کا گزر بالکل نہیں ہوتا، پھر جب اس پر تہ بہ تہ موجیں ہوں تو تاریکی اور بڑھ جاتی ہے اور جب ان موجوں کے اوپر بادل بھی ہوں تو تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو جو شخص ایسے سمندر کی گہرائی میں ہو وہ اتنی تہ بہ تہ تاریکیوں میں ہو گا کہ اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہے تو قریب نہیں کہ دیکھ پائے، حالانکہ آدمی اپنے جسم کا جو حصہ آنکھوں کے سب سے زیادہ قریب لے جا کر دیکھ سکتا ہے وہ اس کا ہاتھ ہے۔
➋ آیت میں کافر کے عمل کی ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ کی کیفیت اہلِ علم نے کئی طرح بیان فرمائی ہے، طبری نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”کافر پانچ ظلمتوں میں پھرتا رہتا ہے، چنانچہ اس کا کلام ظلمت ہے، اس کا عمل ظلمت ہے، وہ ظلمت میں داخل ہوتا ہے اور ظلمت ہی میں سے نکلتا ہے اور قیامت کے دن آگ کی طرف جاتے ہوئے اس کا لوٹنا بھی ظلمتوں میں ہو گا۔“ (طبری: ۲۶۳۷۱) یہ سید القراء کی تفسیر ہے، بعض اہلِ علم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی ظلمتیں بیان فرمائی ہیں، سمندر کی ظلمت، امواج کی ظلمت اور بادلوں کی ظلمت۔ اسی طرح کافر بھی تین ظلمتوں میں گرفتار ہے، عقیدے کی ظلمت، قول کی ظلمت اور عمل کی ظلمت۔“
رازی نے اسے حسن کی طرف منسوب کیا ہے۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ان ظلمتوں سے مراد دل پر، آنکھوں پر اور کانوں پر پڑے ہوئے پردے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ }» [البقرۃ: ۷] ”اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی نگاہوں پر بھاری پردہ ہے۔“ بعض نے فرمایا، تاریک دل تاریک سینے میں ہے جو تاریک جسم میں ہے۔ ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر حق بات نہیں جانتا اور اسے یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ نہیں جانتا اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ جانتا ہے۔ یہ تینوں مراتب ان تین ظلمتوں کے مشابہ ہیں۔ (رازی)
ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر کے اعمال کو اس شخص کی مجموعی حالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو سمندر، اس کی امواج اور بادلوں کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اسے تشبیہ تمثیل کہتے ہیں اور اس میں مشبّہ کی ایک ایک چیز کی مشبّہ بہ کی ایک ایک چیز کے ساتھ مشابہت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ توجیہ تکلف سے خالی ہونے کی وجہ سے بہت اچھی ہے۔
➌ { وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ:} اس سے پہلے آیت (۳۵) میں مومن کے متعلق فرمایا تھا: «{ يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ }» ”اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔“ اب کافر کے متعلق فرمایا: «{ وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ }» جسے اللہ تعالیٰ (اس کی استعداد کی خرابی کی وجہ سے) نورِ ہدایت نہ دے اسے کہیں سے بھی کوئی نور نہیں مل سکتا۔ یا اللہ! تو اپنے خاص فضل و کرم سے ہمیں اپنا نور ہدایت عطا فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے متعلق تو نے فرمایا ہے: «{ يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ }» [الحدید: ۱۲] ”جس دن تو ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھے گا ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہی ہو گی۔“
➋ آیت میں کافر کے عمل کی ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ کی کیفیت اہلِ علم نے کئی طرح بیان فرمائی ہے، طبری نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”کافر پانچ ظلمتوں میں پھرتا رہتا ہے، چنانچہ اس کا کلام ظلمت ہے، اس کا عمل ظلمت ہے، وہ ظلمت میں داخل ہوتا ہے اور ظلمت ہی میں سے نکلتا ہے اور قیامت کے دن آگ کی طرف جاتے ہوئے اس کا لوٹنا بھی ظلمتوں میں ہو گا۔“ (طبری: ۲۶۳۷۱) یہ سید القراء کی تفسیر ہے، بعض اہلِ علم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی ظلمتیں بیان فرمائی ہیں، سمندر کی ظلمت، امواج کی ظلمت اور بادلوں کی ظلمت۔ اسی طرح کافر بھی تین ظلمتوں میں گرفتار ہے، عقیدے کی ظلمت، قول کی ظلمت اور عمل کی ظلمت۔“
رازی نے اسے حسن کی طرف منسوب کیا ہے۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ ان ظلمتوں سے مراد دل پر، آنکھوں پر اور کانوں پر پڑے ہوئے پردے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ }» [البقرۃ: ۷] ”اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی نگاہوں پر بھاری پردہ ہے۔“ بعض نے فرمایا، تاریک دل تاریک سینے میں ہے جو تاریک جسم میں ہے۔ ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر حق بات نہیں جانتا اور اسے یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ نہیں جانتا اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ جانتا ہے۔ یہ تینوں مراتب ان تین ظلمتوں کے مشابہ ہیں۔ (رازی)
ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر کے اعمال کو اس شخص کی مجموعی حالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو سمندر، اس کی امواج اور بادلوں کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اسے تشبیہ تمثیل کہتے ہیں اور اس میں مشبّہ کی ایک ایک چیز کی مشبّہ بہ کی ایک ایک چیز کے ساتھ مشابہت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ توجیہ تکلف سے خالی ہونے کی وجہ سے بہت اچھی ہے۔
➌ { وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ:} اس سے پہلے آیت (۳۵) میں مومن کے متعلق فرمایا تھا: «{ يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ }» ”اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔“ اب کافر کے متعلق فرمایا: «{ وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ }» جسے اللہ تعالیٰ (اس کی استعداد کی خرابی کی وجہ سے) نورِ ہدایت نہ دے اسے کہیں سے بھی کوئی نور نہیں مل سکتا۔ یا اللہ! تو اپنے خاص فضل و کرم سے ہمیں اپنا نور ہدایت عطا فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے متعلق تو نے فرمایا ہے: «{ يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ }» [الحدید: ۱۲] ”جس دن تو ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھے گا ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہی ہو گی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40-1یعنی دنیا میں ایمان و اسلام کی روشنی نصیب نہیں ہوتی اور آخرت میں بھی اہل ایمان کو ملنے والے نور سے وہ محروم رہیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ یا (پھر کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرے ہوں جسے موج نے ڈھانپ لیا ہو۔ پھر اس کے اوپر ایک اور موج ہو اور اس کے اوپر بادل ہو ایک تاریکی [66] پر ایک تاریکی چڑھی ہو اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ سکے اور جسے اللہ روشنی نہ عطا کرے [67] اس کے لئے (کہیں سے بھی) روشنی نہیں (مل سکتی)
[66] یہ ان کافروں کی مثال ہے جو اپنے کفر میں پکے اور ہٹ دھرم ہیں۔ وہ صرف اللہ کی نافرمانی اور رسولوں کی تکذیب پر ہی اکتفا ہی نہیں کرتے۔ بلکہ رسول اور مومنوں کو ایذائیں اور دکھ بھی پہنچاتے ہیں اور اللہ کی راہ روکنے کے لئے ہر وقت سرگرم عمل رہتے ہیں۔ اس طرح ان کے کفر کا جرم شدید تر ہوتا جاتا ہے اور اس پر ان کے کفر کی کئی تہیں چڑھتی جاتی ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گہرے سمندر میں رات کے وقت سفر کر رہا ہو۔ موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر گہرے بادل بھی چھائے ہوں۔ اس طرح تین چار طرح کی تاریکیاں مل کر ایک ایسا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو جاتا ہے کہ اگر وہ شخص اپنا ہاتھ اپنی آنکھ کے سامنے لائے تو اپنے ہاتھ کو دیکھ بھی نہ سکے۔ کیا ایسے شخص سے توقع ہو سکتی ہے کہ سیدھی راہ پر اپنا سفر جاری رکھ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے کفر کو ہمیشہ اندھیرے یا اندھیروں سے اور ہدایت کو روشنی سے تعبیر کیا ہے۔ اور اس معاند اور ہٹ دھرم کا تو یہ حال ہے کہ اس پر ایسے اندھیروں کے کئی ردے چڑھے ہوئے ہیں پھر اسے بھلا راہ ہدایت نصیب ہو سکتی ہے۔ [67] یہ مضمون ﴿اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ سے شروع ہوا تھا اور یہ اس مضمون کا اختتام ہے۔ منبع ہدایت اور نور تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ پھر جو شخص اللہ کی طرف رجوع ہی نہ کرے۔ بلکہ اللہ سے باغیانہ اور معاندانہ روش اختیار کرے۔ اسے ہدایت کی روشنی کیسے نصیب ہو سکتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دو قسم کے کافر ٭٭
یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں۔ جیسے سورۃ البقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں۔ ایک آگ کی ایک پانی کی۔ اور جیسے کہ سورۃ الرعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج دریا سمجھ بیٹھتا ہے۔ «قِيعَةُ» جمع ہے «قَاعٍ» کی جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَةٍ» اور «قَاعُ» واحد بھی ہوتا ہے اور جمع «قِيعَانِ» ہوتی ہے جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَانٌ» ہے۔ معنی اس کے چٹیل وسیع پھیلے ہوئے میدان کے ہیں۔ ایسے ہی میدانوں میں سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ دوپہر کے وقت بالکل یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی کا وسیع دریا لہریں لے رہا ہے۔ جنگل میں جو پیاسا ہو، پانی کی تلاش میں اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور اسے پانی سمجھ کر جان توڑ کوشش کرکے وہاں تک پہنچتا ہے لیکن حیرت وحسرت سے اپنا منہ لپیٹ لیتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ وہاں پانی کا قطرہ چھوڑ نام و نشان بھی نہیں۔
اسی طرح یہ کفار ہیں کہ اپنے دل میں سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ اعمال کئے ہیں، بہت سی بھلائیاں جمع کر لی ہیں لیکن قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ایک نیکی بھی ان کے پاس نہیں یا تو ان کی بدنیتی سے وہ غارت ہو چکی ہے یا شرع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو گئی ہے۔ غرض ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ان کے کام جہنم رسید ہو چکے ہیں، یہاں یہ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔
یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج دریا سمجھ بیٹھتا ہے۔ «قِيعَةُ» جمع ہے «قَاعٍ» کی جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَةٍ» اور «قَاعُ» واحد بھی ہوتا ہے اور جمع «قِيعَانِ» ہوتی ہے جیسے «جَارٍ» کی جمع «جِيرَانٌ» ہے۔ معنی اس کے چٹیل وسیع پھیلے ہوئے میدان کے ہیں۔ ایسے ہی میدانوں میں سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ دوپہر کے وقت بالکل یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی کا وسیع دریا لہریں لے رہا ہے۔ جنگل میں جو پیاسا ہو، پانی کی تلاش میں اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور اسے پانی سمجھ کر جان توڑ کوشش کرکے وہاں تک پہنچتا ہے لیکن حیرت وحسرت سے اپنا منہ لپیٹ لیتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ وہاں پانی کا قطرہ چھوڑ نام و نشان بھی نہیں۔
اسی طرح یہ کفار ہیں کہ اپنے دل میں سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ اعمال کئے ہیں، بہت سی بھلائیاں جمع کر لی ہیں لیکن قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ایک نیکی بھی ان کے پاس نہیں یا تو ان کی بدنیتی سے وہ غارت ہو چکی ہے یا شرع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو گئی ہے۔ غرض ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ان کے کام جہنم رسید ہو چکے ہیں، یہاں یہ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔
حساب کے موقعہ پر اللہ خود موجود ہے اور ایک ایک عمل کا حساب لے رہا ہے اور کوئی عمل ان کا قابل ثواب نہیں نکلتا۔ چنانچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ { یہودیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے رہے؟ وہ جواب دیں گے کہ اللہ کے بیٹے عزیر کی۔ کہا جائے گا کہ جھوٹے ہو اللہ کا کوئی بیٹا نہیں۔ اچھا بتاؤ اب کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت پیاسے ہو رہے ہیں، ہمیں پانی پلوایا جائے تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو وہ کیا نظر آ رہا ہے؟ تم وہاں کیوں نہیں جاتے؟ اب انہیں دور سے جہنم ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں سراب ہوتا ہے جس پر جاری پانی کا دھوکہ ہوتا ہے یہ وہاں جائیں گے اور دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4581] یہ مثال تو تھی جہل مرکب والوں کی۔
اب جہل بسیط والوں کی مثال سنئے جو کورے مقلد تھے، اپنی گرہ کی عقل مطلق نہیں رکھتے تھے۔ مندرجہ بالا مثال والے ائمہ کفر کی تقلید کرتے تھے اور آنکھیں بند کرکے ان کی آواز پر لگے ہوئے تھے کہ ان کی مثال گہرے سمندر کی تہہ کے اندھیروں جیسی ہے جسے اوپر سے تہہ بہ تہہ موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو اور پھر اوپر سے ابر ڈھانکے ہوئے ہوں۔ یعنی اندھیرے پر اندھیرا ہو۔ یہاں تک کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو۔ یہی حال ان سفلے جاہل کافروں کا ہے کہ نرے مقلد ہیں۔ یہاں تک کہ جس کی تقلید کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ انہیں کہاں لے جا رہا ہے؟ چنانچہ مثالاً کہا جاتا ہے کہ کسی جاہل سے پوچھا گیا کہاں جا رہا ہے؟ اس نے کہا ان کے ساتھ جا رہا ہوں۔ پوچھنے والے نے پھر دریافت کیا کہ یہ کہاں جار ہے ہیں؟ اس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔
پس جیسے اس سمندر پر موجیں اٹھ رہی ہیں، اسی طرح کافر کے دل پر، اس کے کانوں پر، اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [2-البقرة:7] ’ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے ‘۔
اب جہل بسیط والوں کی مثال سنئے جو کورے مقلد تھے، اپنی گرہ کی عقل مطلق نہیں رکھتے تھے۔ مندرجہ بالا مثال والے ائمہ کفر کی تقلید کرتے تھے اور آنکھیں بند کرکے ان کی آواز پر لگے ہوئے تھے کہ ان کی مثال گہرے سمندر کی تہہ کے اندھیروں جیسی ہے جسے اوپر سے تہہ بہ تہہ موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو اور پھر اوپر سے ابر ڈھانکے ہوئے ہوں۔ یعنی اندھیرے پر اندھیرا ہو۔ یہاں تک کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو۔ یہی حال ان سفلے جاہل کافروں کا ہے کہ نرے مقلد ہیں۔ یہاں تک کہ جس کی تقلید کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ انہیں کہاں لے جا رہا ہے؟ چنانچہ مثالاً کہا جاتا ہے کہ کسی جاہل سے پوچھا گیا کہاں جا رہا ہے؟ اس نے کہا ان کے ساتھ جا رہا ہوں۔ پوچھنے والے نے پھر دریافت کیا کہ یہ کہاں جار ہے ہیں؟ اس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔
پس جیسے اس سمندر پر موجیں اٹھ رہی ہیں، اسی طرح کافر کے دل پر، اس کے کانوں پر، اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ «خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» ۱؎ [2-البقرة:7] ’ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے ‘۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے «اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَة» ۱؎ [45-الجاثية:23]، ’ تو نے انہیں دیکھا؟ جنہوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے اور اللہ نے انہیں علم پر بہکا دیا ہے اور ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ‘۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایسے لوگ پانچ اندھیروں میں ہوتے ہیں [١] کلام [٢] عمل [٣] جانا [٤] آنا [٥] اور انجام سب اندھیروں میں ہیں۔ جسے اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت نہ کرے وہ نورانیت سے خالی رہ جاتا ہے۔ جہالت میں مبتلا رہ کر ہلاکت میں پڑ جاتا ہے۔“
جیسے فرمایا آیت «مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:186] ’ جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی ہادی نہیں ہوتا ‘۔ یہ اس کے مقابل ہے جو مومنوں کی مثال کے بیان میں فرمایا تھا کہ «يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ» ’ اللہ اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے جسے چاہے ‘۔
اللہ تعالیٰ عظیم وکریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نور پیدا کر دے اور ہمارے دائیں بائیں بھی نور عطا فرمائے اور ہمارے نور کو بڑھا دے اور اسے بہت بڑا اور زیادہ کرے۔ آمین۔
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”ایسے لوگ پانچ اندھیروں میں ہوتے ہیں [١] کلام [٢] عمل [٣] جانا [٤] آنا [٥] اور انجام سب اندھیروں میں ہیں۔ جسے اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت نہ کرے وہ نورانیت سے خالی رہ جاتا ہے۔ جہالت میں مبتلا رہ کر ہلاکت میں پڑ جاتا ہے۔“
جیسے فرمایا آیت «مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:186] ’ جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی ہادی نہیں ہوتا ‘۔ یہ اس کے مقابل ہے جو مومنوں کی مثال کے بیان میں فرمایا تھا کہ «يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ» ’ اللہ اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے جسے چاہے ‘۔
اللہ تعالیٰ عظیم وکریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نور پیدا کر دے اور ہمارے دائیں بائیں بھی نور عطا فرمائے اور ہمارے نور کو بڑھا دے اور اسے بہت بڑا اور زیادہ کرے۔ آمین۔