ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 38

لِیَجۡزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾
تاکہ اللہ انھیںاس کا بہترین بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔ En
تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے۔ اور جس کو چاہتا ہے خدا بےشمار رزق دیتا ہے
En
اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلے دے بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادتی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بےشمار روزیاں دیتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) {لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا:} اس کا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے: { أَيْ ثَوَابَ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا } کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان بہترین اعمال کا ثواب دے جو انھوں نے کیے، اور یہ بھی: { أَيْ أَحْسَنَ جَزَاءٍ مَا عَمِلُوْا } کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا بہترین بدلا دے جو انھوں نے کیے۔ دوسرا معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

38-1قیامت والے دن اہل ایمان کو ان کی نیکیوں کا بدلہ (کئی کئی گنا) کی صورت میں دیا جائے گا اور بہت سوں کو بےحساب ہی جنت میں داخل کردیا جائے گا اور وہاں رزق کی فروانی جس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ (اور وہ لوگ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کہ) جو عمل وہ کرتے رہے ہیں اللہ انھیں ان کا بہتر بدلہ اور اپنے فضل سے [64] زیادہ بھی دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا کرتا ہے۔
[64] وہ لوگ اس توقع پر یہ سارے کام کرتے ہیں کہ اللہ کے ہاں اپنے ان عملوں کا بہتر بدلہ ملے۔ جو یقیناً انھیں مل جائے گا۔ اللہ صرف ان کے اعمال کا بہتر بدلہ ہی نہ دیں گا بلکہ اس کے علاوہ انھیں ایسی ایسی نعمتوں سے نوازیں گے جو اس وقت ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جس شخص پر راضی اور خوش ہو جائیں تو اللہ کے ہاں کس چیز کی کمی ہے جو اسے نہ دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔