تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ:} اللہ کے ذکر سے مراد دل میں اسے یاد رکھنا اور زبان سے اس کا ذکر دونوں مراد ہیں، یعنی وہ تجارت کے کسی موقع پر حتیٰ کہ خرید و فروخت کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں بھولتے، نہ کسی سودے میں ایسا کام کرتے ہیں جس سے اس نے منع فرما دیا ہے اور ان کی زبان پر ہر وقت اللہ کا ذکر ہی رہتا ہے۔ وہ بات بات پر الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ وغیرہ کہتے ہیں اور خاموشی کی حالت میں بھی ان کی زبان اللہ کے ذکر سے تر رہتی ہے، وہ اس حکم پر کاربند رہتے ہیں: [لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ] [ترمذي، الدعوات، باب ما جاء في فضل الذکر: ۳۳۷۵] ”تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم: «{ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيْرًا }» [الأحزاب: ۴۱] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کو یاد کرو، بہت یاد کرنا۔“
➌ { وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَآءِ الزَّكٰوةِ:} نماز کی اقامت میں اسے وقت پر ادا کرنا اور اس کے تمام ارکان کو صحیح طریقے سے ادا کرنا سب کچھ شامل ہے، یعنی کوئی تجارت یا خرید و فروخت اللہ کے ذکر اور اقامت صلاۃ اور ادائے زکوٰۃ میں ان کے لیے غفلت کا باعث نہیں بنتی۔
➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ دنیا کا کاروبار چھوڑ کر اللہ اللہ کرتے رہو، یہ تو رہبانیت ہے جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے نہیں دی۔ اللہ کے تمام جلیل القدر پیغمبر محنت کے ساتھ کمائی کرتے تھے، آدم علیہ السلام مویشی پالنے، کھیتی باڑی، صنعت و حرفت اور ضرورت کے سارے کام خود کرتے تھے۔ زکریا علیہ السلام نجار تھے، داؤد علیہ السلام زرہیں بناتے تھے۔ تمام پیغمبروں نے بکریاں چرائی ہیں، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں، تجارت بھی کی ہے، آخر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کا رزق آپ کے نیزے کے سائے تلے رکھ دیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا بھی یہی حال تھا، کوئی مویشی پالتا تھا، کوئی کاشت کار تھا، کوئی صنعت کار، کوئی تجارت کرتا تھا، کوئی مزدوری، البتہ جہادمیں سبھی شامل تھے، جو رزق کا سب سے باعزت ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایتائے زکوٰۃ (زکوٰۃ دینے) کے حکم میں بھی کسب حلال کی ترغیب ہے کہ مال نہیں کمائے گا تو زکوٰۃ کس سے دے گا۔ اسی لیے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کی اپیل کرتے تو بعض صحابہ بوجھ اٹھا کر اور بعض رات بھر ڈول کھینچ کر جو کچھ کماتے پیش کر دیتے۔ دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۷۹) کی تفسیر۔
امتِ مسلمہ کی بدنصیبی کا آغاز اس دن سے ہوا جب ان لوگوں کو اولیاء اللہ قرار دے دیا گیا جنھوں نے جہاد کرنا تو دور، حلال کمانا بھی چھوڑ دیا اور اللہ پر توکّل کے نام پر لوگوں کے لقموں پر پلنا شروع کر دیا۔ ان کے ترک دنیا اور خود ساختہ زہد سے متاثر ہو کر لوگ ان پر اپنا مال نچھاور کرنے لگے کہ ان بزرگوں کے طفیل ہم بھی کچھ کیے کرائے بغیر بخشے جائیں گے۔ جب یہ حضرات لوگوں کی نظروں میں نیکی کا معیار بن گئے تو کفار کو مسلمانوں پر چڑھ دوڑنے کا موقع مل گیا۔ مسلمانوں کی نگاہوں میں ان اعلیٰ ترین لوگوں نے تجارت، صنعت، زراعت، حرب و ضرب سب کچھ چھوڑا تو عوام اور حکمرانوں کی نظر میں بھی یہ کام دنیا پرستی ٹھہرے۔ نتیجہ وہ غلامی ہے جس کا عذاب امتِ مسلمہ جھیل رہی ہے۔ جب تک یہ امت روزانہ ہزار ہزار رکعت پڑھنے والے، دنیا ترک کرکے مساجد کو چھوڑ کر خانقاہوں کو آباد کرنے والے، کسی معشوق یا شیخ کے تصور میں عمر گزارنے والے، دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والے عزت مآب راہبوں کی حقیقت کو نہیں سمجھے گی اور خیر القرون کے صحابہ و تابعین کے عمل کی طرف نہیں پلٹے گی، تو کوئی طاقت انھیں ذلت و رسوائی سے نہیں نکال سکتی۔
➎ اللہ تعالیٰ کو مطلوب یہ ہے کہ اس کے بندے دنیا کے سب جائز کام کریں، مگر وہ کام ان کے لیے اس کی یاد اور اس کے احکام کی بجا آوری میں رکاوٹ نہ بنیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ الْبُيُوْعِ، بَابُ التِّجَارَةِ فِي الْبَزِّ وَ غَيْرِهِ“} (کپڑے وغیرہ کی تجارت کے باب) میں آیت: «{ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ }» نقل فرمانے کے بعد جلیل القدر تابعی قتادہ کا قول نقل فرمایا ہے، جس میں انھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا حال بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں: [كَانَ الْقَوْمُ يَتَبَايَعُوْنَ وَ يَتَّجِرُوْنَ وَلٰكِنَّهُمْ إِذَا نَابَهُمْ حَقٌّ مِنْ حُقُوْقِ اللّٰهِ لَمْ تُلْهِهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ حَتّٰہ يُؤَدُّوْهُ إِلَی اللّٰهِ] [بخاري، بعد ح: ۲۰۵۹] ”وہ لوگ خرید و فروخت کرتے اور تجارت کرتے تھے، لیکن جب ان کے سامنے اللہ کے حقوق میں سے کوئی حق آ جاتا تو کوئی تجارت یا کوئی خرید و فروخت انھیں اللہ کے اس حق کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتی تھی۔“
➏ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ کے گھروں میں تسبیح کرنے والوں میں سے یہاں صرف مردوں کا ذکر فرمایا، تو کیا عورتیں مسجد میں نہیں جا سکتیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی مردانگی کا ذکر ہے جو تجارت اور خرید و فروخت چھوڑ کر مسجدوں میں جماعت کے ساتھ آ ملتے ہیں اور ظاہر ہے یہ کام مردوں کا ہے، عورتوں کا نہیں۔ (رازی) رہا عورتوں کا مسجد میں آنا تو یہ بات معروف ہے کہ وہ مسجد نبوی میں جماعت کے ساتھ شریک ہوتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مسجدوں میں آنے کی اجازت دی اور روکنے سے منع فرمایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: ”عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی صبح اور عشاء کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھتی تھی (عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے اور غیرت کھاتے تھے) اسے کسی نے کہا: ”تم کیوں نکلتی ہو، جب کہ تمھیں معلوم ہے کہ عمر اسے ناپسند کرتے ہیں اور غیرت کھاتے ہیں؟“ اس نے کہا: ”انھیں کیا مانع ہے کہ مجھے (جانے سے) روک دیں؟“ تو اس نے کہا، انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مانع ہے: [لَا تَمْنَعُوْا إِمَاءَ اللّٰهِ مَسَاجِدَ اللّٰهِ] [بخاري، الجمعۃ، باب: ۹۰۰] ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے منع مت کرو۔“ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے گھر میں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا تَمْنَعُوْا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ وَ بُيُوْتُهُنَّ خَيْرٌ لَّهُنَّ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب ما جاء في خروج النساء إلی المسجد: ۵۶۷] ”اپنی عورتوں کو مسجدوں سے مت روکو اور ان کے گھر ان کے لیے زیادہ اچھے ہیں۔“
➐ { يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُ:} یعنی ان مردوں کا اللہ کے گھروں میں ذکر و تسبیح کرنا اس دن کے خوف کی وجہ سے ہے جب دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی، یعنی دل اور آنکھیں خوف اور گھبراہٹ کی شدت سے اپنی معمول کی جگہ چھوڑ دیں گی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ }» [المؤمن: ۱۸] ”اور انھیں قریب آنے والی گھڑی سے ڈرا جب دل گلوں کے پاس غم سے بھرے ہوں گے۔“ اور فرمایا: «{ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ }» [إبراھیم: ۴۲] ”وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ” «أَنْ تُرْفَعَ» کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔“ کعب رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لیے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لیے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے [تفسیر ابن ابی حاتم]
مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:450]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لیے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے }}۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:735،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:455،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ { جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش و نگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:741، قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس کی سند ضعیف ہے۔
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند و بالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا }۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ ”تم یقیناً مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کرو گے جیسے کہ یہودونصاری نے کیا۔“ [سنن ابوداود:448، قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخر و غرور نہ کرنے لگیں } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:449،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی کہ { اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لیے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لیے ہیں } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:569]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدوں میں خرید و فروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرما دیا ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1079،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے }۔ [سنن ابن ماجه:748،قال الشيخ الألباني:ضعیف و صحت منه الخصلة الاولى]
بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزرگاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لیے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ { تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہیئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:452]
کچا گوشت لانا اس لیے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لیے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کر دے۔ بازار بنانا اس لیے منع ہے کہ وہ خرید و فروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کر دیا تھا کہ { مسجدیں اس لیے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے }۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6025]
دوسری حدیث میں ہے { اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو } ۱؎ [سنن ابن ماجه:750،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اس لیے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔
چنانچہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہا جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع و شرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتیٰ مجلس منعقد کرنے سے اس لیے منع کر دیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔
ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ ”جانتا بھی ہے تو کہاں ہے؟۔“ [نسائی]
اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حاصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چنانچہ ابو یعلیٰ موصلی میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دوکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لیے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:477]
دارقطنی میں ہے { مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی }۔ ۱؎ [دارقطنی:420/1:موقوف]
یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں آتے یہ کہتے «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ۔ فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہو گیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:466،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے کہ { تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» ”اے اللہ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے“ اور جب مسجد سے باہر جائے تو یہ کہے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:713]
ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ { جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر دعا «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیج کر دعا «اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» پڑھے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:773،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ترمذی وغیرہ میں ہے کہ { جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا «اللَّهُمَّ، اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ» پڑھتے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:314،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس حدیث کی سند متصل نہیں۔
الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے «يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ» ۱؎ [7-الأعراف:31] ’ تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو ‘۔ «وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» ۱؎ [7-الأعراف:29] ’ اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو ‘۔
ایک اور آیت میں ہے کہ «وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا» ۱؎ [72-الجن:18] ’ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے ‘ یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔
’ صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ‘ «آصَالُ» جمع ہے «أَصِيلٍ» کی، شام کے وقت کو «أَصِيلٍ» کہتے ہیں۔
ایک قرأت میں «يُسَبِّحُ» ہے اور اس قرأت پر «وَالْآصَالِ» پر پورا وقف ہے اور «رِجَالٌ» سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لیے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور «يُسَبِّحُ» کی قرأت پر «رِجَالٌ» فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہیئے۔ کہتے ہیں «رِجَالٌ» اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔
جیسے فرمان ہے آیت «مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ» ۱؎ [33-الأحزاب:23]، یعنی ’ مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا ‘۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عورت کی اپنے گھر کی نماز اس کی اپنے صحن کی نماز سے افضل ہے، اور اس کی اپنی اس کوٹھری کی نماز اس کے اپنے گھر کی نماز سے افضل ہے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:570،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے { عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:297/6:حسن بالشواهد]
مسند احمد میں ہے کہ { ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے }۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کر لیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں }۔ رضی اللہ عنہا۔ ۱؎ [مسند احمد:371/6:حسن]
ہاں البتہ عورتوں کے لیے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔
صحیح حدیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:900]
ابوداؤد میں ہے کہ { عورتوں کے لیے ان کے گھر افضل ہیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:567،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور حدیث میں ہے کہ { وہ خوشبو استعمال کرکے نہ نکلیں }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:565،قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواهد]
بخاری و مسلم میں ہے کہ ”مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:372]
ام المؤمنین سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:869]
مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کر سکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لیے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا ”یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نماز کے لیے جا رہے تھے، دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دوکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لیے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دوکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا ”یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔“
اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لیے کہ دلوں میں خوف الٰہی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بے حد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔
جیسے فرمان ہے کہ «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا» ۱؎ [76-الإنسان:8-12] ’ میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لیے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج و غم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت و آرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا ‘۔
اور آیت میں ہے «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرة:245] ’ جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کرکے دے گا ‘۔ فرمان ہے آیت «يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:261] ’ وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہے ‘۔ یہاں فرمان ہے ’ وہ جسے چاہے بے حساب دیتا ہے ‘۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لیے آپ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت «يَخَافُونَ» سے پڑھی اور پی لیا۔
[الدر المنشور للسیوطی:95/5]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الٰہی یہ ہو گا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہو جائے گا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:10462:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم مدح تعالى عُمَّارها بالعبادة، فقال: {يُسَبِّحُ له}: إخلاصاً {بالغدوِّ}: أول النهار {والآصالِ}: آخره {رجالٌ}: خصَّ هذين الوقتين لِشَرَفِهما ولتيسُّر السير فيهما إلى الله وسهولتِهِ، ويدخل في ذلك التسبيح في الصلاة وغيرها، ولهذا شُرِعَتْ أذكارُ الصباح والمساء وأورادُهما عند الصباح والمساء؛ أي: يسبِّح فيها لله رجالٌ، وأيُّ رجال؟! ليسوا ممَّن يؤثِرُ على ربِّه دنيا ذات لذاتٍ ولا تجارةٍ ومكاسبَ مشغلة عنه. {لا تُلهيهم تجارةٌ}: وهذا يَشْمَلُ كلَّ تكسُّب يُقصد به العِوَضُ، فيكون قوله: {ولا بَيْعٌ}: من باب عطف الخاصِّ على العامِّ؛ لكَثرة الاشتغال بالبيع على غيره؛ فهؤلاء الرجال وإن اتَّجروا وباعوا واشْتَرَوا؛ فإنَّ ذلك لا محذور فيه، لكنَّه لا تلهيهم تلك بأن يقدِّموها ويؤثِروها على {ذِكْر الله وإقام الصَّلاةِ وإيتاءِ الزكاة}: بل جعلوا طاعةَ الله وعبادتَه غايةَ مرادِهم ونهايةَ مقصدِهم؛ فما حال بينَهم وبينَها رفضوه.
ولما كان تركُ الدُّنيا شديداً على أكثر النفوس وحبُّ المكاسب بأنواع التجاراتِ محبوباً لها، ويشقُّ عليها تركُه في الغالب وتتكلَّفُ من تقديم حقِّ الله على ذلك؛ ذَكَرَ ما يَدْعوها إلى ذلك ترغيباً وترهيباً، فقال: {يخافون يوماً تتقلَّبُ فيه القلوبُ والأبصارُ}: من شدَّة هولِهِ وإزعاجِهِ للقلوب والأبدان؛ فلذلك خافوا ذلك اليوم، فَسَهُلَ عليهم العملُ وتركُ ما يَشْغَلُ عنه.