اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ اَلۡمِصۡبَاحُ فِیۡ زُجَاجَۃٍ ؕ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوۡکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ ؕ یَہۡدِی اللّٰہُ لِنُوۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾
اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے، جس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا چمکتا ہوا تارا ہے، وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون سے روشن کیا جاتا ہے، جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔ نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
En
خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
En
اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا، اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو وه چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی خود وه تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے، نور پر نور ہے، اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے، لوگوں (کے سمجھانے) کو یہ مثالیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 35) ➊ {اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} ”اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے“ یعنی آسمان و زمین جو روشن ہیں تو اللہ کے نور ہی سے روشن ہیں۔ وہ نہ ہو توکچھ بھی نہ ہو۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین اور آسمان کی۔ اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہو جائیں۔“ یاد رہے، یہاں اللہ کے آسمان و زمین کا نور ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور آسمان و زمین کا نور ہے اور اسے روشن کرنے والا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور نور کی مثال بیان کی گئی ہے، جب کہ اللہ کی کوئی مثال ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ }» [الشورٰی: ۱۱] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔“ دوسری دلیل یہ کہ اس آیت میں اس نور کا ذکر ہے جس سے آسمان و زمین روشن ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور حجاب کے پیچھے ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ نے فرمایا: [إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِيْ لَهُ أَنْ يَّنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ يَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّوْرُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ] [مسلم، الإیمان، باب في قولہ علیہ السلام ”إن اللہ لا ینام“ …:۱۷۹] ”اللہ عزوجل سوتا نہیں اور اس کے لائق ہی نہیں کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق میں سے ہر اس چیز کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“
➋ اس آیت میں {” نُوْرُ “} کا معنی {”ذُوْ نُوْرٍ“} ہے، یعنی روشن کرنے والا، جیسا کہ {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} کا معنی یہ نہیں کہ زید عدل و انصاف ہے، بلکہ اس کا معنی ہے کہ زید عدل و انصاف والا ہے۔ بعض مفسرین نے یہی مفہوم ان الفاظ میں ادا فرمایا: {” اَللّٰهُ نَوَّرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ “} یعنی اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو روشن فرمایا۔ (نقلہ ابن کثیر عن ضحاک) آسمانوں اور زمین سے سارا جہان مراد ہے، یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ نور سے روشن ہے۔ یہ نور حسی بھی ہے اور معنوی بھی۔
حسی کی کئی قسمیں ہیں، ایک وہ نور جو خود روشن ہے اور دوسروں کو روشن کرتا ہے، جیسے سورج، چاند، ستارے، بجلی، آگ، ہر قسم کے چراغ، جگنو اور ہر وہ حیوان یا درخت جس سے روشنی نکلتی ہے، یہ سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ ایک وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے حسن یا توانائی کی کسی نہ کسی شکل میں کائنات کے ہر ذرّے میں ودیعت کر رکھا ہے، مثلاً چہرے کا حسن چہرے کا نور کہلاتا ہے، گھر کے افراد گھر کا نور ہوتے ہیں، گلے کا نور آواز کی صورت میں روشنی بکھیرتا ہے، زبان کا نور بولنے سے ظاہر ہوتا ہے، ہر عضو کی توانائی اس کا نور ہے۔ سمندر، پہاڑ، درخت، صحرا غرض ہر چیز کا حسن و جمال اور ان کے منافع اللہ کا نور ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت کر رکھا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کردہ ہے۔ نور کی ایک قسم ہر عضو کی وہ استعداد ہے جس سے حیوان یا انسان کائنات میں پھیلے ہوئے نور کا ادراک کرتا ہے، مثلاً آنکھ میں بینائی کا نور ہے، یہ نہ ہو تو نہ سورج چاند یا کوئی روشنی نظر آئے، نہ اس سے روشن کائنات کے ذرّے ذرّے میں پھیلا ہوا حسن نظر آئے، اس لیے نابینے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں۔ کان کا نور اس کے سننے کی قوت ہے۔ اسی طرح چھونے، چکھنے، سونگھنے کی قوتیں ان اعضا کا نور ہیں جن میں یہ رکھی گئی ہیں۔ اسی طرح بھوک پیاس، جنسی اشتہا، غرض بے شمار استعدادات ہیں جو اپنے اپنے متعلقہ عضو کا نور ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے کیا خوب خلاصہ نکالا ہے جو اوپر گزرا کہ اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین و آسمان کی، اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہو جائیں۔
معنوی نور کی بھی کئی قسمیں ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جس سے ضلالت کے اندھیرے ختم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا یہ نور پیغمبروں کے ذریعے سے نازل فرمایا، اللہ نے فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا }» [النساء: ۱۷۴] ”اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔“ اور فرمایا: { هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ } [الحدید: ۹] ”وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات اتارتا ہے، تاکہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر یقینا بے حد نرمی کرنے والا نہایت مہربان ہے۔“ اور فرمایا: «{ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ }» [البقرۃ: ۲۵۷] ”اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ اور فرمایا: «{ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ }» [المائدۃ: ۱۵] ”بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔“ مزید دیکھے سورۂ انعام (۱۲۲) اور سورۂ شوریٰ (۵۲)۔ اس معنوی نور کی دوسری قسم حق کو پہچاننے اور قبول کرنے کی وہ استعداد ہے جو مومن کے دل میں ہوتی ہے، جو شروع ہی سے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں رکھ دی ہے، مگر بعض اوقات وہ ماحول کے اثر یا اپنی بدعملی کی وجہ سے اس سے محروم ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةُ بَهِيْمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّوْنَ فِيْهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟] [بخاري، تفسیر سورۃ الروم، باب لا تبدیل لخلق اللہ: ۴۷۷۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ پیدا ہوتا ہے تو پورے اعضا والا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کوئی کان کٹا یا ناک کٹا دیکھتے ہو (یعنی اس کا کان یا ناک بعد میں لوگ کاٹتے ہیں)۔“ ہدایت کا یہ نور اگر کسی دل میں نہ ہو تو جتنے بھی انبیاء آ جائیں یا جتنی بھی آیات الٰہی نازل ہوں دل کے اندھے کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر یہ نور آنکھوں یا کانوں میں نہ ہو تو تمام معجزے اور ہر وعظ و نصیحت بے کار ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا }» [الأعراف: ۱۷۹] ”ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں۔“
مطلب ساری آیت کا یہ ہے کہ کائنات کی ساری رونق اور آبادی اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہ رہ جائے، نور کے تمام ذرائع مثلاً سورج چاند وغیرہ، ان سے روشن ہونے والی کائنات اور ان کا ادراک کرنے والا نور اسی کا پیدا کردہ ہے، اسی طرح ایمان کا نور بھی اسی کا عطا کردہ ہے، اسی نے وحی بھیجی، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور دلوں میں انھیں قبول کرنے کا نور رکھا۔
➌ { ” اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} میں اگرچہ حسی و معنوی تمام نور داخل ہیں اور سب ہی اللہ کے عطا کردہ ہیں، مگر زیرِ تفسیر آیت میں مراد ہدایت کا نور ہے کہ وہ صرف اللہ کی عطا ہے، اس کا ایک قرینہ اس سے پہلی آیت ہے، جس میں {” اٰيٰتٍ مُبَيِّنٰتٍ“} اور گزشتہ اقوام کے کچھ حالات اور متقین کے لیے نصیحت نازل کرنے کا ذکر ہے اور ایک قرینہ خود اس آیت میں موجود ہے کہ {” يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ “} اور تیسرا قرینہ اس سلسلہ کلام کی آخری آیت کا اختتام ہے، فرمایا: «{ وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ }» [النور: ۴۰] ”اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔“ اس لیے ترجمان القرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ یہ تفسیر آئی ہے کہ انھوں نے فرمایا: {” «اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» يَقُوْلُ:اللّٰهُ سُبْحَانَهُ هَادِيْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“} [طبري: ۲۶۲۹۲]”اللہ تعالیٰ کے فرمان {” اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} کا معنی یہ ہے کہ اللہ سبحانہ آسمانوں اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے۔“
شیخ المفسرین طبری نے یہی تفسیر اختیار کی ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے یہ تفسیر ذکر کرکے اسے قائم رکھا ہے، مگر ساتھ ہی فرمایا ہے کہ یہ تفسیر نور کی دوسری انواع کو اس کی تفسیر میں داخل کرنے سے مانع نہیں ہے۔ (تفسیر سورۃ النور از ابن تیمیہ) ابن کثیر نے بھی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسے فرمایا: «{ اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ }» [الزمر: ۲۲] ”تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے سو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے۔“
➍ {مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ…: ” مِشْكَاةٌ “} دیوار میں طاق جو دیوار کے آر پار نہ ہو، {” زُجَاجَةٍ “} شیشے کا فانوس۔ {” دُرِّيٌّ “ ”دُرٌّ“ } کے ساتھ یاء نسبت لگانے سے {” دُرِّيٌّ “} بن گیا، موتی کی طرح چمکتا ہوا۔ {” لَا شَرْقِيَّةٍ وَّ لَا غَرْبِيَّةٍ “} کے الفاظ سے زیتون کے اس تیل کی عمدگی اور شفافیت بیان کرنا مقصود ہے۔ اہلِ علم سے اس کی دو تفسیریں آئی ہیں، ایک یہ کہ وہ تیل زیتون کے ایسے درخت سے حاصل ہوا ہے جو نہ مشرقی ہے کہ اس کے مغرب میں کوئی پہاڑ یا اوٹ ہو، جس کی وجہ سے اس پر صرف دن کے پہلے پہر کی دھوپ پڑتی ہو اور نہ مغربی ہے کہ اس کے مشرق میں کوئی پہاڑ یا اوٹ ہو جس کی وجہ سے اس پر صرف دن کے پچھلے پہر کی دھوپ پڑتی ہو، بلکہ وہ درخت کھلی جگہ میں ہے جس پر سارا دن سورج کی دھوپ پڑتی ہے، ایسے درخت کا تیل زیادہ صاف اور عمدہ ہوتا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ زیتون کا وہ درخت نہ مشرق کی جانب ہے نہ مغرب کی طرف، بلکہ دوسرے درختوں کے عین درمیان واقع ہے، جس پر صرف جنوب کی طرف سے سورج کی دھوپ پڑتی ہے۔ درختوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے وہ سورج کی مسلسل تپش سے محفوظ رہتا ہے، جس سے اس کے پھل کی رطوبت پوری طرح محفوظ رہتی ہے۔ دونوں تفسیریں سلف سے مروی ہیں، دوسری تفسیر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”اور زیتون نہ شرق کا نہ غرب کا، یعنی باغ کے بیچ کا، نہ صبح کی دھوپ کھاوے نہ شام کی، خوب ہرا اور چکنا رہے۔“
➎ { ” مَثَلُ نُوْرِهٖ “} یعنی ”اس کے نور کی مثال“ سے مراد کس کے نور کی مثال ہے اور مثال کس طرح ہے؟ میں نے جتنی تفسیریں دیکھی ہیں سب سے واضح تفسیر ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما کی ہے، جو طبری نے علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھا کی معتبر سند کے ساتھ نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: [ «{ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ }» قَالَ مَثَلُ هَدَاهُ فِيْ قَلْبِ الْمُؤْمِنِ كَمَا يَكَادُ الزَّيْتُ الصَّافِيْ يُضِيْءُ قَبْلَ أَنْ تَمَسَّهُ النَّارُ فَإِذَا مَسَّتْهُ النَّارُ ازْدَادَ ضَوْئًا عَلٰجی ضَوْءٍ كَذٰلِكَ يَكُوْنُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ يَعْمَلُ بِالْهُدٰی قَبْلَ أَنْ يَّأْتِيَهُ الْعِلْمُ فَإِذَا جَاءَهُ الْعِلْمُ ازْدَادَ هُدًی عَلٰی هُدًی وَ نُوْرًا عَلٰی نُوْرٍ] [طبري: ۲۶۳۱۳] ”اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے“ فرمایا: ”مومن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی مثال اس طرح ہے جیسے صاف زیتون کا تیل، قریب ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی روشن ہو جائے کہ اسے آگ چھوئے، پھر جب اسے آگ چھوتی ہے تو وہ روشنی پر روشنی میں بڑھ جاتا ہے، ایسے ہی مومن کا دل ہے کہ اس سے پہلے ہی ہدایت پر عمل کرنے والا ہوتا ہے کہ اس کے پاس علم آئے، پھر جب اس کے پاس علم آتا ہے تو وہ ہدایت پر ہدایت میں بڑھ جاتا ہے اور نور پر نور میں بڑھ جاتا ہے۔“
➏ آیت میں مومن کے دل میں اللہ کی ہدایت کے نور کو مثال دے کر زیادہ سے زیادہ روشن بیان کرنا مقصود ہے، اس کے لیے اسے ایسے چراغ کی روشنی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو آیت کے نزول کے وقت رات کے اندھیرے میں روشنی کے لیے انسانی استعمال میں آنے والی سب سے روشن چیز تھی اور اس کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے جو اسباب و ذرائع ہو سکتے تھے وہ بھی ساتھ ذکر فرمائے۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ چراغ ایک طاق میں ہے، طاق میں ہونے کی وجہ سے اس کی شعائیں مجتمع ہو کر زیادہ روشنی کا باعث بنتی ہیں، اگر وہ کسی کھلی جگہ میں ہوتا تو اس کی شعائیں بکھر جاتیں۔ دوسری چیز اس کی روشنی کو بڑھانے والی یہ ہے کہ وہ چراغ شیشے کے ایک فانوس میں ہے، جس سے وہ ہوا کے تھپیڑوں سے محفوظ ہے اور فانوس کی وجہ سے اس کی روشنی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ تیسری چیز یہ کہ وہ فانوس عام شیشے کا بنا ہوا نہیں کہ روشنی میں معمولی اضافے کا باعث ہو، بلکہ اتنا شفاف اور چمک دار ہے جیسے کوئی چمکتا ہوا تارا ہو۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ وہ چراغ کسی عام تیل سے روشن نہیں کیا جا رہا، بلکہ تیل کی تمام قسموں میں سے جو تیل سب سے شفاف، سب سے زیادہ روشنی دینے والا اور سب سے کم دھواں دینے والا ہے وہ اس کے ساتھ روشن کیا جا رہا ہے، جو روغن زیتون ہے۔ پانچویں چیز یہ ہے کہ زیتون کا وہ تیل ردی یا خراب قسم کا نہیں کہ ایسے پھلوں سے نکالا گیا ہو جو نکمے اور خشک ہوں، بلکہ ایسے درخت کے پھلوں سے نکالا گیا ہے جو نہایت سر سبز و شاداب ہے اور جس کے پھل صاف روغن سے بھرپور ہیں۔ چھٹی چیز یہ کہ وہ تیل اتنا شفاف ہے کہ آگ لگائے بغیر بھی ایسے دکھائی دیتا ہے کہ ابھی اس سے روشنی پھوٹنے لگے گی۔ نور پر نور یعنی نور کو جس طرح بھی بڑھایا جا سکتا ہے اسی طرح اسے زیادہ سے زیادہ روشن کیا گیا ہے۔ اس میں جس کو تشبیہ دی گئی ہے وہ مومن کے دل میں اللہ کی ہدایت کا نور ہے اور جس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے وہ ایسے چراغ کی روشنی ہے جس میں ہر اس طریقے سے اضافہ کیا گیا ہے جس سے اضافہ ہو سکتا ہے، یعنی تشبیہ ایک چیز سے نہیں بلکہ اس چراغ کی مجموعی صورت سے ہے، اسے تشبیہ تمثیل کہتے ہیں۔ اس میں مشبّہ کی ایک ایک چیز کی تشبیہ مشبّہ بہ کی ایک ایک چیز کے ساتھ نہیں دی جاتی، بلکہ مشبّہ کی مجموعی صورت کی تشبیہ مشبّہ بہ کی مجموعی صورت کے ساتھ دی جاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر کا انداز یہی ہے، البتہ بعض اہلِ علم نے مشبّہ کے اجزا کو مشبّہ بہ کے ایک ایک جز سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ طبری (۲۶۳۱۰) نے معتبر سند کے ساتھ ابو العالیہ سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی تفسیر نقل فرمائی ہے، ان کے مطابق طاق سے مراد مومن کا سینہ ہے، فانوس سے مراد مومن کا دل ہے، چراغ وہ ایمان اور قرآن ہے جو مومن کے دل میں ہے۔ ستارے کی طرح چراغ کے روشن ہونے سے مراد مومن کے دل کا نور ایمان سے منور ہونا ہے۔ شجرہ مبارکہ سے اس چراغ کے روشن ہونے سے مراد اس کا اللہ وحدہ کے لیے اخلاص اور اس کی عبادت سے روشن ہونا ہے۔ {” لَا شَرْقِيَّةٍ وَّ لَا غَرْبِيَّةٍ “} سے مراد ایسے درخت سے تشبیہ ہے جو گھنے درختوں کے درمیان گھرا ہوا ہے، چنانچہ وہ نہایت سبز اور چکنا ہے، اسے شدید دھوپ نہیں پہنچتی، نہ سورج کے طلوع ہوتے وقت نہ غروب ہوتے وقت، اسی طرح مومن کا دل اس سے محفوظ ہے کہ اسے مختلف حالات نقصان پہنچائیں، اگر وہ ایسے انقلابات کی زد میں آتا بھی ہے تو اللہ اسے ثابت رکھتا ہے۔ یہ بھی ایک جلیل القدر صحابی کی تفسیر ہے، جو سید القراء تھے۔ {” نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ “} یعنی وہ نور تہ بہ تہ ہے اور اسے قوت دینے والی اور زیادہ روشن کرنے والی کوئی چیز باقی نہیں رہی جس نے اسے مزید روشن نہ کیا ہو۔
➐ { يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جب اللہ کے نورِ ہدایت سے آسمان و زمین روشن ہیں، تو کافر اس سے کیوں محروم ہیں اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی اظہر من الشمس براء ت کے باوجود ان پر بہتان لگانے والے اس سے اندھے کیوں رہے؟ فرمایا، اللہ اس نور کا مالک ہے، وہ اپنی چیز جسے چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، اگر وہ کسی کو بھی نہ دے تو ظالم نہیں، مگر یہ اس کا کرم ہے کہ جو ہدایت کے قابل ہو اسے ضرور ہدایت دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ }» [القصص: ۵۶] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
➑ { وَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ:} یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے حسب حال مثالیں بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید میں تقریباً ہر اہم مسئلے کے ساتھ کوئی نہ کوئی مثال بیان ہوئی ہے، کیوں کہ اس سے بات خوب ذہن نشین ہو جاتی ہے۔
➒ { وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، جس میں سے یہ بھی ہے کہ کس بات کے لیے کون سی مثال موزوں ہے اور ہدایت کے لائق کون ہے اور کون نہیں۔
➋ اس آیت میں {” نُوْرُ “} کا معنی {”ذُوْ نُوْرٍ“} ہے، یعنی روشن کرنے والا، جیسا کہ {”زَيْدٌ عَدْلٌ“} کا معنی یہ نہیں کہ زید عدل و انصاف ہے، بلکہ اس کا معنی ہے کہ زید عدل و انصاف والا ہے۔ بعض مفسرین نے یہی مفہوم ان الفاظ میں ادا فرمایا: {” اَللّٰهُ نَوَّرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ “} یعنی اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو روشن فرمایا۔ (نقلہ ابن کثیر عن ضحاک) آسمانوں اور زمین سے سارا جہان مراد ہے، یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ نور سے روشن ہے۔ یہ نور حسی بھی ہے اور معنوی بھی۔
حسی کی کئی قسمیں ہیں، ایک وہ نور جو خود روشن ہے اور دوسروں کو روشن کرتا ہے، جیسے سورج، چاند، ستارے، بجلی، آگ، ہر قسم کے چراغ، جگنو اور ہر وہ حیوان یا درخت جس سے روشنی نکلتی ہے، یہ سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ ایک وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے حسن یا توانائی کی کسی نہ کسی شکل میں کائنات کے ہر ذرّے میں ودیعت کر رکھا ہے، مثلاً چہرے کا حسن چہرے کا نور کہلاتا ہے، گھر کے افراد گھر کا نور ہوتے ہیں، گلے کا نور آواز کی صورت میں روشنی بکھیرتا ہے، زبان کا نور بولنے سے ظاہر ہوتا ہے، ہر عضو کی توانائی اس کا نور ہے۔ سمندر، پہاڑ، درخت، صحرا غرض ہر چیز کا حسن و جمال اور ان کے منافع اللہ کا نور ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت کر رکھا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کردہ ہے۔ نور کی ایک قسم ہر عضو کی وہ استعداد ہے جس سے حیوان یا انسان کائنات میں پھیلے ہوئے نور کا ادراک کرتا ہے، مثلاً آنکھ میں بینائی کا نور ہے، یہ نہ ہو تو نہ سورج چاند یا کوئی روشنی نظر آئے، نہ اس سے روشن کائنات کے ذرّے ذرّے میں پھیلا ہوا حسن نظر آئے، اس لیے نابینے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں۔ کان کا نور اس کے سننے کی قوت ہے۔ اسی طرح چھونے، چکھنے، سونگھنے کی قوتیں ان اعضا کا نور ہیں جن میں یہ رکھی گئی ہیں۔ اسی طرح بھوک پیاس، جنسی اشتہا، غرض بے شمار استعدادات ہیں جو اپنے اپنے متعلقہ عضو کا نور ہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے کیا خوب خلاصہ نکالا ہے جو اوپر گزرا کہ اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین و آسمان کی، اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہو جائیں۔
معنوی نور کی بھی کئی قسمیں ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جس سے ضلالت کے اندھیرے ختم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا یہ نور پیغمبروں کے ذریعے سے نازل فرمایا، اللہ نے فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا }» [النساء: ۱۷۴] ”اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے۔“ اور فرمایا: { هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ } [الحدید: ۹] ”وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات اتارتا ہے، تاکہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر یقینا بے حد نرمی کرنے والا نہایت مہربان ہے۔“ اور فرمایا: «{ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ }» [البقرۃ: ۲۵۷] ”اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔“ اور فرمایا: «{ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ }» [المائدۃ: ۱۵] ”بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔“ مزید دیکھے سورۂ انعام (۱۲۲) اور سورۂ شوریٰ (۵۲)۔ اس معنوی نور کی دوسری قسم حق کو پہچاننے اور قبول کرنے کی وہ استعداد ہے جو مومن کے دل میں ہوتی ہے، جو شروع ہی سے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں رکھ دی ہے، مگر بعض اوقات وہ ماحول کے اثر یا اپنی بدعملی کی وجہ سے اس سے محروم ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةُ بَهِيْمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّوْنَ فِيْهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟] [بخاري، تفسیر سورۃ الروم، باب لا تبدیل لخلق اللہ: ۴۷۷۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ پیدا ہوتا ہے تو پورے اعضا والا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کوئی کان کٹا یا ناک کٹا دیکھتے ہو (یعنی اس کا کان یا ناک بعد میں لوگ کاٹتے ہیں)۔“ ہدایت کا یہ نور اگر کسی دل میں نہ ہو تو جتنے بھی انبیاء آ جائیں یا جتنی بھی آیات الٰہی نازل ہوں دل کے اندھے کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر یہ نور آنکھوں یا کانوں میں نہ ہو تو تمام معجزے اور ہر وعظ و نصیحت بے کار ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا }» [الأعراف: ۱۷۹] ”ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں۔“
مطلب ساری آیت کا یہ ہے کہ کائنات کی ساری رونق اور آبادی اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہ رہ جائے، نور کے تمام ذرائع مثلاً سورج چاند وغیرہ، ان سے روشن ہونے والی کائنات اور ان کا ادراک کرنے والا نور اسی کا پیدا کردہ ہے، اسی طرح ایمان کا نور بھی اسی کا عطا کردہ ہے، اسی نے وحی بھیجی، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور دلوں میں انھیں قبول کرنے کا نور رکھا۔
➌ { ” اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} میں اگرچہ حسی و معنوی تمام نور داخل ہیں اور سب ہی اللہ کے عطا کردہ ہیں، مگر زیرِ تفسیر آیت میں مراد ہدایت کا نور ہے کہ وہ صرف اللہ کی عطا ہے، اس کا ایک قرینہ اس سے پہلی آیت ہے، جس میں {” اٰيٰتٍ مُبَيِّنٰتٍ“} اور گزشتہ اقوام کے کچھ حالات اور متقین کے لیے نصیحت نازل کرنے کا ذکر ہے اور ایک قرینہ خود اس آیت میں موجود ہے کہ {” يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ “} اور تیسرا قرینہ اس سلسلہ کلام کی آخری آیت کا اختتام ہے، فرمایا: «{ وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ }» [النور: ۴۰] ”اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔“ اس لیے ترجمان القرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ یہ تفسیر آئی ہے کہ انھوں نے فرمایا: {” «اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» يَقُوْلُ:اللّٰهُ سُبْحَانَهُ هَادِيْ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“} [طبري: ۲۶۲۹۲]”اللہ تعالیٰ کے فرمان {” اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} کا معنی یہ ہے کہ اللہ سبحانہ آسمانوں اور زمین والوں کو ہدایت دینے والا ہے۔“
شیخ المفسرین طبری نے یہی تفسیر اختیار کی ہے اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے یہ تفسیر ذکر کرکے اسے قائم رکھا ہے، مگر ساتھ ہی فرمایا ہے کہ یہ تفسیر نور کی دوسری انواع کو اس کی تفسیر میں داخل کرنے سے مانع نہیں ہے۔ (تفسیر سورۃ النور از ابن تیمیہ) ابن کثیر نے بھی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ قرآن مجید کی دوسری آیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسے فرمایا: «{ اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ }» [الزمر: ۲۲] ”تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے سو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے۔“
➍ {مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ…: ” مِشْكَاةٌ “} دیوار میں طاق جو دیوار کے آر پار نہ ہو، {” زُجَاجَةٍ “} شیشے کا فانوس۔ {” دُرِّيٌّ “ ”دُرٌّ“ } کے ساتھ یاء نسبت لگانے سے {” دُرِّيٌّ “} بن گیا، موتی کی طرح چمکتا ہوا۔ {” لَا شَرْقِيَّةٍ وَّ لَا غَرْبِيَّةٍ “} کے الفاظ سے زیتون کے اس تیل کی عمدگی اور شفافیت بیان کرنا مقصود ہے۔ اہلِ علم سے اس کی دو تفسیریں آئی ہیں، ایک یہ کہ وہ تیل زیتون کے ایسے درخت سے حاصل ہوا ہے جو نہ مشرقی ہے کہ اس کے مغرب میں کوئی پہاڑ یا اوٹ ہو، جس کی وجہ سے اس پر صرف دن کے پہلے پہر کی دھوپ پڑتی ہو اور نہ مغربی ہے کہ اس کے مشرق میں کوئی پہاڑ یا اوٹ ہو جس کی وجہ سے اس پر صرف دن کے پچھلے پہر کی دھوپ پڑتی ہو، بلکہ وہ درخت کھلی جگہ میں ہے جس پر سارا دن سورج کی دھوپ پڑتی ہے، ایسے درخت کا تیل زیادہ صاف اور عمدہ ہوتا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ زیتون کا وہ درخت نہ مشرق کی جانب ہے نہ مغرب کی طرف، بلکہ دوسرے درختوں کے عین درمیان واقع ہے، جس پر صرف جنوب کی طرف سے سورج کی دھوپ پڑتی ہے۔ درختوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے وہ سورج کی مسلسل تپش سے محفوظ رہتا ہے، جس سے اس کے پھل کی رطوبت پوری طرح محفوظ رہتی ہے۔ دونوں تفسیریں سلف سے مروی ہیں، دوسری تفسیر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ طبری نے نقل فرمائی ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”اور زیتون نہ شرق کا نہ غرب کا، یعنی باغ کے بیچ کا، نہ صبح کی دھوپ کھاوے نہ شام کی، خوب ہرا اور چکنا رہے۔“
➎ { ” مَثَلُ نُوْرِهٖ “} یعنی ”اس کے نور کی مثال“ سے مراد کس کے نور کی مثال ہے اور مثال کس طرح ہے؟ میں نے جتنی تفسیریں دیکھی ہیں سب سے واضح تفسیر ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما کی ہے، جو طبری نے علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس رضی اللہ عنھا کی معتبر سند کے ساتھ نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: [ «{ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ }» قَالَ مَثَلُ هَدَاهُ فِيْ قَلْبِ الْمُؤْمِنِ كَمَا يَكَادُ الزَّيْتُ الصَّافِيْ يُضِيْءُ قَبْلَ أَنْ تَمَسَّهُ النَّارُ فَإِذَا مَسَّتْهُ النَّارُ ازْدَادَ ضَوْئًا عَلٰجی ضَوْءٍ كَذٰلِكَ يَكُوْنُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ يَعْمَلُ بِالْهُدٰی قَبْلَ أَنْ يَّأْتِيَهُ الْعِلْمُ فَإِذَا جَاءَهُ الْعِلْمُ ازْدَادَ هُدًی عَلٰی هُدًی وَ نُوْرًا عَلٰی نُوْرٍ] [طبري: ۲۶۳۱۳] ”اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے“ فرمایا: ”مومن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی مثال اس طرح ہے جیسے صاف زیتون کا تیل، قریب ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی روشن ہو جائے کہ اسے آگ چھوئے، پھر جب اسے آگ چھوتی ہے تو وہ روشنی پر روشنی میں بڑھ جاتا ہے، ایسے ہی مومن کا دل ہے کہ اس سے پہلے ہی ہدایت پر عمل کرنے والا ہوتا ہے کہ اس کے پاس علم آئے، پھر جب اس کے پاس علم آتا ہے تو وہ ہدایت پر ہدایت میں بڑھ جاتا ہے اور نور پر نور میں بڑھ جاتا ہے۔“
➏ آیت میں مومن کے دل میں اللہ کی ہدایت کے نور کو مثال دے کر زیادہ سے زیادہ روشن بیان کرنا مقصود ہے، اس کے لیے اسے ایسے چراغ کی روشنی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو آیت کے نزول کے وقت رات کے اندھیرے میں روشنی کے لیے انسانی استعمال میں آنے والی سب سے روشن چیز تھی اور اس کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے جو اسباب و ذرائع ہو سکتے تھے وہ بھی ساتھ ذکر فرمائے۔ سب سے پہلے یہ کہ وہ چراغ ایک طاق میں ہے، طاق میں ہونے کی وجہ سے اس کی شعائیں مجتمع ہو کر زیادہ روشنی کا باعث بنتی ہیں، اگر وہ کسی کھلی جگہ میں ہوتا تو اس کی شعائیں بکھر جاتیں۔ دوسری چیز اس کی روشنی کو بڑھانے والی یہ ہے کہ وہ چراغ شیشے کے ایک فانوس میں ہے، جس سے وہ ہوا کے تھپیڑوں سے محفوظ ہے اور فانوس کی وجہ سے اس کی روشنی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ تیسری چیز یہ کہ وہ فانوس عام شیشے کا بنا ہوا نہیں کہ روشنی میں معمولی اضافے کا باعث ہو، بلکہ اتنا شفاف اور چمک دار ہے جیسے کوئی چمکتا ہوا تارا ہو۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ وہ چراغ کسی عام تیل سے روشن نہیں کیا جا رہا، بلکہ تیل کی تمام قسموں میں سے جو تیل سب سے شفاف، سب سے زیادہ روشنی دینے والا اور سب سے کم دھواں دینے والا ہے وہ اس کے ساتھ روشن کیا جا رہا ہے، جو روغن زیتون ہے۔ پانچویں چیز یہ ہے کہ زیتون کا وہ تیل ردی یا خراب قسم کا نہیں کہ ایسے پھلوں سے نکالا گیا ہو جو نکمے اور خشک ہوں، بلکہ ایسے درخت کے پھلوں سے نکالا گیا ہے جو نہایت سر سبز و شاداب ہے اور جس کے پھل صاف روغن سے بھرپور ہیں۔ چھٹی چیز یہ کہ وہ تیل اتنا شفاف ہے کہ آگ لگائے بغیر بھی ایسے دکھائی دیتا ہے کہ ابھی اس سے روشنی پھوٹنے لگے گی۔ نور پر نور یعنی نور کو جس طرح بھی بڑھایا جا سکتا ہے اسی طرح اسے زیادہ سے زیادہ روشن کیا گیا ہے۔ اس میں جس کو تشبیہ دی گئی ہے وہ مومن کے دل میں اللہ کی ہدایت کا نور ہے اور جس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے وہ ایسے چراغ کی روشنی ہے جس میں ہر اس طریقے سے اضافہ کیا گیا ہے جس سے اضافہ ہو سکتا ہے، یعنی تشبیہ ایک چیز سے نہیں بلکہ اس چراغ کی مجموعی صورت سے ہے، اسے تشبیہ تمثیل کہتے ہیں۔ اس میں مشبّہ کی ایک ایک چیز کی تشبیہ مشبّہ بہ کی ایک ایک چیز کے ساتھ نہیں دی جاتی، بلکہ مشبّہ کی مجموعی صورت کی تشبیہ مشبّہ بہ کی مجموعی صورت کے ساتھ دی جاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر کا انداز یہی ہے، البتہ بعض اہلِ علم نے مشبّہ کے اجزا کو مشبّہ بہ کے ایک ایک جز سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ طبری (۲۶۳۱۰) نے معتبر سند کے ساتھ ابو العالیہ سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی تفسیر نقل فرمائی ہے، ان کے مطابق طاق سے مراد مومن کا سینہ ہے، فانوس سے مراد مومن کا دل ہے، چراغ وہ ایمان اور قرآن ہے جو مومن کے دل میں ہے۔ ستارے کی طرح چراغ کے روشن ہونے سے مراد مومن کے دل کا نور ایمان سے منور ہونا ہے۔ شجرہ مبارکہ سے اس چراغ کے روشن ہونے سے مراد اس کا اللہ وحدہ کے لیے اخلاص اور اس کی عبادت سے روشن ہونا ہے۔ {” لَا شَرْقِيَّةٍ وَّ لَا غَرْبِيَّةٍ “} سے مراد ایسے درخت سے تشبیہ ہے جو گھنے درختوں کے درمیان گھرا ہوا ہے، چنانچہ وہ نہایت سبز اور چکنا ہے، اسے شدید دھوپ نہیں پہنچتی، نہ سورج کے طلوع ہوتے وقت نہ غروب ہوتے وقت، اسی طرح مومن کا دل اس سے محفوظ ہے کہ اسے مختلف حالات نقصان پہنچائیں، اگر وہ ایسے انقلابات کی زد میں آتا بھی ہے تو اللہ اسے ثابت رکھتا ہے۔ یہ بھی ایک جلیل القدر صحابی کی تفسیر ہے، جو سید القراء تھے۔ {” نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ “} یعنی وہ نور تہ بہ تہ ہے اور اسے قوت دینے والی اور زیادہ روشن کرنے والی کوئی چیز باقی نہیں رہی جس نے اسے مزید روشن نہ کیا ہو۔
➐ { يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جب اللہ کے نورِ ہدایت سے آسمان و زمین روشن ہیں، تو کافر اس سے کیوں محروم ہیں اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی اظہر من الشمس براء ت کے باوجود ان پر بہتان لگانے والے اس سے اندھے کیوں رہے؟ فرمایا، اللہ اس نور کا مالک ہے، وہ اپنی چیز جسے چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، اگر وہ کسی کو بھی نہ دے تو ظالم نہیں، مگر یہ اس کا کرم ہے کہ جو ہدایت کے قابل ہو اسے ضرور ہدایت دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ }» [القصص: ۵۶] ”بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
➑ { وَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ:} یعنی اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لیے حسب حال مثالیں بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید میں تقریباً ہر اہم مسئلے کے ساتھ کوئی نہ کوئی مثال بیان ہوئی ہے، کیوں کہ اس سے بات خوب ذہن نشین ہو جاتی ہے۔
➒ { وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، جس میں سے یہ بھی ہے کہ کس بات کے لیے کون سی مثال موزوں ہے اور ہدایت کے لائق کون ہے اور کون نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35-1یعنی اگر اللہ نہ ہوتا تو آسمان میں نور ہوتا نہ زمین میں، نہ آسمان و زمین میں کسی کو ہدایت نصیب ہوتی۔ پس وہ اللہ تعالیٰ ہی آسمان و زمین کو روشن کرنے والا ہے اس کی کتاب نور ہے، اس کا رسول (بحیثیت صفات کے) نور ہے۔ یعنی ان دونوں کے ذریعے سے زندگی کی تاریکیوں میں رہنمائی اور روشنی حاصل کی جاتی ہے، جس طرح چراغ اور بلب سے انسان روشنی حاصل کرتا ہے۔ حدیث سے بھی اللہ کا نور ہونا ثابت ہے، پس اللہ، اس کی ذات نور ہے، اس کا حجاب نور ہے اور ہر ظاہری اور معنوی نور کا خالق، اس کا عطا کرنے والا اور اس کی طرف ہدایت کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ 35-2نور سے مراد ایمان و اسلام ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جن کے اندر ایمان کی رغبت اور اس کی طلب دیکھتا ہے، ان کی اس نور کی طرف رہنمائی فرما دیتا ہے، جس سے دین و دنیا کی سعادتوں کے دروازے ان کے لئے کھل جاتے ہیں۔ 35-3جس طرح اللہ نے مثال بیان فرمائی، جس میں اس نے ایمان کو اور اپنے مومن بندے کے دل میں اس کے راسخ ہونے اور بندوں کے احوال قلوب کا علم رکھنے کو واضح فرمایا کہ کون ہدایت کا اہل ہے اور کون نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور [59] ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک ایسی ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں ایک چراغ ہو، یہ چراغ فانوس میں رکھا ہوا ہو، وہ فانوس ایسا صاف شفاف ہو جیسے ایک چمکتا ہوا ستارہ۔ اور وہ چراغ زیتون کے مبارک درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ مشرق میں ہوتا ہے اور نہ مغرب میں۔ اس کے تیل کو اگر آگ نہ بھی چھوئے تو بھی وہ از خود بھرک اٹھنے کے قریب ہوتا ہے (اسی طرح) روشنی پر روشنی [60] (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہو گئے ہوں) اللہ اپنے ایسے ہی زر کی طرف جسے چاہتا ہے، رہنمائی [61] کر دیتا ہے۔ اور اللہ مثالیں بیان کر کے لوگوں کو سمجھاتا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
[59] قرآن میں عموماً جہاں کہیں بھی آسمانوں اور زمین کا اکٹھا ذکر آیا ہے وہاں اس سے مراد پوری کائنات ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا نور ہے یا پوری کائنات کو روشن کرنے والا ہے۔ نور کی اقسام :۔
نور تین قسم کا ہوتا ہے۔
(1) روشن چیزوں کا نور مثلاً سورج، چاند، ستاروں اور چراغ یا برقی قمقموں کا نور۔ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ ایسے نور کے بغیر انسان ظاہری چیزوں کو دیکھ نہیں سکتا۔
(2) آنکھ کا نور جس کی عدم موجودگی میں روشن چیزوں کا نور بے کار ہوتا ہے۔ سورج نکلا ہوا ہو تب بھی آنکھ کے اندھے کو کوئی چیز نہیں آتی۔
(3) وحی یا علم دین کا نور جس کی عدم موجودگی میں انسان ہدایت کے نور سے استفادہ نہیں کر سکتا جس طرح ایک اندھا سورج کی روشنی میں بھی ظاہری اشیاء کو نہیں دیکھ سکتا اسی طرح دل کے اندھے کے لئے تعلیمات الہٰیہ بے کار ثابت ہوتی ہیں۔ اب دیکھئے آنکھ کا نور بھی خالصتاً اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ اس کی ماہیت کیا ہے؟ یہ بات سمجھنا غالباً انسان کی بساط سے باہر ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کا نور بصارت چھین لے تو کوئی طاقت اسے واپس نہیں لا سکتی۔ اور اسی آنکھ کے نور سے ہم کائنات کی اشیاء کو دیکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا اصل منبع نور خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہوئی اور اسی کے نور سے کائنات کی ایک ایک چیز کی نمود ہے۔ اور دوسری طرف دل کا نور بھی خالصتاً اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اور اسی نور سے انسان آیات انفس و آفاق میں فکر و تدبیر کرتا ہے اور وحی الہٰی سے فیض یاب ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جس شخص کو نور و ہدایت حاصل ہوا یا جس مقدار میں حاصل ہوا سب کچھ اسی منبع نور سے حاصل ہوا ہے۔ بعض علماء نے یہاں نور کے معنی منور کیا ہے۔ اس لحاظ سے پہلی توجیہ فٹ بیٹھتی ہے لیکن نور کا لفظ منور سے زیادہ ابلغ ہے۔ پھر نور کا لفظ ہر دو توجیہات کے مطابق ہے۔ لہٰذا ہمارے خیال میں نور کا معنی نور یا روشنی ہی سمجھا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
(1) روشن چیزوں کا نور مثلاً سورج، چاند، ستاروں اور چراغ یا برقی قمقموں کا نور۔ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ ایسے نور کے بغیر انسان ظاہری چیزوں کو دیکھ نہیں سکتا۔
(2) آنکھ کا نور جس کی عدم موجودگی میں روشن چیزوں کا نور بے کار ہوتا ہے۔ سورج نکلا ہوا ہو تب بھی آنکھ کے اندھے کو کوئی چیز نہیں آتی۔
(3) وحی یا علم دین کا نور جس کی عدم موجودگی میں انسان ہدایت کے نور سے استفادہ نہیں کر سکتا جس طرح ایک اندھا سورج کی روشنی میں بھی ظاہری اشیاء کو نہیں دیکھ سکتا اسی طرح دل کے اندھے کے لئے تعلیمات الہٰیہ بے کار ثابت ہوتی ہیں۔ اب دیکھئے آنکھ کا نور بھی خالصتاً اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ اس کی ماہیت کیا ہے؟ یہ بات سمجھنا غالباً انسان کی بساط سے باہر ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کا نور بصارت چھین لے تو کوئی طاقت اسے واپس نہیں لا سکتی۔ اور اسی آنکھ کے نور سے ہم کائنات کی اشیاء کو دیکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا اصل منبع نور خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہوئی اور اسی کے نور سے کائنات کی ایک ایک چیز کی نمود ہے۔ اور دوسری طرف دل کا نور بھی خالصتاً اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اور اسی نور سے انسان آیات انفس و آفاق میں فکر و تدبیر کرتا ہے اور وحی الہٰی سے فیض یاب ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جس شخص کو نور و ہدایت حاصل ہوا یا جس مقدار میں حاصل ہوا سب کچھ اسی منبع نور سے حاصل ہوا ہے۔ بعض علماء نے یہاں نور کے معنی منور کیا ہے۔ اس لحاظ سے پہلی توجیہ فٹ بیٹھتی ہے لیکن نور کا لفظ منور سے زیادہ ابلغ ہے۔ پھر نور کا لفظ ہر دو توجیہات کے مطابق ہے۔ لہٰذا ہمارے خیال میں نور کا معنی نور یا روشنی ہی سمجھا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
[60] اللہ ہی کائنات کا نور ہے:۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نور کی جو مثال بیان فرمائی ہے۔ اس کی مندرجہ بالا دو توجیہات کے مطابق دو صورتیں ہیں۔ پہلی توجیہ کے مطابق یہ پوری کائنات ایک طاق کی مانند ہے۔ اور اس میں جس چراغ کی روشنی کی مثال پیش کی گئی ہے وہ اللہ کا نور ہے۔ باقی جو باتیں مذکور ہیں وہ اس لحاظ سے ہیں کہ ایک انسان زیادہ سے زیادہ اور صاف شفاف روشنی کا جو تصور اس دور میں کر سکتا تھا وہ پیش کیا گیا ہے مثلاً ایک یہ ہے کہ وہ چراغ ایک طاق میں ہے جس کا مطلب یہ ہے روشنی کے پھیلاؤ کا دائرہ وسیع نہیں بلکہ بہت محدود حصہ میں ہے تاکہ طاق میں پڑی ہوئی ہر چیز بڑی واضح اور نمایاں نظر آسکے۔ دوسرے یہ کہ اس چراغ میں جلنے والا تیل زیتون کا تیل ہے۔ جو دوسرے تمام قسم کے تیلوں سے زیادہ اور صاف روشنی دیتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ زیتون کا دخت ہر وقت دھوپ میں رہتا ہے۔ مشرقی اور مغربی رخ کے سائے اس درخت پر نہیں پڑتے اور ایسے ہمیشہ دھوپ میں رہنے والے درخت کا تیل عام درختوں کے تیل سے زیادہ لطیف ہوتا ہے نیز اس میں یہ خاصیت ہے کہ آگ لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آگ نزدیک ہونے سے ہی بھڑک اٹھتا ہے۔ جیسا کہ آج کل پٹرول میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے۔ اور تیسرے یہ کہ اس چراغ کے گردا گرد نہایت صاف شفاف شیشہ یا فانوس ہے۔ اور ایسے فانوس سے جس قدر روشنی میں اضافہ ہوتا ہے اس کا اندازہ آپ کسی لالٹین سے اس کی شیشہ کی چمنی اتار کر سکتے ہیں۔ گویا چراغ کی روشنی کو سہ بالا یا نور علی نور کرنے والی تین چیزیں ہوئیں۔ ایک تیل کی اعلیٰ کو الٹی، دوسرے صاف شفاف فانوس اور تیسرے روشنی کا دائرہ بہت محدود ہونا اور مثال کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ایسی روشنی سے کائنات کی ایک ایک چیز کو منور کر رہا ہے۔
نور ایمانی کی وحی الہٰی کے لیے بے تابی :۔
اور دوسری صورت میں چراغ اور اس کے تیل سے مراد نور بصیرت یا نور ایمان ہے۔ فانوس سے مراد انسان کا دل ہے۔ جس میں یہ نور بصیرت واقع ہوتا ہے اور طاق سے مراد اس کا جسم ہے۔ پھر جب ہدایت یا آیات الہٰی پہنچتی ہیں تو ایسے شخص کی بصیرت اس کو قبول کرنے کے لئے پہلے ہی بے تاب ہوتی ہے۔ اب اگر کسی کے دل میں نوربصیرت ہو گا۔ جس کا منبع خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تو ایسے ہی شخص کو یہ آیات فوراً اپیل کرتی اور نظر آنے لگتی ہیں۔ بے بصیرت کو نظر نہیں آتیں۔ یہ دوسری توجیہ کتاب و سنت سے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اکثر آسمانی کتب کے لئے بھی نور کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور علم وحی اور ہدایت کے لئے بھی۔ اور اس مثال کا مطلب یہ ہے کہ جس کسی کے دل میں نور بصیرت کا عطیہ موجود ہوتا ہے وہ احکام الہٰی اور وحی الہٰی کو قبول کرنے کے لئے اس قدر بے تاب ہوتا ہے جیسے پٹرول آگ پکڑنے کے لئے بے تاب ہوتا ہے۔
[61] جس طرح آنکھ کا نور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو فطری طور پر عطا کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر شخص کو نور بصیرت بھی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ایک دوسرا قانون یہ ہے کہ جس عضو یا قوت سے انسان کام لینا چھوڑ دے وہ قوت اس سے چھین لی جاتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی ہدایت نصیب انہی لوگوں کو ہوتی ہے جو خود بھی اس سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جو شخص نور ہدایت کا طالب ہی نہ ہو اور اللہ زبردستی سے کسی کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
[61] جس طرح آنکھ کا نور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو فطری طور پر عطا کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر شخص کو نور بصیرت بھی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ایک دوسرا قانون یہ ہے کہ جس عضو یا قوت سے انسان کام لینا چھوڑ دے وہ قوت اس سے چھین لی جاتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی ہدایت نصیب انہی لوگوں کو ہوتی ہے جو خود بھی اس سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جو شخص نور ہدایت کا طالب ہی نہ ہو اور اللہ زبردستی سے کسی کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مدبر کائنات نور ہی نور ہے ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ ہادی ہے، آسمان والوں اور زمین والوں کا، وہی ان دونوں میں سورج چاند اور ستاروں کی تدبیر کرتا ہے۔“
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ کا نور ہدایت ہے۔“ ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کے نور کی مثال یعنی اس کا نور رکھنے والے مومن کی مثال جن کے سینے میں ایمان و قرآن ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اولاً اپنے نور کا ذکر کیا پھر مومن کی نورانیت کا کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے کے نور کی مثال“ بلکہ ابی رضی اللہ عنہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت «مَثَلُ نُورِ مَنْ آمَنَ بِهِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس طرح پڑھنا بھی مروی ہے «نُورِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ» ۔
بعض کی قرأت میں «اللَّهُ نَوَّرَ» ہے یعنی ’ اس نے آسمان و زمین کو نورانی بنا دیا ہے ‘۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی کے نور سے آسمان و زمین روشن ہیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ کا نور ہدایت ہے۔“ ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس کے نور کی مثال یعنی اس کا نور رکھنے والے مومن کی مثال جن کے سینے میں ایمان و قرآن ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اولاً اپنے نور کا ذکر کیا پھر مومن کی نورانیت کا کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے کے نور کی مثال“ بلکہ ابی رضی اللہ عنہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت «مَثَلُ نُورِ مَنْ آمَنَ بِهِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس طرح پڑھنا بھی مروی ہے «نُورِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ» ۔
بعض کی قرأت میں «اللَّهُ نَوَّرَ» ہے یعنی ’ اس نے آسمان و زمین کو نورانی بنا دیا ہے ‘۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی کے نور سے آسمان و زمین روشن ہیں۔
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ { جس دن اہل طائف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ایذاء پہنچائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں فرمایا تھا «" أُعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ، وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَنْ يَحِلَّ بِيَ غَضَبُكَ أَوْ يَنْزِلَ بِي سَخَطُكَ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ» اس دعا میں ہے کہ { تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ میں آ رہا ہوں جو اندھیروں کو روشن کر دیتا ہے اور جس پر دنیا آخرت کی صلاحیت موقوف ہے } } الخ۔ ۱؎ [السيرة النبوية:420/1]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تب یہ فرماتے کہ «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِنْ فِيهِنَّ» { اللہ تیرے ہی لیے ہے سب تعریف سزاوار ہے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نورہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1120]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تمہارے رب کے ہاں رات اور دن نہیں، اس کے چہرے کے نور کی وجہ سے اس کے عرش کا نور ہے۔“
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تب یہ فرماتے کہ «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِنْ فِيهِنَّ» { اللہ تیرے ہی لیے ہے سب تعریف سزاوار ہے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نورہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1120]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”تمہارے رب کے ہاں رات اور دن نہیں، اس کے چہرے کے نور کی وجہ سے اس کے عرش کا نور ہے۔“
«نُورِهِ» کی ضمیر کا مرجع بعض کے نزدیک تو لفظ اللہ ہی ہے یعنی اللہ کی ہدایت جو مومن کے دل میں ہے اس کی مثال یہ ہے اور بعض کے نزدیک مومن ہے جس پر سیاق کلام کی دلالت ہے یعنی مومن کے دل کے نور کی مثال مثل طاق کے ہے۔
جیسے فرمان ہے کہ ایک شخص ہے جو اپنے رب کی دلیل اور ساتھ ہی شہادت لیے ہوئے ہے پس مومن کے دل کی صفائی کو بلور کے فانوس سے مشابہت دی اور پھر قرآن اور شریعت سے جو مدد اسے ملتی رہتی ہے اس کی زیتون کے اس تیل سے تشبیہ دی جو خود صاف شفاف چمکیلا اور روشن ہے۔ پس طاق اور طاق میں چراغ اور وہ بھی روشن چراغ۔ یہودیوں نے اعتراضاً کہا تھا کہ اللہ کانور آسمانوں کے پار کیسے ہوتا ہے؟ تو مثال دے کر سمجھایا گیا کہ جیسے فانوس کے شیشے سے روشنی۔ پس فرمایا کہ ’ اللہ آسمان زمین کا نور ہے ‘۔
«مِشْكَاةٍ» کے معنی گھر کے طاق کے ہیں یہ مثال اللہ نے اپنی فرمانبرداری کی دی ہے اور اپنی اطاعت کو نور فرمایا ہے پھر اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، حبشہ کی لغت میں اسے طاق کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ایسا طاق جس میں کوئی اور سوراخ وغیرہ نہ ہو۔ فرماتے ہیں اسی میں قندیل رکھی جاتی ہے۔
پہلا قول زیادہ قوی ہے یعنی قندیل رکھنے کی جگہ۔ چنانچہ قرآن میں بھی ہے کہ اس میں چراغ ہے۔ پس «مِصْبَاحٌ» سے مراد نور ہے یعنی قرآن اور ایمان جو مسلمان کے دل میں ہوتا ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں چراغ مراد ہے۔
جیسے فرمان ہے کہ ایک شخص ہے جو اپنے رب کی دلیل اور ساتھ ہی شہادت لیے ہوئے ہے پس مومن کے دل کی صفائی کو بلور کے فانوس سے مشابہت دی اور پھر قرآن اور شریعت سے جو مدد اسے ملتی رہتی ہے اس کی زیتون کے اس تیل سے تشبیہ دی جو خود صاف شفاف چمکیلا اور روشن ہے۔ پس طاق اور طاق میں چراغ اور وہ بھی روشن چراغ۔ یہودیوں نے اعتراضاً کہا تھا کہ اللہ کانور آسمانوں کے پار کیسے ہوتا ہے؟ تو مثال دے کر سمجھایا گیا کہ جیسے فانوس کے شیشے سے روشنی۔ پس فرمایا کہ ’ اللہ آسمان زمین کا نور ہے ‘۔
«مِشْكَاةٍ» کے معنی گھر کے طاق کے ہیں یہ مثال اللہ نے اپنی فرمانبرداری کی دی ہے اور اپنی اطاعت کو نور فرمایا ہے پھر اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، حبشہ کی لغت میں اسے طاق کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ایسا طاق جس میں کوئی اور سوراخ وغیرہ نہ ہو۔ فرماتے ہیں اسی میں قندیل رکھی جاتی ہے۔
پہلا قول زیادہ قوی ہے یعنی قندیل رکھنے کی جگہ۔ چنانچہ قرآن میں بھی ہے کہ اس میں چراغ ہے۔ پس «مِصْبَاحٌ» سے مراد نور ہے یعنی قرآن اور ایمان جو مسلمان کے دل میں ہوتا ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں چراغ مراد ہے۔
پھر فرمایا ’ یہ روشنی جس میں بہت ہی خوبصورتی ہے، یہ صاف قندیل میں ہے ‘، یہ مومن کے دل کی مثال ہے۔ پھر وہ قندیل ایسی ہے جیسے موتی جیسا چمکیلا روشن ستارہ۔
اس کی دوسری قرأت «دِرِّيءٌ» اور «دُرِّيءٌ» بھی ہے۔ یہ ماخوذ ہے «دَرْءِ» سے جس کے معنی دفع کے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ٹوٹتا ہے اس وقت وہ بہت روشن ہوتا ہے اور جو ستارے غیر معروف ہیں انہیں بھی عرب «دَرَارِيَّ» کہتے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ہے جو خوب ظاہر ہو اور بڑا ہو۔ پھر اس چراغ میں تیل بھی مبارک درخت زیتون کا ہو۔
«زَيْتُونَةٍ» کا لفظ بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ پھر وہ زیتون کا درخت بھی نہ مشرقی ہے کہ اول دن سے اس پر دھوپ آ جائے۔ اور نہ مغربی ہے کہ غروب سورج سے پہلے اس پر سے سایہ ہٹ جائے بلکہ وسط جگہ میں ہے۔ صبح سے شام تک سورج کی صاف روشنی میں رہے۔
اس کی دوسری قرأت «دِرِّيءٌ» اور «دُرِّيءٌ» بھی ہے۔ یہ ماخوذ ہے «دَرْءِ» سے جس کے معنی دفع کے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ٹوٹتا ہے اس وقت وہ بہت روشن ہوتا ہے اور جو ستارے غیر معروف ہیں انہیں بھی عرب «دَرَارِيَّ» کہتے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ہے جو خوب ظاہر ہو اور بڑا ہو۔ پھر اس چراغ میں تیل بھی مبارک درخت زیتون کا ہو۔
«زَيْتُونَةٍ» کا لفظ بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ پھر وہ زیتون کا درخت بھی نہ مشرقی ہے کہ اول دن سے اس پر دھوپ آ جائے۔ اور نہ مغربی ہے کہ غروب سورج سے پہلے اس پر سے سایہ ہٹ جائے بلکہ وسط جگہ میں ہے۔ صبح سے شام تک سورج کی صاف روشنی میں رہے۔
پس اس کا تیل بھی بہت صاف، چمکدار اور معتدل ہوتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ وہ درخت میدان میں ہے کوئی درخت، پہاڑ، غار یا کوئی اور چیز اسے چھپائے ہوئے نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس درخت کا تیل بہت صاف ہوتا ہے۔“
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”صبح سے شام تک کھلی ہوا اور صاف دھوپ اسے پہنچتی رہتی ہے کیونکہ وہ کھلے میدان میں درمیان کی جگہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کا تیل بہت پاک صاف اور روشن چمکدار ہوتا ہے اور اسے نہ مشرقی کہہ سکتے ہیں نہ مغربی۔ ایسا درخت بہت سرسبز اور کھلا ہوتا ہے پس جیسے یہ درخت آفتوں سے بچا ہوا ہوتا ہے، اسی طرح مومن فتنوں سے محفوظ ہوتا ہے اگر کسی فتنے کی آزمائش میں پڑتا بھی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھتا ہے۔“
پس اسے چار صفتیں قدرت دے دیتی ہے [١] بات میں سچ [٢] حکم میں عدل [٣] بلا پر صبر [٤] نعمت پر شکر پھر وہ اور تمام انسانوں میں ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی زندہ جو مردوں میں ہو۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر یہ درخت دنیا میں زمین پر ہوتا تو ضرور تھا کہ مشرقی ہوتا یا مغربی لیکن یہ تو نور الٰہی کی مثال ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”یہ مثال ہے نیک مرد کی جو نہ یہودی ہے نہ نصرانی۔“
ان سب اقوال میں بہترین قول پہلا ہے کہ وہ درمیانہ زمین میں ہے کہ صبح سے شام تک بے روک ہوا اور دھوپ پہنچتی ہے کیونکہ چاروں طرف سے کوئی آڑ نہیں تو لامحالہ ایسے درخت کا تیل بہت زیادہ صاف ہوگا اور لطیف اور چمکدار ہوگا۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”صبح سے شام تک کھلی ہوا اور صاف دھوپ اسے پہنچتی رہتی ہے کیونکہ وہ کھلے میدان میں درمیان کی جگہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کا تیل بہت پاک صاف اور روشن چمکدار ہوتا ہے اور اسے نہ مشرقی کہہ سکتے ہیں نہ مغربی۔ ایسا درخت بہت سرسبز اور کھلا ہوتا ہے پس جیسے یہ درخت آفتوں سے بچا ہوا ہوتا ہے، اسی طرح مومن فتنوں سے محفوظ ہوتا ہے اگر کسی فتنے کی آزمائش میں پڑتا بھی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھتا ہے۔“
پس اسے چار صفتیں قدرت دے دیتی ہے [١] بات میں سچ [٢] حکم میں عدل [٣] بلا پر صبر [٤] نعمت پر شکر پھر وہ اور تمام انسانوں میں ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی زندہ جو مردوں میں ہو۔
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر یہ درخت دنیا میں زمین پر ہوتا تو ضرور تھا کہ مشرقی ہوتا یا مغربی لیکن یہ تو نور الٰہی کی مثال ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”یہ مثال ہے نیک مرد کی جو نہ یہودی ہے نہ نصرانی۔“
ان سب اقوال میں بہترین قول پہلا ہے کہ وہ درمیانہ زمین میں ہے کہ صبح سے شام تک بے روک ہوا اور دھوپ پہنچتی ہے کیونکہ چاروں طرف سے کوئی آڑ نہیں تو لامحالہ ایسے درخت کا تیل بہت زیادہ صاف ہوگا اور لطیف اور چمکدار ہوگا۔
اسی لیے فرمایا کہ خود وہ تیل اتنا لطیف ہے کہ گویا بغیر جلائے روشنی دے۔ نور پر نور ہے۔ یعنی ایمان کانور پھر اس پر نیک اعمال کا نور۔ خود زیتون کا تیل روشن پھر وہ جل رہا ہے اور روشنی دے رہا ہے پس اسے پانچ نور حاصل ہو جاتے ہیں اس کا کلام نور ہے اس کا عمل نور ہے۔ اس کا آنا نور اس کا جانا نور ہے اور اس کا آخری ٹھکانا نورہے یعنی جنت۔
کعب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ مثال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اس قدر ظاہر ہے کہ گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زبانی نہ بھی فرمائیں تاہم لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔ جیسے یہ زیتون کہ بغیر روشن کئے روشن ہے۔ تو دونوں یہاں جمع ہیں ایک زیتون کا ایک آگ کا۔ ان کے مجموعے سے روشنی حاصل ہوتی ہوئی۔ اسی طرح نور قرآن نور ایمان جمع ہو جاتے ہیں اور مومن کا دل روشن ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے پسند فرمائے، اپنی ہدایت کی راہ لگا دیتا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو ایک اندھیرے میں پیدا کیا پھر اس دن ان پر اپنا نور ڈالا جیسے وہ نور پہنچا اس نے راہ پائی اور جو محروم رہا وہ گمراہ ہوا۔ اس لیے کہتا ہوں کہ قلم اللہ کے علم کے مطابق چل کر خشک ہو گیا }۔ [سنن ترمذي:2642،قال الشيخ الألباني:صحیح]
کعب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ مثال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اس قدر ظاہر ہے کہ گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زبانی نہ بھی فرمائیں تاہم لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔ جیسے یہ زیتون کہ بغیر روشن کئے روشن ہے۔ تو دونوں یہاں جمع ہیں ایک زیتون کا ایک آگ کا۔ ان کے مجموعے سے روشنی حاصل ہوتی ہوئی۔ اسی طرح نور قرآن نور ایمان جمع ہو جاتے ہیں اور مومن کا دل روشن ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے پسند فرمائے، اپنی ہدایت کی راہ لگا دیتا ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو ایک اندھیرے میں پیدا کیا پھر اس دن ان پر اپنا نور ڈالا جیسے وہ نور پہنچا اس نے راہ پائی اور جو محروم رہا وہ گمراہ ہوا۔ اس لیے کہتا ہوں کہ قلم اللہ کے علم کے مطابق چل کر خشک ہو گیا }۔ [سنن ترمذي:2642،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اللہ تعالیٰ نے مومن کے دل کی ہدایت کی مثال نور سے دے کر پھر فرمایا کہ ’ اللہ یہ مثالیں لوگوں کے سمجھنے کے لئے بیان فرما رہا ہے، اس کے علم میں بھی کوئی اس جیسا نہیں، وہ ہدایت وضلالت کے ہر مستحق کو بخوبی جانتا ہے ‘۔
مسند کی ایک حدیث میں ہے { دلوں کی چار قسمیں ہیں ایک تو صاف اور روشن، ایک غلاف دار اور بندھا ہوا، ایک الٹا اور اور اوندھا، ایک پھرا ہوا الٹا سیدھا۔ پہلا دل تو مومن کا دل ہے جو نورانی ہوتا ہے۔ اور دوسرا دل کافر کا دل ہے اور تیسرا دل منافق کا دل ہے کہ اس نے جانا پھر انجان ہو گیا۔ پہچان لیا پھر منکر ہو گیا۔ چوتھا دل وہ دل ہے جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی ہے۔ ایمان کی مثال تو اس میں ترکاری کے درخت کی مانند ہے کہ اچھا پانی اسے بڑھا دیتا ہے اور اس میں نفاق کی مثال دمثل پھوڑے کے ہے کہ خون پیپ اسے ابھاردیتا ہے }۔ اب ان میں سے جو غالب آ گیا وہ اس دل پر چھا جاتا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:17/3:ضعیف]
مسند کی ایک حدیث میں ہے { دلوں کی چار قسمیں ہیں ایک تو صاف اور روشن، ایک غلاف دار اور بندھا ہوا، ایک الٹا اور اور اوندھا، ایک پھرا ہوا الٹا سیدھا۔ پہلا دل تو مومن کا دل ہے جو نورانی ہوتا ہے۔ اور دوسرا دل کافر کا دل ہے اور تیسرا دل منافق کا دل ہے کہ اس نے جانا پھر انجان ہو گیا۔ پہچان لیا پھر منکر ہو گیا۔ چوتھا دل وہ دل ہے جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی ہے۔ ایمان کی مثال تو اس میں ترکاری کے درخت کی مانند ہے کہ اچھا پانی اسے بڑھا دیتا ہے اور اس میں نفاق کی مثال دمثل پھوڑے کے ہے کہ خون پیپ اسے ابھاردیتا ہے }۔ اب ان میں سے جو غالب آ گیا وہ اس دل پر چھا جاتا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:17/3:ضعیف]